Thursday , January 18 2018
Home / دنیا / داعش کے خلاف لڑائی کا نیا مرحلہ شروع : اوباما

داعش کے خلاف لڑائی کا نیا مرحلہ شروع : اوباما

واشنگٹن 9 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر امریکہ بارک اوباما نے آج کہا کہ عراق کو 1,500 اضافی امریکی فوجیوں کی روانگی دولت اسلامیہ ( داعش ) کے خلاف لڑائی کا ایک نیا مرحلہ ہے ۔ اوباما نے سی بی ایس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم صرف داعش کی رفتار کو روکنے کے علاوہ اس پر کچھ کارروائیاں کرنے کے موقف میں ہیں۔ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے دا

واشنگٹن 9 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر امریکہ بارک اوباما نے آج کہا کہ عراق کو 1,500 اضافی امریکی فوجیوں کی روانگی دولت اسلامیہ ( داعش ) کے خلاف لڑائی کا ایک نیا مرحلہ ہے ۔ اوباما نے سی بی ایس نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب ہم صرف داعش کی رفتار کو روکنے کے علاوہ اس پر کچھ کارروائیاں کرنے کے موقف میں ہیں۔ امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے داعش کے خلاف جو فضائی حملے کئے ہیں وہ اس گروپ کی صلاحیتوں کو نقصان پہونچانے اور اس کی تیز رفتاری سے ہونے والی پیشرفت کو روکنے میں کافی موثر ثابت ہوئے ہیں۔ اب ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ زمینی افواج کی ہے ۔ عراقی زمینی افواج کی ضرورت ہے جو داعش کو پسپا کرنا شروع کرے ۔

اوباما نے 4 نومبر کو ہوئے وسط مدتی انتخابات کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ پہلا مرحلہ یہ تھا کہ عراق میں ایک حکومت قائم کی جائے جو سب کو ساتھ لے کر چلے اور جس کی اچھی ساکھ ہو ۔ یہ کام اب ہوچکا ہے ۔ وسط مدتی انتخابات میں ریبپلیکن پارٹی نے اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کو شکست سے دوچار کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں جو صورتحال بدلی نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ہماری افواج وہاں لڑائی میں حصہ نہیں لیں گی ۔ اوباما نے کہا کہ 1,500 اضافی امریکی سپاہی امریکی زیر قیادت اتحادی افواج کے ارکان کے ساتھ چار ٹریننگ سنٹرس میں عراقی سپاہیوں کو ٹرین کرنے میں مصروف رہیں گے اور حکمت عملی کی تیاری اور دیگر ساز و سامان کی فراہمی میں ان کا رول رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جب زمینی افواج داعش کے خلاف لڑائی میںمصروف رہیں گی اس وقت امریکہ کی جانب سے انہیں فضائی حملوں کے ذریعہ مدد فراہم کی جائیگی ۔

صدر اوباما نے کہا کہ ان کے کمانڈرس کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم ہے ۔ وہاں اتحادی افواج کے ارکان کی جانب سے بھی مقامی افواج کی تربیت اور مدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ تاہم انہوں نے عراق کو مزید افواج کی روانگی کا امکان مسترد نہیں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے وہ کبھی بھی افواج بھیجنے کا امکان مسترد نہیں کرینگے ۔ ایک سوال کے جواب میں اوباما نے اس خیال کی توثیق یا تردید سے انکار کیا کہ انہوں نے ایران کے مذہبی رہنما کو داعش کے خلاف لڑائی میں تعاون کرنے کی خواہش کے ساتھ مکتوب روانہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مختلف عالمی قائدین سے اپنی مراسلت کے سلسلہ میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT