Saturday , December 15 2018

داعش کی دہشت گردی کے خلاف متحدہ جدوجہد کیلئے ہندوستان کا مطالبہ

جکارتہ ۔ 22 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) کو گہری تشویش کا سبب قرار دیتے ہوئے ایشیائی و افریقی ممالک کے ایک اجتماع پر آج زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی سرکوبی اور بحری قزاقی کے خلاف کارروائیوں کیلئے پابند عہد رہیں۔ ایشیائی و افریقی چوٹی کانفرنس 2015 ء سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سور

جکارتہ ۔ 22 ۔ اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (داعش) کو گہری تشویش کا سبب قرار دیتے ہوئے ایشیائی و افریقی ممالک کے ایک اجتماع پر آج زور دیا کہ وہ دہشت گردی کی سرکوبی اور بحری قزاقی کے خلاف کارروائیوں کیلئے پابند عہد رہیں۔ ایشیائی و افریقی چوٹی کانفرنس 2015 ء سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ میں اصلاحات اور جدید عالمی نظام کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی پر مبنی تشدد میں اضافہ سلامتی کے تئیں انتہائی تکلیف دہ امر ہے اور دونوں براعظموں کے کئی علاقے دہشت گرد گروپوں کی کارستانیوں کے شکار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آئی ایس آئی ایس گزشتہ سال سے گہری تشویش کے ایک اہم سبب کی حیثیت سے ابھری ہے ۔ اس لعنت کے خلاف مقابلہ کیلئے ہمیں متحدہ عزم و عہد کرنا ہوگا جو (لعنت) ہماری تہذیبوں کو چیلنج کر رہی ہے‘‘۔ وزیر خارجہ سشما سوراج جو پاؤں پر زخم سے متاثر ہیں، شہ نشین کے بجائے اپنی نشست پر بیٹھ کرر ہی کانفرنس سے خطاب کیا ۔ انہوں نے بحری قزاقی سے لاحق سلامتی خطرات کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ آبنائے ملا کا دور خلیج عدن میں کارروائیوں کے باوجود قزاقی سے لاحق خطرات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آبنائے ملا کا اور خلیج عدن میں قزاقی کی سرکوبی کیلئے ہم مشترکہ اقدامات کرچکے ہیں

جس کے باو جود ہمارے علاقہ میں ترقی کے فقدان ، غریبی اور سیاسی عدم استحکام کے سبب یہ خطرہ ہنوز برقرار ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’تجارتی راستہ کی حیثیت سے بحر ہند کی اہمیت میں مستقبل میں زبردست اضافہ ہوگا کیونکہ ہم نے نیلی معیشت (سمندری اقصادایات) کو ترقی کا نیا ستون قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ہمارے سمندروں کو محفوظ بنانا اب اور بھی زیادہ ضروری ہوگیا ہے‘‘۔ اس کانگریس میں انہوں نے 1955 ء میں منعقدہ بنڈونگ کانفرنس کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ کانفرنس ایشیاء اور افریقہ کے ان سماجت بصیرت قائدین کو خراج عقیدت کے مترادف ہے جنہوں نے 60 سال قبل عالمی امن اور تعاون کا مقامی نظریہ پیش کیا تھا ۔اس کانفرنس میں مختلف ایشیائی و افریقی ممالک کے وزراء اور سفارت کاروں نے سرگرم مباحث و مشاورت کے بعد پیام بنڈونگ 2015 سے موسوم اعلامیہ سے اتفاق کرلیا ہے ۔ علاوہ ازیں دہشت گردی کے خلاف قراردادیں بھی تیار کرلی گئی ہیں۔ سربراہان مملکت کل یہ قراردادیں منظور کریں گے اور فلسطین کی آزادی سے متعلق ایک قرارداد 24 اپریل کو منظور کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT