Friday , June 22 2018
Home / ہندوستان / داعش کی آڑ میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی سازش کا الزام غلط

داعش کی آڑ میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کی سازش کا الزام غلط

انٹرنیٹ کے استعمال میں ازحد احتیاط ضروری: اے ٹی ایس چیف کلکرنی
ممبئی11،جنوری (سیاست ڈاٹ کام ) اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دہشت گرد تنظیموں کا وجود ہے ۔ لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ مسلم نوجوانوں کو اے ٹی ایس یا ایجنسیاں حکومت کے اشاروں پر اپنا نشانہ بناتی ہیں۔ اس سراسر غلط اور بے بنیاد الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔ایسا دعویٰ اے ٹی ایس چیف اتل چندر کلکرنی نے کیا ہے ۔ ملک میں داعش کے نام پرتعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاری پر مسلمانوں میں اضطراب اور بے چینی پائی جارہی ہے ۔ایک عام تاثر ہے کہ حکومت کے اشاروں پر ہی یہ تمام کارروائیاں کی جارہی ہیں۔الزام ہے کہ ایجنسیوں کے لوگ ہی مسلم نوجوانوں کے جذبات مشتعل کرواتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے مشتعل جذبات سامنے آنے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ پہلے بھی مسلم نوجوانوں کو سیمی , انڈین مجاہدین , لشکرطیبہ اور اب داعش کے نام سے گرفتار کیا جاتارہا ہے ۔ اے ٹی ایس سربراہ اتل کلکرنی نے بہر حال ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اس طرح کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ۔ اے ٹی ایس اور حکومت اس قسم کی چیزوں میں قطعی ملوث نہیں۔یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ شام اور عراق میں جاری گھمسان اور سرکاری فوج کے ہی 800 جوانوں کے شہید ہونے کے پس منظر میں یہ کہنا غلط ہے کہ داعش یا دہشت گرد تنظیموں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے انہوں نے مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعہ انجان لوگوں سے گفتگونہ کریں۔ اگر اسلامی گفتگو کر کے کوئی انہیں بہکاتا ہے تو صحیح معلومات کیلئے وہ علمائکرام اور مقامی مساجد کے خطیب و امام سے رجوع کریں ۔ انٹرنیٹ پر آپ سے کون مخاطب ہے یہ بھی معلوم کرنا ضروری ہے کیونکہ آج کے اس پر فتن دور میں روبوٹ بھی انٹرنیٹ پر گفتگو کر سکتے ہیں۔ کلکرنی نے کہا کہ اس پس منظر میں مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں اور مشتبہ عناصر سے دور رہنا چاہئے ۔ انہوں نے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ سرکاری ملازمت میں شراکت داری کیلئے آگے آئیں اور حکومت پر تکیہ کر نے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقابلہ جاتی امتحان میں بھی شرکت کریں۔مسلم نوجوانوں کو سرکاری ملازمت کیلئے بھی قسمت آزمائی کر نی چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT