Thursday , December 13 2018

خون کی کمی کے خطرناک مرض کے شکار ماسٹر کامران کے لیے 5,25000 روپئے جمع

سیاست کی رپورٹ پر ملت کا حوصلہ افزاء ردعمل ، بیٹے کی صحت یابی کے لیے والدین کی قارئین سیاست کے جذبہ اخوت سے متاثر

سیاست کی رپورٹ پر ملت کا حوصلہ افزاء ردعمل ، بیٹے کی صحت یابی کے لیے والدین کی قارئین سیاست کے جذبہ اخوت سے متاثر

حیدرآباد ۔ 7 ۔ مارچ : ( ابوایمل ) : بیٹے آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہو ؟ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے اس سوال پر ان کی گود میں بیٹھے خون کی کمی کے خطرناک مرض میں مبتلا 5 سالہ ماسٹر محمد صدیق احمد کامران نے جو جواب دیا اسے سن کر وہاں موجود ہرکوئی حیران رہ گیا ۔ اس معصوم نے کہا ’ بڑے ہوکر لڑوں گا ‘ لڑائی کی بات سنتے ہی پھر اس سے سوال کیا گیا آخر کس سے لڑو گے ؟ تب اس نے بڑے پر اعتماد انداز میں کہا ’ میں طوفان سے لڑوں گا ‘ ۔ اگرچہ موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا اس چھوٹے سے لڑکے جواب عجیب و غریب ہے لیکن اس کے کئی معنی و مطالب نکلتے ہیں ۔ شائد اسے خون کی کمی کی خطرناک بیماری Aplastic anaemia اس کی زندگی کے لیے ایک طوفان نظر آیا ہو ویسے بھی کسی انسان میں عزم و حوصلہ ہو اور لوگ اس کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں تو وہ نہ صرف طوفان سے ٹکراتا ہے بلکہ تیز و تند آندھیوں اور سیلابوں کا رخ بدل دیتا ہے ۔ قارئین ۔ ماسٹر ریحان Aplastic anaemia کی بیماری میں مبتلا ہے ۔ یہ ایسا عارضہ ہے جس میں Bonemarrow ( ہڈی کا گودا ) خون کے اسٹیم سیل ، سفید و سرخ خلیے اور پلیٹ لیٹس کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ ٹولی چوکی کے رہنے والے الکٹریشن محمد اکبر علی خاں اور عطیہ صدیقہ کے فرزند محمد صدیق احمد کامران سے متعلق سیاست مورخہ 21 فروری کی اشاعت میں رپورٹس شائع ہوئی ۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ اس معصوم لڑکے کی زندگی بچانے کے لیے آپریشن ضروری ہے اور اس پر 10 لاکھ روپئے کے مصارف آرہے ہیں اس سلسلہ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ وہ کیر ہاسپٹل کے ڈاکٹر شلیش آر سنگھ کے زیر علاج ہے اس ایک ہی رپورٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے حیدرآباد ملک اور بیرون ملک مقیم قارئین سیاست کو دلوں میں اس کے لیے تڑپ پیدا کی اور چند دنوں میں ہی حیدرآباد کے بشمول دنیا کے مختلف حصوں سے انسانیت نواز مرد و خواتین نے 3,25000 روپئے روانہ کئے اور اس رقم کو ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے آج دفتر سیاست میں اکبر علی خاں اور ان کی اہلیہ کے حوالے کیا ۔ واضح رہے کہ ہیلپنگ ہینڈ فاونڈیشن نے بھی ابتدائی مدد کے طور پر ماسٹر ریحان کے والدین کو دو لاکھ روپئے کا چیک پیش کیا ہے ۔

اس طرح اپنے نور نظر کی زندگی بچانے کے لیے تڑپ رہے ان ماں باپ کو جملہ 525000 روپئے کی رقم حاصل ہوئی ہے ۔ رقم کی حوالگی کے موقع پر اپنی بیماری سے بے خبر ماسٹر ریحان بہت ہی پیاری پیاری باتیں کررہا تھا ۔ اسے اس بات کا قطعی اندازہ نہیں تھاکہ دفتر سیاست میں اس کی زندگی بچانے کے لیے کئے جانے والے علاج و معالجہ کے بارے میں غور کیا جارہا ہے اور اس بات کی فکر کی جارہی ہے کہ مابقی رقم کا انتظام کیسے ہو ۔ اس موقع پر ماسٹر ریحان کو کھیلتا دیکھ کر ہمیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ جس طرح بارگاہ رب العزت میں اس کی تڑپتی بلکتی ماں کی دعاؤں کو قبول کیا گیا ۔ فکر مند باپ کی عاجزی و انکساری کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے ان کی مدد کرنے والوں کو کھڑا کیا اس طرح رب ذوالجلال اپنے مزید بندوں کو اس خاندان کی مدد کی ہدایت ضرور دیں گے ۔ ماسٹر ریحان کی ماں نے زار و قطار روتے ہوئے بتایا کہ وہ اس غربت میں اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اس کا علاج کروانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھیں لیکن روزنامہ سیاست میں رپورٹ کی اشاعت پر جس طرح لوگ ان کی مدد کو امڈ آئے وہ اسے اپنے لیے خدا کی طرف سے آئی غیبی مدد سمجھتی ہیں ۔ ماں نے یہ بھی بتایا کہ سیاست میں رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی نہ صرف شہر بلکہ ملک اور بیرون ملک سے سینکڑوں لوگوں نے ان سے فون پر ربط پیدا کیا اور مالی مدد کی ۔ مالی مدد کرنے والے مرد و خواتین میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے 500 تا 2500 ہزار روپئے بطور امداد پیش کئے ۔

عطیہ صدیقہ نے ایڈیٹر سیاست کو بتایا کہ قارئین سیاست کی ہمدردی ان کے جذبہ اخوت کو وہ زندگی بھر فراموش نہیں کرسکتیں اور مدد کرنے والے مرد و خواتین اور ان کے بچوں کے لیے وہ دعائیں کرتی رہیں گی ۔ انہیں بیرون ملک سے ایسے فون کالس بھی وصول ہوئے جس میں مختلف مرد و خواتین نے بتایا کہ وہ لوگ ان کے بیمار بیٹے ماسٹر کامران کے نام سے عمرہ ادا کررہے ہیں ۔ حرمین شریفین میں اس کی صحت یابی کے لیے دعائیں کی جارہی ہیں اور انشاء اللہ ماسٹر کامران کو اللہ تعالی صحت و عافیت سے نوازے گا ۔ عطیہ صدیقہ نے مزید بتایا کہ قارئین سیاست نے جس طرح ان کی مدد کی اس پر وہ یہ سوچنے لگی ہیں کہ اخوت ایمانی خونی رشتے سے بھی بہت مضبوط ہوتی ہے اور ہم سب مسلمان اس کی ڈور میں بندھے ہوئے ہیں ۔ عطیہ صدیقہ نے بے شک درست کہا ہے کہ ہم ایک ایسا جسم ہے جس کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو درد سارا جسم محسوس کرتا ہے ۔ خوشی کی بات تو یہ ہے کہ سیاست کے قومی و ملی اور فلاحی کاموں کو نہ صرف شہرحیدرآباد فرخندہ بنیاد بلکہ سارے ملک اور دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ تب ہی تو صرف ایک رپورٹ پر ماسٹر کامران کے علاج کے لیے 5,25000 روپئے کاانتظام ہوا اور انشاء اللہ مابقی رقم کا بھی ہمدردانِ ملت ضرور انتظام کریں گے ۔۔

سیاست کے لیے اعزاز
ہندوستان میں سیاست کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ اس میں شائع ہر رپورٹ پر ہمدردانِ ملت کا غیر معمولی حوصلہ افزاء ردعمل حاصل ہوتاہے ۔ بقول ممتاز صحافی ظفر آغا سیاست ملک کا وہ واحد اخبار ہے جس میں شائع رپورٹس پر ضرورت مندوں ، بیماروں ، فرقہ پرستوں کے ظلم کا شکار مسلمانوں اور پولیس کے فرضی انکاونٹرس میں شہید ہوئے نوجوانوں کے لیے سب سے زیادہ امداد وصول ہوتی ہے ۔ اس معاملہ میں ملک سے شائع ہونے والے دوسری زبانوں کے اخبارات بھی سیاست کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔۔

TOPPOPULARRECENT