Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / داؤد ابراہیم کے بارے میں مرکز کے متضاد بیانات

داؤد ابراہیم کے بارے میں مرکز کے متضاد بیانات

نئی دہلی ۔ 5 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے مسئلہ پر آج مرکزی حکومت کو پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونا پڑا اور متعدد مرتبہ وہ اپنا موقف بدلتی رہی۔ پارلیمنٹ میں داؤد ابراہیم کے ٹھکانہ کے بارے میں حکومت نے متضاد بیانات دیئے ہیں۔ حکومت نے اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے پہلے پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ انڈر ڈان داؤد ا

نئی دہلی ۔ 5 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے مسئلہ پر آج مرکزی حکومت کو پریشان کن صورتحال سے دوچار ہونا پڑا اور متعدد مرتبہ وہ اپنا موقف بدلتی رہی۔ پارلیمنٹ میں داؤد ابراہیم کے ٹھکانہ کے بارے میں حکومت نے متضاد بیانات دیئے ہیں۔ حکومت نے اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے پہلے پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ انڈر ڈان داؤد ابراہیم کے ٹھکانہ کا اسے علم نہیں ہے۔ حالانکہ حکومت طویل عرصہ سے پاکستان سے داؤد ابراہیم کی حوالگی کا مطالبہ کرتی آرہی ہے ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نتیانند رائے کے سوال کے جواب میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ ایچ پی چودھری نے کہا کہ داؤد ابراہیم کے ٹھکانہ کا تاحال کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ ایک بار اس کا ٹھکانہ معلوم ہوجائے تو حوالگی کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے ۔ تحریری جواب میں داؤد ابراہیم کو 1993ء ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کا ملزم بتایا گیا اور اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ اس کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس برقرار ہے اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے بھی داؤد ابراہیم کے خلاف خصوصی نوٹس جاری کی ہے۔ یہ اطلاع جب میڈیا کے ذریعہ تیزی سے پھیلنے لگی تب حکومت نے ایک وضاحتی بیان تیار کیا ہے جسے کل لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چودھری نے مرکزی معتمد داخلہ ایل سی گوئل کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور کل پارلیمنٹ میں دیئے جانے والے بیان کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ عہدیداروں نے آج کے جواب کیلئے دفتری خامی کو وجہ قرار دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزارت داخلہ نے وزارت امور خارجہ سے مشاورت کے بعد یہ جواب تیار کیا تھا ۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حکومت طویل عرصہ سے اپنا یہ موقف دہراتی رہی ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود ہے

اور اسے پاکستانی سیکوریٹی اداروں کی سرپرستی حاصل ہے ۔ ہندوستان نے داؤد ابراہیم کے بارے میں تفصیلات اور پاکستان میں اس کی رہائش کے مقام کے تعلق سے متعدد مرتبہ حکومت پاکستان کو دستاویزات پیش کئے تھے ۔ 27 ڈسمبر 2014 ء کو مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے لکھنو میں کہا تھا کہ داؤد ابراہیم ہندوستان کو مطلوب ترین دہشت گرد ہے اور ہم نے کئی مرتبہ پاکستان سے اسے حوالے کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ اسی دن منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ کرن رجیجو نے نئی دہلی میں کہا تھا کہ ہندوستان نے پاکستان سے داؤد ابراہیم کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے اور کافی ثبوت بھی پیش کئے ہیں۔ نومبر میں وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اس وقت داؤد ابراہیم افغان۔ پاک سرحد پر موجود ہے۔ حکومت کے پارلیمنٹ میں آج متضاد بیانات کے بعد کرن رجیجو نے کہا کہ انڈر ورلڈ ڈان پاکستان میں رہتا ہے اور مرکز اس معاملہ کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مستقل موقف یہی ہے کہ داؤد ابراہیم پاکستان میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ حکومت ہند نے پاکستان کو داؤد ابراہیم کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہے لیکن پاکستانی ایجنسیاں حکومت ہند سے تعاون نہیں کر رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT