Tuesday , November 20 2018
Home / Top Stories / داؤد کے ساتھی نے مجھے ہلاک کردینے کی دھمکی دی

داؤد کے ساتھی نے مجھے ہلاک کردینے کی دھمکی دی

یوپی شیعہ وقف بورڈ سربراہ وسیم رضوی کا دعوی ۔ پولیس میں ایف آئی آر درج
لکھنو 14 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر نشین وسیم رضی نے آج کہا کہ انہیں ایک شخص نے مافیا ڈان داؤد ابراہیم کا ساتھی قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ انہیں اور ان کے افراد خاندان کو اڑا دیا جائیگا ۔ اس شکایت کے بعد لکھنو پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔ رضوی نے جو ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے حامی ہیں میڈیا سے کہا کہ انہیں کل رات ایک فون کال موصول ہوئی ۔ فون کرنے والے نے داؤد ابراہیم کا نام لیا ہے اور انتباہ دیا ہے کہ مدرسوں کی تعلیم اور دوسرے مسائل پر انہیں اور ان کے افراد خاندان کو دھماکہ سے اڑا دیا جائیگا ۔ رضوی نے کہا کہ فون کرنے والے نے اپنی شناخت نہیں بتائی تاہم ان سے کہا ہے کہ وہ مولانا برادری سے معذرت خواہی کریں۔ اس شخص نے دعوی کیا کہ داؤد ابراہیم ان سے ناراض ہے ۔ وسیم رضوی نے کہا کہ انہیں نے پولیس کو اس بات سے مطلع کردیا ہے اور فون کرنے والے کا فون نمبر بھی دیدیا ہے ۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ وسیم رضوی کی شکایت کے بعد سعادت گنج پولیس اسٹیشن میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور معاملہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ رضوی نے گذشتہ ہفتے وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا جس میں کہا تھا کہ تمام مدرسوں کو بند کردیا جانا چاہئے کیونکہ یہاں دہشت گردوں کی افزائش ہو رہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان اسلامی مدارس میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس سے طلبا کی دہشت گردی میں شمولیت کیلئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان مدارس کو سی بی ایس ای نصاب سے مربوط اسکولس میں تبدیل کیا جانا چاہئے جہاں طلبا کو اسلامی تعلیم صرف اختیاری مضمون کے طور پر پڑھایا جانا چاہئے ۔ وسیم رضوی کا ادعا تھا کہ تقریبا ہر شہر ‘ ہر ٹاؤن اور ہر گاوں میں کام کرنے والے مدارس میں گمراہ کن مذہبی تعلیم دی جا رہی ہے اور ان مدرسوں کو چلانے کیلئے پاکستان اور بنگلہ دیش سے فنڈز آ رہے ہیں اور یہاں تک کہ کچھ دہشت گرد تنظیمیں بھی ان کی مدد کر رہی ہیں۔ ان کے اس بین پر تاہم کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے شدید اعتراض کیا تھا ۔ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا تھا کہ مدرسوں نے جدوجہد آزادی میں اہم رول ادا کیا تھا اور ان پر سوال کرتے ہوئے وسیم رضوی ان کی ہتک کر رہے ہیں۔

 

دینی مدارس میں آئی اے ایس آفیسرس تیار ہوتے ہیں
دہشت گرد بن کر نکلنے کا الزام مسترد ، قومی اقلیتی کمیشن سربراہ کا بیان
نئی دہلی ۔ /14 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے چیرمین نے آج شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ وسیم رضوی کے اس متنازعہ ریمارکس کو مسترد کردیا کہ دینی مدارس دہشت گردوں کا اڈہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دینی مدارس آئی اے ایس آفیسرس پیدا کرتے ہیں دہشت گرد نہیں ۔ چیرمین قومی اقلیتی کمیشن سید غیور الحسن رضوی نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ریمارک صرف حکومت سے چاپلوسی اور طرفداری حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مدرسوں کو دہشت گردی سے مربوط کرتے ہوئے انہوں نے مضحکہ خیز بیان دیا ہے ۔ ایک یا دو واقعات کو استعمال کرتے ہوئے سارے مدارس کو بدنام نہیں کیا جاسکتا ۔ ان دنوں مدرسوں میں زیرتعلیم طلبہ بھی آئی اے ایس آفیسرس بن کر نکل رہے ہیں اور ملک کا نام روشن کررہے ہیں ۔ مدرسوں میں دہشت گرد پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ مدارس آئی اے ایس آفیسرس فراہم کرتے ہیں ۔ یو پی میں وسیم الرحمن نے دیوبند سے 2008 ء میں یو پی ایس سی امتحان کامیاب کیا تھا ان کا رینک 404 تھا ۔ مولانا حماد ظفر نے مدھیہ پردیش کے مقام ماوا میں مدرسہ العربیہ سے 2013 ء میں امتحان کامیاب کیا تھا ۔ شیعہ وقف بورڈ کے چیرمین نے وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ یوگی کے نام /9 جنوری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دینی مدارس میں دہشت گردوں کی پرورش ہورہی ہے اور انہوں نے ان دینی مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جمعیۃ العلمائے ہند نے وسیم رضوی کے خلاف ایک قانونی نوٹس جاری کی ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT