Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / دارجلنگ میدان جنگ میں تبدیل ، 3 ہلاک ، 35 سیکوریٹی ارکان عملہ زخمی

دارجلنگ میدان جنگ میں تبدیل ، 3 ہلاک ، 35 سیکوریٹی ارکان عملہ زخمی

جی جے ایم حامیوں کا پٹرول بم ، پتھر اور بوتلوں سے حملہ، سیکوریٹی فورسیس کا لاٹھی چارج ، آنسو گیس شیل چھوڑے
دارجلنگ ۔ 17 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام ) : دارجلنگ میں علحدہ ریاست کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ دس دن سے پر تشدد احتجاج نے آج مزید سنگین صورتحال اختیار کرلی اور جی جے ایم کارکنوں و پولیس کے مابین کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئی جن میں 3 افراد ہلاک اور 35 سیکوریٹی ارکان عملہ بشمول آئی آر بی آفیسر زخمی ہوگئے ۔ دارجلنگ میں کئی سال کے بعد 8 جون کو پر تشدد احتجاج شروع ہونے کے بعد یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔ گورکھا جن مکتی مورچہ ( جی جے ایم ) کارکنوں نے کئی مقامات پر پولیس پر پٹرول بم ، پتھر اور بوتلیں پھینکی اس کی وجہ سے سیکوریٹی فورسیس کو آنسو گیس کے شیل استعمال کرنا پڑا ۔ اس کے علاوہ ہجوم کو منتشر کرنے لاٹھی چارج بھی کیا ۔ فوجی جتھہ کو صورتحال پر کنٹرول کے لیے تعینات کیا گیا جس نے تشدد سے متاثرہ مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ کیا ۔ دارجلنگ میں سنگمری آج میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا جہاں جی جے ایم کارکنوں نے پولیس عملہ پر پٹرول بم اور پتھر پھینکے اس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس شیل چھوڑے اور لاٹھی چارج کیا ۔ اس واقعہ میں کئی افراد کے زخمی ہونے کے بعد انتظامیہ نے فوج کو تعینات کردیا ۔ انڈین ریزرو بٹالین (آئی آر بی) کا ایک اسسٹنٹ کمانڈنٹ آج یہاں گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کارکنوں کی سکیورٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوا۔ آئی آر بی ذرائع نے کہاکہ سیکنڈ بٹالین اسسٹنٹ کمانڈنٹ کرن تمانگ کو جھڑپ کے دوران کسی نوک دار ہتھیار کی ضرب پر شدید زخم آئے۔ اُسے دواخانہ لیجایا گیا جہاں اُسے مردہ قرار دیا گیا۔ جی جے ایم لیڈر بینائے تمانگ نے دعویٰ کیاکہ اُن کی پارٹی کے دو ورکرس ہلاک ہوئے جب پولیس نے یہاں جی جے ایم ریالی پر فائرنگ کی۔ تاہم اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر) انوج شرما نے اِس الزام کی تردید کی اور کہاکہ پولیس نے فائر نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ خود جی جے ایم کارکنوں نے فائرنگ کی۔ دریں اثناء دارجلنگ میں سنماری علاقہ آج میدان جنگ کا منظر پیش کررہا تھا جہاں جی جے ایم کارکنوں نے ریاٹ پولیس پر پٹرول بم اور پتھر پھینکے، جنھوں نے جواباً آنسو گیس کے شیل فائر کئے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ اِس واقعہ میں کئی افراد زخمی ہوگئے جس پر اڈمنسٹریشن نے علاقہ میں فوجی دستوں کو تعینات کردیا ہے۔

علیحدہ ریاست کے مطالبہ کے ساتھ جاری غیر معینہ ہڑتال آج تیسرے روز میں داخل ہوئی اور مورچہ کارکنوں نے سنگماڑی میں جی جے ایم ہیڈکوارٹر سے احتجاجی ریالی نکالی۔ چونکہ اِس علاقہ میں امتناعی احکام لاگو ہیں اِس لئے پولیس نے احتجاجیوں سے واپس لوٹ جانے کے لئے کہا۔ احتجاجیوں کے پاس ترنگے اور جی جے ایم کے پرچم تھے۔ نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجیوں نے خاموشی اختیار نہیں کی اور پولیس پر پتھر اور بوتلیں پھینکنے لگے۔ ایک گاڑی کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ پولیس نے آنسو گیس شیل فائر کرتے ہوئے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج بھی کیا۔ پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ احتجاجیوں کو واپس جانے کیلئے کہا گیا لیکن اُنھوں نے سنگباری کے ساتھ ساتھ بوتلیں اور پٹرول بم بھی پھینکے۔ ہمیں لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ اِس جھڑپ میں بعض پولیس ملازمین اور جی جے ایم کارکنان زخمی ہوئے۔ پولیس اور نیم فوجی جوانوں کا بڑا جتھہ فوری وہاں روانہ کردیا گیا جس کی کمان سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور دیگر سینئر آئی پی ایس آفیسرس کو سونپی گئی ہے۔ دارجلنگ میں فارمیسی اور ادویات کے مراکز کو چھوڑ کو تمام دیگر دوکانات اور ہوٹلیں بند ہیں۔ آج کے تشدد پر ردعمل میں وزیر سیاحت گوتم دیب نے کہاکہ حکومت جی جے ایم کی غنڈہ گردی قبول نہیں کرے گی۔ مورچہ قائدین نے کہاکہ جی جے ایم ایم ایل اے امر رائے کے فرزند وکرم رائے کو پولیس نے دارجلنگ سے محروس کیا ہے۔ وکرم جی جے ایم کے میڈیا سیل کا انچارج ہے۔ پولیس نے وکرم کو اُن کی قیامگاہ سے حراست میں لیا جبکہ پارٹی کے بعض حامیوں نے بیجن باری علاقہ میں پی ڈبلیو ڈی آفس کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تھی۔ اِس واقعہ کے بعد کل رات بینائے تمانگ کے مکان پر دھاوا کیا گیا ۔ کل کے تشدد اور آتشزنی کے بعدپولیس کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT