Thursday , December 13 2018

داعش کا ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے کا الزام، مہدی مسرور گرفتار

بنگلورو ، 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک بڑی کامیابی میں نہایت بااثر موافق دولت اسلامیہ (آئی ایس) ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مبینہ کارندہ کو آج کی ابتدائی ساعتوں میں یہاں ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہدی مسرور بسواس نے ’’اعتراف‘‘ کرلیا ہے کہ وہ موافق جہاد ٹویٹر ’’@ShamiWitness‘‘ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھا اور وہ بالخصوص انگریزی داں آئی

بنگلورو ، 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک بڑی کامیابی میں نہایت بااثر موافق دولت اسلامیہ (آئی ایس) ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مبینہ کارندہ کو آج کی ابتدائی ساعتوں میں یہاں ایک اپارٹمنٹ سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ مہدی مسرور بسواس نے ’’اعتراف‘‘ کرلیا ہے کہ وہ موافق جہاد ٹویٹر ’’@ShamiWitness‘‘ کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھا اور وہ بالخصوص انگریزی داں آئی ایس آئی ایس (دولت اسلامیہ عراق و شام) دہشت گردوں سے قریب رہا ہے، کرناٹک ڈی جی پی ایل پچاؤ نے یہاں میڈیا والوں کو یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ بنگلورو میں قائم ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے ساتھ 5.3 لاکھ روپئے کے سالانہ پیاکیج پر بحیثیت ’’مینوفیکچرنگ ایگزیکٹیو‘‘ برسرکار انجینئر بسواس نئے آئی ایس آئی ایس (داعش) بھرتیوں کیلئے ’’ترغیب اور معلومات کا ذریعہ‘‘ بن گیا۔

ڈی جی پی نے اس کامیابی کا بنگلورو پولیس کمشنر ایم این ریڈی کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے متوطن بسواس نے ٹوئٹر اکاؤنٹ ’’@ShamiWitness‘‘ کو گزشتہ کئی سال سے چلانے کا اعتراف کرلیا ہے۔ کمشنر ریڈی نے کہا کہ مہدی کے خلاف کئی مقدمات آئی پی سی، قانون انسداد غیرقانونی سرگرمیاں اور آئی ٹی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج رجسٹر کرلئے گئے ہیں۔ ڈی جی پی پچاؤ نے کہا کہ مہدی کے ٹوئٹر پر زائد از 17,000 ’فالوورز‘ ہیں اور وہ معلومات اکٹھا کرتے ہوئے اور خطہ کی تبدیلیوں کا گہرائی سے مشاہدہ کرتے ہوئے ’’بڑی جدت سے‘‘ ٹویٹ کیا کرتا تھا۔ بنگلورو پولیس نے مہدی کیلئے تلاش اس وقت شروع کی تھی جب برطانیہ کے چیانل 4 نیوز نے اس آئی ٹی دارالحکومت کے اُس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ساتھ ربط کے ضمن میں رپورٹ نشر کی تھی جسے بیرونی جہادی دیکھتے ہیں۔ چیانل 4 نیوز نے کہا تھا کہ اس کی تحقیقات سے منکشف ہوا کہ اس اکاؤنٹ کو چلانے والا مہدی ہے جوبنگلور میں انڈین گروپ کیلئے برسرکار ایگزیکٹیو ہے۔

میں نہیں مانتا کہ مہدی کا داعش سے
کوئی ربط ہے، والد کا بیان
کولکاتا ، 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مہدی مسرور بسواس جو موافق اسلامک اسٹیٹ ٹوئٹر اکاؤنٹ کا مبینہ کارندہ ہے جسے آج بنگلورو میں گرفتار کرلیا گیا، اُس کے والد نے آج کہا کہ انھیں یقین نہیں کہ اُن کے فرزند کا اس دہشت گرد تنظیم کے ساتھ کوئی ربط ہے اور اُس کا انٹرنٹ اکاؤنٹ ہیک کرلئے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ مہدی کے والد ایم بسواس نے کہا، ’’ایک رپورٹر نے کل رات اس تعلق سے مجھ سے دریافت کیا۔ تب میں نے اس سے رابطہ کرکے پوچھا۔ میرے فرزند نے کہا اسے نہیں معلوم یہ سب کیسے ہوا ہے۔ اُس نے کہا کہ اُس کا انٹرنٹ اکاؤنٹ ہیک کرلیا گیا ہے۔ میں نہیں مانتا کہ میرے فرزند کا آئی ایس آئی ایس (داعش) کے ساتھ کوئی رابطہ ہے‘‘۔ داعش کی بابت پوچھنے پر انھوں نے کہا، ’’میں نہیں جانتا آئی ایس آئی ایس کیا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT