Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / دارالقضاء عدالت نہیں ، کورٹ کا معاون، مصالحتی ادارہ

دارالقضاء عدالت نہیں ، کورٹ کا معاون، مصالحتی ادارہ

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری و ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان
حیدرآباد 10 جولائی ( پریس نوٹ ) مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری و ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ دارالقضاء کا نظام ہندوستان میں آزادی کے پہلے سے مختلف علاقوں میں چل رہا ہے، جنکے ذریعہ ہر سال ہزاروں معاملات آپس میں طے کرائے جاتے ہیں، یہ کوئی متوازی کورٹ نہیں ہے، اور نہ دارالقضاء زور زبردستی سے اپنی بات فریقین پر نافذ کرتا ہے، یہ ثالثی اور مصالحت کے ذریعہ خاندانی زندگی سے متعلق پیدا ہونے والے جھگڑوں کو حل کرنے کا ادارہ ہے، جس میں اخلاقی طور پر فریقین کو صلح پر آمادہ کیا جاتا ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس نظام کو اُن علاقوں تک توسیع دینا چاہتا ہے، جہاں ابھی دارالقضاء قائم نہیں ہوئے ہیں، دارالقضاء کے نظام سے خاص کر خواتین کو بڑی سہولت ہوتی ہے، بغیر کسی خرچ کے نہایت کم وقت میں کونسلنگ کے ذریعہ اُن کے معاملات طے کئے جاتے ہیں، اور اُن کو اُن کے حقوق دلائے جاتے ہیں، دارالقضاء اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ طلاق کے واقعات کم ہوں، جب شوہر و بیوی کے درمیان اختلاف بڑھتا ہے اور اندیشہ ہوتا ہے کہ شوہر طلاق دے گا تو دارالقضاء عورت کی تحریک پر اس کے شوہر کو سمجھاتا ہے، اور مفاہمت کا راستہ نکالتا ہے، دارالقضاء درحقیقت کورٹ کا معاون ہے، اور عدالتوں پر مقدمات کا جو غیر معمولی بوجھ ہے، وہ اس کو ہلکا کرنے کی کوشش کررہا ہے، اسی پس منظر میں وِشولوچن بنام حکومت ہند مقدمہ میں سپریم کورٹ نے 7 جولائی 2014 ء کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے دارالقضاء کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو خارج کردیا اور دارالقضاء کے نظام کو قانون کے مطابق قرار دیا، یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بورڈ کے معزز سکریٹری جناب ظفر یاب جیلانی نے ذرائع ابلاغ کی طرف سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ’’شریعہ کورٹ یا شریعہ عدالت‘‘ کا نام نہیں لیا، حالانکہ خود سپریم کورٹ نے اپنے متذکرہ فیصلہ میں دارالقضاء کو شریعہ کورٹ سے تعبیر کیا ہے، لیکن پھر بھی جیلانی صاحب نے دارالقضاء کا لفظ استعمال کیا، تاکہ کسی کو غلط فہمی پیدا نہیں ہو، مگر افسوس کہ ذرائع ابلاغ کے بعض حلقے اتنے مفید اور اہم کام کی تحسین کرنے کے بجائے وہ اس کو بدنام کررہے ہیں۔ مولانا رحمانی نے تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے فرقہ پرستانہ ذہن رکھنے والوں کی بیان بازی سے متاثر نہیں ہوں، اور مسلمانوں سے گزارش کی ہے کہ وہ دارالقضاء کے نظام کو اپنے اپنے علاقوں میں وسعت دیں اور اپنے مسائل کو اس ادارہ کے ذریعہ حل کرائیں۔
وائی ایس آر کانگریس بیک وقت انتخابات کی حامی
امراوتی 10 جولائی ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش کی اصل اپوزیشن جماعت وائی ایس آر کانگریس نے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کے انعقاد کی حمایت کی ہے اور کہا کہ اس تجویز کے کچھ نقائص اور خامیاں بھی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کیلئے دستور میں لازمی ترمیم کرنی چاہئے اور جو اختلافات ہیں ان پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے رکن راجیہ سبھا وجئے سائی ریڈی اور اے پی کونسل میں قائد اپوزیشن اوما ریڈی وینکٹیشورلو نے لا کمیشن کو پارٹی کے موقف پر مبنی 9 صفحات پر مشتمل مکتوب حوالے کیا ۔ پارٹی نے اس پر اپنی تفصیلی رائے پیش کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT