Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / داعش اور القاعدہ پر مذہب کے بیجا استعمال کا الزام

داعش اور القاعدہ پر مذہب کے بیجا استعمال کا الزام

دہشت گردوں کا کسی مذہب کوئی تعلق نہیں ، صوفی کانفرنس ے مختار عباس نقوی کا خطاب
کھمبھاٹ ۔ /14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی ایس ( داعش) اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وہ محض اپنے اغراض و مفادات کے مطابق مذہب کا استعمال و تشریح کیا کرتے ہیں ۔ نقوی نے کہا کہ دہشت گردی سے لاحق چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سماج کا رول حکومت سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ مملکتی وزیر پارلیمان امور و اقلیتی امور مختار عباس نقوی آج گجرات کے علاقہ کھمبھاٹ میں سرکاری شاہ میراں حضرت پیر میراں سید علی ولی کے 796 ویں عرس مبارک کے موقع پر بین الاقوامی صوفی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ اس کانفرنس میں ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مذہب کے بیجا استعمال کے ذریعہ انسانی اقدار کو ہلاک کرنے والی بدی کی طاقتوں کی مذمت کی گئی ۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’’ہم سمجھنا چاہتے کہ دہشت گردی ‘‘ داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں انسانیت اور عالمی ترقی و خوشحالی کی دشمن ہیں ۔ دہشت گرد تنظیموں کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا وہ محض اپنی سہولت اور مفاد کے مطابق مذہب کی تشریح کیا کرتے ہیں‘‘ ۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ ’’ مذہبی تنظیمیں اور قائدین اگر دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف متحد ہوجائیں تو یہ دہشت گد عناصر اپنے مقاصد و محرکات میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔ اخوت سماجی اتحاد و ہم آہنگی کے استحکام کے ذریعہ بدی کی ان طاقتوں کو شکست فاش کیا جاسکتا ہے جو ملک کے امن ، ترقی و خوشحالی کو درہم برہم کرنے کے درپے ہیں ۔ نقوی نے کہا کہ امن و ہم آہنگی کیلئے صوفیائے کرام کی تعلیمات تہذیب و روایات پر عمل آوری وقت کا تقاضہ ہیں ۔ مختار عباس نقوی نے وزیراعظم نریندر مودی کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ( نریندر مودی) دنیا بھر میں امن ، ہم آہنگی ، ترقی و خوشحالی کے سب سے بڑے اور طاقتور پیام رساں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT