Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / دائرۃ المعارف کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت

دائرۃ المعارف کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت

ڈائرکٹر ادارہ کا غیرمنصفانہ رویہ، علماء کرام کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 14 جنوری (سیاست نیوز) ریاست کا دائرۃ المعارف جو شہر کا ہی نہیں بلکہ ملک اور بیرونی ممالک میں اپنی ایک عظیم شناخت تحقیقی ادارہ کی حیثیت سے رکھتے ہوئے جانا و پہچانا جاتا ہے، جس نے طب، سائنس و ٹیکنالوجی، اسٹرانوی، تہذیبی، تمدنی اور اسلامی فنون کے میدانوں میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، جس سے حیدرآباد کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر طالب علم نے فیض حاصل کیا ہے لیکن ادارہ نے اپنے اس طویل سفر کو نامساعد حالات کے باوجود بھی جاری رکھا اور چند برسوں سے ادارے کی بقاء و تحفظ پر سوالیہ نشان بنائے جارہے ہیں جس کیلئے مسلمانوں کی ذمہ داری ہیکہ وہ آگے آئیں اور ادارے میں جو بے قاعدگیاں و بے ضابطگیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ ان کی آزادانہ و منصفانہ تحقیق کرتے ہوئے جو شعبہ جات تقریباً مخلوعہ ہوچکے ہیں ان کو پُر کرنے کی پرزور سفارش کی گئی۔ آج مدینہ ایجوکیشن سنٹر (نامپلی) میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا قبول پاشاہ شطاری معتمد مجلس علمائے دکن و رکن مسلم پرسنل لا بورڈ مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی ناظم مدرسہ رحمانیہ تالاب کٹہ صدر جمعیتہ العلماء تلنگانہ و آندھرا و سعادت فاونڈیشن مجلس علمائے دکن جمعیتہ العلماء، ابنا ئے ندوہ لجنتہ العلماء، مدارس بورڈ، صفا بیت المال اور دیگر اداروں کے ذمہ داروں نے یہ بات کہی۔ انہوں نے چیف منسٹر سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس ادارہ کے تمام امورکا جائزہ لیں۔ موجودہ ڈائرکٹر دائرۃ المعارف کا رویہ بالکلیہ طور پر غیرمنصفانہ ہے اور حکومت ان مخلوعہ  جائیدادوں کو پُر کرکے ہی ماضی کی طرح اس ادارہ کے تمام معاملات کی یکسوئی کرسکتی ہے۔ وزیراعلیٰ تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ جو صدر دائرۃ المعارف بھی ہیں، اس کے تمام مسائل سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے جنگی خطوط پر اس ادارے کے تمام مراحل کو انجام دینے میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی و ریاستی حکومت نے ادارے کی نشاۃ ثانیہ اور اس کی ترقی کیلئے جو مختص کیا ہے اس کو فوری ا ستعمال میں لایا جائے اور اس شعبہ کے تحت جو جائیدادیں تصحیح و تحقیقی اور دیگر مخلوعہ ہیں اور انہیں گذشتہ 15 سال سے کنٹراکٹ بنیاد پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی اس خدمات کو فوری مستقل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا عبیداللہ مفتاحی، مولانا الیاس ہاشمی ندوی، مولانا فصیح الدین نظامی صدر رابطہ ابنائے ندوہ اور دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT