Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / ’’دادا کے ’جنت نشان‘ شمالی کوریا کو پوتے نے ’جہنم‘ بنادیا‘‘

’’دادا کے ’جنت نشان‘ شمالی کوریا کو پوتے نے ’جہنم‘ بنادیا‘‘

3نسلوں سے ملک میں خوفزدہ کرنے والی حکمرانی
حکومت کے مخالفین کو اذیتیں دی جاتی ہیں
عصمت ریزی کی جاتی ہے
قحط سالی سے نمٹنے کا فنڈ بالسٹک میزائلس میں خرچ
جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے امریکی صدر ٹرمپ کا
خطاب اور شمالی کوریا کو بہتر مستقبل کی پیشکش

سیئول ۔ 8 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج شمالی کوریا کے قائد کم جونگ اُن کو ’’ایک بہتر مستقبل کی جانب لے جانے والے راستے پر گامزن‘‘ ہونے کی پیشکش کی کیونکہ شمالی کوریا کی جانب سے پے در پے بالسٹک میزائلس کی ٹسٹنگ نے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تلخیاں پیدا کردی ہیں۔ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کو انتباہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ نیوکلیئر ہتھیار سازی سے اگر شمالی کوریا یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ خود بھی محفوظ ہے تو یہ اس کی نادانی ہے اور وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کو انہوں نے راست پیغام دے دیا ہے کہ امریکہ اور دیگر امن پسند ممالک شمالی کوریا سے کیا چاہتے ہیں۔ نیوکلیئر ہتھیار اور بالسٹک میزائلس کی یکے بعد دیگرے ٹسٹنگ سے شمالی کوریا تباہی کی طرف جارہا ہے۔ ہر گذرنے والے دن کے ساتھ شمالی کوریا خود اپنے مصائب میں اضافہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم جونگ تیسری نسل کے حکمراں ہیں اور ایک جابر ڈکٹیٹر۔ ایک زمانہ تھا کہ ان کے (کِم) دادا جی جب حکمراں تھے تو شمالی کوریا کو جنت نشان ملک تصور کیا جاتا تھا، لیکن اب ان کے پوترے نے ملک کو دوزخ میں تبدیل کردیا ہے لیکن باوجوداس کہ آپ نے کئی گناہوں کا ارتکاب کیا۔ آپ کی حکمرانی جاری و ساری ہے لیکن کب تک؟

امریکہ آپ کو ایک بہتر مستقبل کی جانب لے جانا چاہتا ہے جس کیلئے شمالی کوریا کو اپنے بالسٹک میزائلس کی تیاریاں بند کرنا پڑیں گی اور ملک کو مکمل طور پر نیوکلیئر توانائی سے پاک کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت ایشیا کے 12 روزہ دورہ پر ہیں اور انہوں نے جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے کے ساتھ خوشگوار وقت گزرا جہاں مسائل پر اس طرح بات چیت ہوئی جیسے بچوں کا کھیل ہو۔ گولف کھیلتے کھیلتے دونوں قائدین کئی موضوعات پر بات چیت کرلی۔ بہرحال ٹرمپ اس وقت شمالی کوریا کے سب سے بڑے نقاد تصور کئے جارہے ہیں، لیکن وہ اس ملک کو ایک دوستانہ مشورہ بھی دیتے نظر آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کے شہریوں کو مساویانہ حقوق تک حاصل نہیں ہیں اور دوسری طرف ملک کا کچھ حصہ قحط سالی کا شکار ہے اور حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے جو فنڈس عوام کی فلاح و بہبود اور قحط سالی پر قابو پاتے کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس فنڈ سے بالسٹک میزائلس کے تجربات کئے جارہے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ کم جونگ عوامی قائد نہیں بلکہ ایک ظالم ڈکٹیٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا اس بات کیلئے بھی بدنام ہے کہ حکومت پر تنقیدیں کرنے والوں کو اذیتیں دی جاتی ہیں، عصمت ریزی کی جاتی ہے یا پھر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والوں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔ آج تین نسلوں سے کم جونگ کے آباء و اجداد ملک میں حکمرانی کرتے آرہے ہیں اور عوام کو اس قدر خوف زدہ رکھا گیا ہے کہ مخالف حکومت کوئی لفظ منہ سے نہیں نکال سکتے۔ ٹرمپ نے البتہ شمالی اور جنوبی کوریا کو ملانے والی غیرفوجی سرحدی علاقہ کے اچانک دورہ کا پروگرام منسوخ کردیا جس کی وجہ خراب موسم بتائی گئی ہے، حالانکہ ٹرمپ سیئول میں واقع اپنے ہوٹل سے آج صبح یونگ سان ملٹری بیس کیلئے روانہ ہوئے تاہم خراب موسم کی وجہ سے ٹرمپ کے پہلی کاپٹر کو واپس آنا پڑا۔ ہندو۔ پاک کی واگھما سرحد کی طرح جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی فوجیں اس غیرفوجی سرحدی علاقہ میں ہمیشہ موجود رہتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT