Wednesday , December 12 2018

خود کا محاسبہ ترقی کا ضامن اور مستقبل کا لائحہ عمل طئے کرنے میں معاون

اردو یونیورسٹی میں دوروزہ ورکشاپ کا آغاز۔ جناب ظفر سریش والا ، پروفیسر محمد میاں اور پروفیسر سنتوش پانڈا کا خطاب

اردو یونیورسٹی میں دوروزہ ورکشاپ کا آغاز۔ جناب ظفر سریش والا ، پروفیسر محمد میاں اور پروفیسر سنتوش پانڈا کا خطاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : خود کا محاسبہ ترقی کا ضامن ہے۔ تعلیم کا مقصد ایسے طالب علموں کو پیدا کرنا ہے جو دنیا میں بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں اور اس مسابقتی دور میں اپنے صلاحیتوں کا لوہا منواسکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کریں اور اس کی روشنی میں مستقبل کا لائحہ عمل طئے کریں۔ اس طرح کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔ ان خیالات کا اظہار جناب ظفر سریش والا، چانسلر نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، شعبۂ تعلیم و تربیت اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) نئی دہلی کے اشتراک سے منعقدہ دو روزہ اورینٹیشن ورکشاپ بعنوان ’’تعلیم اساتذہ کے قواعد 2014، اصول و معیارات اور جدید نصابی خاکے‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں بحیثیت مہمانِ خصوصی کیا۔ پروفیسر محمد میاں، وائس چانسلر نے صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ نئے ریگولیشن کے مطابق زیر تربیت اساتذہ کے لیے 4 ماہ کی ٹریننگ درکار ہوگی اور ان خدشات کا اظہار کیا کہ موجودہ وقت میں ہمارے یہاں ایک مہینے کی انٹرنشپ کا طریقہ موجود ہے ۔ اس ٹریننگ کے لیے اسکول بڑی مشکل سے اجازت دیتے ہیں۔ اگر یہ مدت چار ماہ تک بڑھ جائے تو پھر کافی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ٹیچر ایجوکیشن کے اداروں کا خود کا ایک ماڈل اور ڈیمانسٹریشن اسکول ہو۔ اس ورکشاپ کے مہمانِ اعزازی پروفیسر سنتوش پانڈا ، صدر نشین ، این سی ٹی ای نے اپنے خطاب میں ٹیچر ایجوکیشن ریگولیشن 2014 سے شرکا کو روشناس کروایا اور کہا کہ اس نئے ریگولیشن میں 4 چیزوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جس میں انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن ٹکنالوجی، یو گا، جنسی مساوات اور شمولیاتی تعلیم شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے کلیدی خطبہ میں ٹیچر ایجوکیشن پرنسپال اور یونیورسٹیوں کے صدور شعبہ جات سے خواہش ظاہر کی کہ نئے تعلیمی سال سے وہ اپنے ٹیچر ایجوکیشن پروگرام کو نئے ریگولیشن کے مطابق ترتیب دیں۔ ایسا نہ کرنے پر انہوں نے انتباہ دیا کہ ان اداروں کی مسلمہ کو حیثیت منسوخ کردیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر آزاد ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کو تہنیت پیش کی اور بتایا کہ مولانا آزاد کے تعلیمی فلسفہ کی روح آزادیٔ اظہار اور شمولیاتی تعلیم تھے۔ جن کو موجودہ ریگولیشن میں کافی اہمیت حاصل ہے۔ ابتداء میں پروفیسر ایچ خدیجہ بیگم نے مہمانوں کا خیر مقدم اور تعارف پیش کیا ۔ جناب سید امان عبیدکی قرأت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ پروفیسر صدیقی محمد محمودنے کاروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT