Tuesday , November 21 2017
Home / Editorial News / خوشامد کی سیاست

خوشامد کی سیاست

اس بہانہ سے کیا پورا جو مقصد اس نے
عقل کے اندھے اسے صرف خوشامد سمجھے
خوشامد کی سیاست
اپوزیشن کی صفوں میں رہتے ہوئے بی جے پی نے ہمیشہ کانگریس پارٹی پر اقلیتوں کی خوشامد کرنے کا الزام عائد کیا تھا ۔ اس کا ہمیشہ یہ اعتراض رہا کرتا تھا کہ کانگریس پارٹی اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی سیاست کرتی ہے اور اسے ملک کے دوسرے طبقات کے جذبات اور احساسات کا کوئی خیال نہیں ہے ۔ حالانکہ کانگریس ایسے الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی ہے لیکن بی جے پی نے کبھی بھی اس الزام سے دوری اختیار نہیں کی ۔ اب جبکہ بی جے پی خود اقتدار پر آگئی ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ بھی کسی ایک مخصوص برادری کی خوشامد کرنے میں مصر وف ہوگئی ہے ۔ حالانکہ کانگریس کی جانب سے اقلیتوں کی خوشامد کا الزام اپنی جگہ بے بنیاد رہا ہے اور یہ کانگریس ہی رہی ہے جس نے اپنے اقتدار میں مسلسل اقلیتوںاور خاص طور پر مسلمانوں کو نظر انداز کئے رکھا تھا ۔ کانگریس کے دور اقتدار ہی میں سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب گھٹتے ہوئے صفر کے قریب پہونچ گیا تھا اور تجارت کے معاملہ میں ہو یا تحفظات کا مسئلہ ہو یا پھر سرکاری اسکیمات سے استفادہ کا معاملہ ہو ہر ایک میں اقلیتیں انتہائی پچھڑی ہوئی حالت میں ہیں ۔اس کا ثبوت سچر کمیٹی کی سفارشات سے ملتا ہے جو خود کانگریس نے تشکیل دی تھی ۔ تاہم اب عملا ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے جین برادری کی خوشامد کا سلسلہ شروع کردیا ہے کیونکہ جین برادری معاشی میدان میں اہمیت کی حامل ہے اور بڑے بڑے کاروبار جین برادری کے ہاتھ میں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اسی برادری کی بی جے پی کیلئے بے تحاشہ فنڈنگ نے انتخابات میں اپنا اثر دکھایا تھا جس کے بل بوتے پر بی جے پی نے اشتہار بازی اور تشہیری ہوا کھڑا کرتے ہوئے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی ۔ اب شائد اسی کا صلہ جین برادری کو دیا جا رہا ہے اور ان کے تہواروں کے موقع پر گوشت کی فروخت پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ یہ امتناع پہلے تو ممبئی میں عائد کیا گیا اور یہاں احتجاج شروع ہوگیا ۔ اس احتجاج کی پرواہ کئے بغیر راجستھان میں اور احمد آباد شہر میں بھی جین برادری کے تہواروں کے موقع پر گوشت کی فروخت پر امتناع عائد کرنے کے احکام جاری کردئے گئے ۔ بی جے پی کا یہ عمل یقینی طور پر جین برادری کی خوشامد ہے جسکی پہلے سے کوئی مثال موجود نہیں ہے ۔
جین برادری اگر کچھ مخصوص ایام میں اپنے تہوار مناتی ہے تو اس کی وجہ سے دوسروں کو گوشت خوری سے روکنا درست نہیں ہوسکتا ۔ خود بی جے پی کی حلیف جماعتیں اس کی مخالفت میں اتر آئی ہیں اور وہ احتجاج بھی کر رہی ہیں۔ ہندوستان میں اتنی ذات برادریاں اور اتنے فرقے ہیں کہ سال بھر میں کسی نہ کسی برادری کی عید یا تہوار کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ کیا بی جے پی کی حکومتیں ہر برادری کی عید کے موقع پر ایسی پابندی عائد کرتی رہیں گی ؟ ۔ اگر دوسروں کی عیدوں پر ایسا کچھ نہیں کیا جاتا تو محض جین برادری کو خوش کرنے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان ہیں جن کی آبادی سرکاری اعتبار سے 15 کروڑ قرار دی جا رہی ہے ۔ ملک کے مسلمان ماہ رمضان المبارک میں مسلسل روزے رکھتے ہیں ۔ دن بھر کھانے پینے سے اجتناب کیا جاتا ہے ۔ کیا مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا احساس کرتے ہوئے ملک بھر میں دن میں ہوٹلوں کو بند کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا ۔ ہندو برادری بھی مختلف موقعوں پر مختلف تہوار مناتی ہے ۔ کیا ہندووں کی رسم و رواج سکھوں پر اور سکھوں کی روایات عیسائیوں پر اور عیسائیوں کا طریقہ کار بدھسٹوں پر لاگو کیا جاسکتا ہے ؟ ۔ اگر ایسا نہیں کیا جاسکتا تو پھر محض جین برادری کو خوش کرنا اور ان کے مذہبی جذبات کے احترام کی دہائی دینا کیا معنی رکھتا ہے ؟ ۔ ہندوستان نے دنیا کے سامنے کثرت میں وحدت کا نمونہ ہے اور اس کی یہی حیثیت اسے ساری دنیا میں انفرادیت فراہم کرتی ہے لیکن جس طرح سے اب مخصوص برادریوں کو خوش کیا جارہا ہے وہ ملک کی انفرادیت کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔
امتناع عائد کرنے والی حکومتوں کا استدلال ہے کہ جین برادری قتل و خون کو پسند نہیںکرتی اور ان کے تہواروں پر ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ملک میں کونسی برادری یا فرقہ ایسا ہے جو قتل و خون کو پسند کرتا ہے ۔ اگر قتل و خون کی بات ہے تو پھر مچھلی ‘ انڈے پر امتناع کا کیا جواز ہوسکتا ہے ؟ ۔ یہ سب کچھ بلا جواز اور محض کاروباری مفادات پر مبنی اور خوشامدانہ روش کا نتیجہ ہے ۔ ممبئی ہو کہ راجستھان ہو یا پھر احمد آباد ہو جین برادری کاروبار میں ایک بلند مقام رکھتی ہے ۔ کروڑہا روپئے کے پراجیکٹس اس برادری کی جانب سے چلائے جا رہے ہیں۔ یہ الزامات بھی ہیں کہ جین برادری نے انتخابات میں بی جے پی کو کروڑ ہا روپئے کی دولت فراہم کی تھی اور اسی کے صلہ میں بی جے پی حکومتیں جین برادری کی خوشامد پر اتر آئی ہیں۔ حکومتوں کا یہ رویہ قابل مذمت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT