Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / دائرۃ المعارف کو مرکز سے منظورہ پراجکٹ پر عمل آوری میں حکومت تلنگانہ کی عدم دلچسپی

دائرۃ المعارف کو مرکز سے منظورہ پراجکٹ پر عمل آوری میں حکومت تلنگانہ کی عدم دلچسپی

پراجکٹ پر مرکز سے بجٹ کی بھی اجرائی ، کمیٹیوں کی تشکیل میں محکمہ اقلیتی بہبود کی پہلوتہی ، پراجکٹس کو خطرہ
حیدرآباد ۔ 28۔ اکتوبر (سیاست نیوز) مرکزی وزارت اقلیتی بہبود نے دائرۃ المعارف کے لئے 37.7 کروڑ کا جو پراجکٹ منظور کیا ہے، اس پر عمل آوری کے بارے میں تلنگانہ حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث پراجکٹ کی تکمیل کے بارے میں اندیشوں کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ مرکزی وزارت اقلیتی امور نے پراجکٹ کی تکمیل کے سلسلہ میں سست رفتاری پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ہماری ’’دھروہر‘‘ اسکیم کے تحت ملک کی کسی بھی ریاست میں اس قدر بڑے پراجکٹ کو منظوری نہیں دی گئی لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے اسکیم کی پہلی قسط کی اجرائی کے باوجود آج تک پراجکٹ پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا۔ بتایا جاتاہے کہ سکریٹری وزارت اقلیتی امور حکومت ہند ڈاکٹر اروند مایا رام نے پراجکٹ کے آغاز میں محکمہ اقلیتی بہبود کے مبینہ تساہل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بارہا متعلقہ حکام کو پراجکٹ کے آغاز کے سلسلہ میں توجہ دلائی ۔ مرکزی حکومت نے پراجکٹ کی پہلی قسط کی 40 فیصد رقم 2 کروڑ 77 لاکھ 29 ہزار 920 روپئے جاری کردیئے ہیں جبکہ پہلی قسط کی رقم 6 کروڑ 93 لاکھ 24 ہزار 800 روپئے ہوتی ہے۔

یہ رقم آئندہ سال مارچ تک خرچ کی جانی چاہئے لیکن پراجکٹ کی منظوری کے تین ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی پیشرفت دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ مرکزی حکومت نے اس پراجکٹ پر عمل آوری کیلئے دو کمیٹیوں کے قیام کی سفارش کی تھی جن میں ایک کمیٹی ماہرین پر مشتمل ہو جبکہ دوسری نگرانکار کمیٹی ہو لیکن حیرت کی بات ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے آج تک کمیٹیوں کو قطعیت نہیں دی۔ابتداء میں تقریباً 8 کمیٹیوں کے قیام کی کوشش کی گئی جس کی مرکزی حکومت نے مخالفت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ دائرۃ المعارف میں مستقل ڈائرکٹر کی عدم موجودگی کے باعث پراجکٹ کے آغاز میں مسائل کا سامنا ہے۔ گزشتہ تقریباً 25 برسوں سے دائرۃ المعارف کے لئے مستقل ڈائرکٹر کا تقرر نہیں کیا گیا بلکہ عثمانیہ یونیورسٹی کے کسی پروفیسر کو اس عہدہ کی زائد ذمہ داری دی گئی۔  موجودہ ڈائرکٹر بھی دائرۃ المعارف میں اعزازی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ دائرۃ المعارف چونکہ عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت ہے

اور وہاں کئی گروہ بندیاں موجود ہیں لہذا دائرۃ المعارف کی ترقی پر کبھی بھی توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔ اب جبکہ پہلی مرتبہ مرکزی حکومت نے 37 کروڑ روپئے پر مبنی پراجکٹ کو منظوری دی ہے۔ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری ہے کہ وہ پراجکٹ کے جلد آغاز کے اقدامات کرے۔ دائرۃ المعارف کے ملازمین کا احساس ہے کہ پراجکٹ کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل پر بھی توجہ دی جانی چاہئے ۔ اس پراجکٹ کے تحت دائرۃ المعارف میں موجود نادر مخطوطات کا انگریزی میں ترجمہ ، آفسیٹ پر قدیم کتابوں کی دوبارہ اشاعت اور قدیم مخطوطات کے ڈیجیٹلائیزیشن کا کام شامل ہے ۔ پراجکٹ کی 10 فیصد رقم تلنگانہ حکومت کو ادا کرنا ہے لیکن ابھی تک تلنگانہ حکومت نے پہلی قسط بھی جاری نہیں کی۔ عربی سے انگریزی میں ترجمہ کیلئے ملک بھر سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز ہے جبکہ نئی آفسیٹ مشن کی خریداری کیلئے تلنگانہ حکومت کے بجٹ کا انتظار ہے ۔ اگر اسی طرح کی رفتار رہی تو اس پراجکٹ کی تکمیل پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT