Sunday , August 19 2018
Home / اداریہ / دائیں اور بائیں بازو کا ٹکراؤ

دائیں اور بائیں بازو کا ٹکراؤ

اس دورِ انحطاط کا یہ بھی کمال ہے
ہیں داغدار لوگ حکمراں بنے ہوئے
دائیں اور بائیں بازو کا ٹکراؤ
ملک کے معاشی نظام کو درہم برہم اور قوم کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہونچانے والی سیاسی قوت کا ساتھ دینے والے عوام کی تعداد میں اضافہ ہوتا جائے تو یوں سمجھ لیجئے کہ عوام خوداپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں کے اسمبلی نتائج سے اگرچیکہ ہندوستان بھر کی سیاست پر کوئی منفی اثرات مرتب نہ ہوں لیکن یہ نتائج سنگین حالات کے درپیش ہونے کی منادی کررہے ہیں ۔ سنگھ پریوار کے بڑھتے قدموں نے آج پورے ملک کی سیکولر سوچ کو یرغمال بنانے کا کام کیا ہے تو یہ بدبختانہ تبدیلی ہے ۔ تریپورہ میں 25 سال سے حکمرانی کرنے والی سی پی آئی ایم کے بائیں بازو نظریات کے قلعہ کو مسمار کردینا لمحہ فکر ہے ۔ سنگھ پریوار نے اپنے انتخابی میدان کو وسیع تر کرنے کے لیے جس طرح کی محنت شروع کی ہے اس کے سامنے سیکولر پارٹیوں کی کوششیں صفر ثابت ہورہی ہیں ۔ تریپورہ میں بی جے پی کو کامیاب کرنے کے لیے آر ایس ایس طویل عرصہ تک اپنی جڑوں کو مضبوط کرتی رہی ۔ میگھالیہ میں آر ایس ایس نظریہ وہ کام نہیں کرسکا جو ناگا لینڈ اور تریپورہ میں کر گیا ۔ شمال مشرق کی ان 3 ریاستوں میں بی جے پی کی جڑیں مضبوط ہونے سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ سنگھ پریوار کا سیاسی ہوم ورک سیکولر بنیادوں کو کمزور کررہا ہے ۔ بائیں بازو پارٹیوں کی حکمرانی والی ریاستوں کی تعداد میں کمی کے بعد پارلیمنٹ میں ہندوستانی سیاسی درجہ کو پاکیزگی عطا کرنے کا تسلسل بھی گھٹتا جارہا ہے ۔ پارلیمنٹرنیس کے طور پر کمیونسٹوں کا انتخاب بتدریج زوال کا شکار ہوتا ہے تو یوں سمجھ لیجئے کہ ہندوستانی سیاست کو سمجھنے والوں کی تعداد صفر ہو کر رہ جائے گی ۔ مغربی بنگال میں جب ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی نے 2011 میں بائیں بازو محاذ سے حکومت چھین لی تو یہ توقع کی جارہی تھی کہ کمیونسٹ قائدین اپنی سوچ اور فکر کے دائرہ کو وسعت دیں گے ۔ زمانے کے ساتھ چلنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کا سنجیدہ مظاہرہ کریں گے ۔ یہ لوگ اپنے ماضی کے خول سے باہر نکل کر موجودہ تبدیل شدہ سیاسی ماحول میں نئی حکمت عملی نئی پالیسیاں اور نئے منصوبے وضع کریں گے لیکن ان کی سوچ وہیں ماضی کے دروازے کے پیچھے ہی اٹکی رہی ہے ۔ انہوں نے اپنی متواتر ناکامیوں کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے نظریات کا متبادل تیار کرنے کی جانب غور کرنے کی کوشش نہیں کی نتیجہ میں آج بائیں بازو کا اقتدار صرف ایک ریاست کیرالا تک ہی سمٹ کر رہ گیا ہے ، جہاں بی جے پی اس ریاست کی حکمرانی کو بھی بیدخل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ تریپورہ میں بائیں بازو کی شکست افسوسناک ہے کیوں کہ یہاں پہلی مرتبہ دائیں اور بائیں بازو کی ہندوستانی سیاست میں راست مقابلہ دیکھا گیا اور دائیں بازو نے اپنی کوششوں کے ذریعہ بائیں بازو کے قلعہ پر زعفرانی پرچم لہرانے میں کامیابی حاصل کی ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں ۔ ماضی کی ناکامیوں سے سبق حاصل نہ کرتے ہوئے مد مقابل سیاسی طاقت کا مقابلہ کرنے میں کوتاہیوں سے کام لیا گیا ۔ اب مغربی بنگال میں دوبارہ اقتدار نا ممکن ہوچکا ہے تو ملک کی دیگر ریاستوں جیسے بہار ، اترپردیش ، راجستھان وغیرہ میں بھی بائیں بازو کے اثر والے حلقوں میں بھی یہ کمزور پڑ چکا ہے ۔ ہر سیاسی پارٹی میں داخلی اختلافات ہوتے ہیں اگر انہیں سمجھداری سے سیاسی دور اندیشی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو اسے سیاسی ہزیمت کا شکار ہونا پڑتا ہے جیسا کہ آج بائیں بازو کو ہونا پڑا ہے ۔ بائیں بازوکی داخلی سیاست نے ہی اس گروپ کو کمزور بنادیا ہے ۔ سیکولر پارٹیوں سے اتحاد نہ کرنے کے فیصلوں نے سنگھ پریوار کے حوصلوں کو بلند کردیا ۔ اگر بائیں بازو پارٹیاں سنگھ پریوار کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکولر پارٹیوں سے اتحاد کرتیں تو شائد آج ملک کو درپیش سنگین چیلنجس جیسی نازک صورتحال پیدا نہیں ہوتی ۔ کانگریس جس نے آزادی کے بعد کئی دہوں تک حکمرانی کی ہے اب کمزور پڑرہی ہے ۔ یہ پارٹیاں اپنی سیاسی خامیوں کی جانب غور کرنے سے قاصر ہوں تو پھر ایک منظم طریقہ سے اپنے کیڈرس کو سرگرم کرنے والا سنگھ پریوار ہی پارلیمنٹ کے اندر واحد طاقت بن کر قابض ہوجائے گا اور یہ سیکولر ہندوستان کے لیے صدمہ خیز ہوجائے گا ۔ اس وقت بائیں بازو کا موقف کمزور ہوچکا ہے ۔ وہ اکیلے سنگھ پریوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔ لہذا تمام ہم خیال پارٹیوں کو ساتھ لے کر سنگھ پریوار کی سیاسی حکمت عملی کو ناکام بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں اس لیے مضبوط ہورہی ہیں کیوں کہ ان کا جھوٹ پر مبنی نفرت انگیز پروپگنڈہ کامیاب ہورہا ہے ۔ بی جے پی پر یہ الزام لگانا غیر ضروری ہے کہ اس نے دولت اور طاقت کا غلط استعمال کیا ہے ۔ یہ وقت الزامات لگانے کا نہیں بلکہ اپنا محاسبہ کرنے کا ہے کہ آیا 2019 کے عام انتخابات سے قبل سیکولر پارٹیوں کو کیا حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی ۔ عام انتخابات سے قبل انہیں اپنی محدود سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ تریپورہ کے نتائج نے یہ اشارہ دیدیا ہے کہ سیکولر ، جمہوری اور بایاں بازو ایک پلیٹ فارم پر آجائیں اور سنگھ پریوار کی پوری طاقت کے ساتھ سیاسی مزاحمت کریں ۔ بائیں بازو پارٹیوں کے اندر اس وقت جن باتوں پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے انہیں دور کرنا ضروری ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT