Friday , December 15 2017
Home / ہندوستان / دالوں کی بیرون ملک ذخیرہ اندوزی

دالوں کی بیرون ملک ذخیرہ اندوزی

حکومت کارروائی نہیں کرسکتی ، رام ولاس پاسوان
نئی دہلی ۔ 8 ڈسمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت کو بڑے تاجرین اور درآمد کنندگان کی جانب سے دالوں کی ’’ایک بیرون ملک ‘‘ ذخیرہ اندوزی کی شکایت وصول ہوئی ہے ۔ پارلیمنٹ کو آج اس بات سے مطلع کیا گیا ۔ مرکزی وزیر تغدیہ رام ولاس پاسوان نے لوک سبھا کو ایک جواب میں بتایا کہ ایک نمائندگی موصول ہوئی جس میں بڑے تاجرس ؍ درآمد کنندوں کے دالوں کو بیرون ملک ذخیرہ اندوزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اشیائے مایحتاج ایکٹ 1955 اور انسداد بلیک مارکٹنگ اور اشیائے مایحتاج کی موثر سربراہی ایکٹ 1980 ء کے تحت صرف اندرون ملک ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ پاسوان سے یہ پوچھا گیا تھاکہ کیا حکومت نے کنفڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس کے اس موقف کا نوٹ لیا ہے ، جس میں دالوں کی موجودہ قلت کیلئے بڑی ریٹیل کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو یہ ہدایات جاری کی گئی تھی کہ بلیک مارکٹنگ یا ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں رام ولاس پاسوان نے کہاکہ 14ریاستوں میں 14,134 دھاوے کرتے ہوئے 1.30 لاکھ ٹن سے زائد دالیں ضبط کی گئیں۔ انھوں نے کہاکہ ضبط شدہ دالوں کے جملہ اسٹاک کا 51,732.27 ٹن کو اب تک مارکیٹ میں لایا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں پر نظر رکھنے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT