Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / دال کی قیمت آسمان کو چھو گئی ، امراء و غرباء دال کے استعمال سے محروم

دال کی قیمت آسمان کو چھو گئی ، امراء و غرباء دال کے استعمال سے محروم

حکومت مہنگائی پر قابو پانے سے قاصر ، مختلف بہانے بازی سے عوام پریشان حال
حیدرآباد 14 اکٹوبر (سیاست نیوز) مرغی کا استعمال کرتے ہوئے عموماً یہ محاورہ کہا جاتا تھا کہ ’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘ لیکن اب دال کو شائد توہین برداشت نہیں ہوئی اور اُس کی قیمت مرغی سے زیادہ ہوچکی ہے۔ مہنگائی میں ہورہے روز افزوں اضافہ کا سب سے زیادہ اثر دالوں کی قیمت پر نظر آرہا ہے اور دالوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی جارہی ہیں لیکن اس پر روک لگانے کی کوئی کوشش نہیں ہورہی ہے جس سے نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ ملک بھر کے عوام پریشانیوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ حیدرآباد میں فی الحال دال کی قیمت 180 روپئے فی کیلو تک پہونچ چکی ہے۔ مسور کی دال جو عموماً زیادہ استعمال کی جاتی ہے اُس کی قیمت بھی 120 تک پہونچ چکی ہے۔ یہی صورتحال مونگ دال، اڑد کی دال، ارہر دال اور چنے کی دال کی بھی بنی ہوئی ہے۔ مجموعی اعتبار سے سال گزشتہ کا جائزہ لیا جائے تو دالوں کی قیمت میں زائداز 50 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ملک بھر میں دالوں کی قیمت میں ہورہے اضافہ کے متعلق یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کالا بازاری پر کنٹرول نہ کئے جانے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے جبکہ حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ ناکافی بارش اور فصلوں کی تباہی کے سبب مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے جسے روکنا دشوار نظر آرہا ہے۔ حیدرآباد میں مرغی  کی فروخت میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے چونکہ دال کی قیمت میں ہوئے بے تحاشہ اضافہ کو برداشت کرنے کے عوام متحمل نہیں رہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دال کی قیمت میں ہوئے اضافہ کے سبب وہ انڈا یا مرغی کے استعمال کو ترجیح دینے لگے ہیں کیوں کہ چار انڈے کی قیمت 15 روپئے ہوتی ہے جبکہ چار لوگوں کے لئے دال کی قیمت تقریباً دوگنی ہوجاتی ہے۔ جو دال، چاول شہر کی ہوٹلوں میں بطور میلس فروخت کیا جاتا تھا اُس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دال چاول کی قیمت میں بھی تقریباً پچاس فیصد کا اضافہ کیا جاچکا ہے اس کے باوجود بھی ہوٹل مالکین مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ سڑک کے کنارے فروخت ہونے والے کھانے کے لئے لوگ دال کے بجائے انڈے کے سالن کو ترجیح دینے لگے ہیں چونکہ دال 20 روپئے میں فروخت کی جارہی ہے جبکہ انڈے کا سالن 15 روپئے میں دستیاب ہے۔ سابق میں دال کی قیمت 12 تا 15 روپئے وصول کی جاتی تھی۔ دالوں کی قیمتوں پر کنٹرول کے متعلق کوئی میکانزم نہ ہونے کے باعث ملک کے بعض شہروں میں تور دال کی قیمت 190 روپئے فی کیلو تک پہونچ چکی ہے۔ اسی طرح مسور کی دال کی قیمت بھی تقریباً 120 روپئے ہوچکی ہے۔ چنے کی دال ملک کے بعض شہروں میں 180 روپئے تک فروخت کی جارہی ہے۔ گزشتہ ماہ یعنی ستمبر کی قیمتوں سے اس ماہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے تو اس میں بھی بڑا فرق دیکھا جارہا ہے۔ تور کی دال ممبئی میں ستمبر 2015 ء کے دوران 88 روپئے فی کیلو فروخت کی گئی تھی جبکہ اکٹوبر 2015 ء میں اس کی قیمت 190 روپئے تک پہونچ چکی ہے۔ اِسی طرح مونگ کی دال 108 روپئے کیلو ریکارڈ کی گئی تھی جوکہ اب تقریباً 140 روپئے تک پہونچ چکی ہے۔ 2014-15 ء کے درمیان دالوں کی قیمت میں اضافہ کا جائزہ لیا جائے تو جولائی 2014 ء سے جولائی 2015 ء تک مونگ کی دال کی قیمت میں 12.63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مونگ کی دال جولائی 2014 ء میں 87 روپئے 43 پیسے ٹھوک ہوا کرتی تھی جس کی قیمت جولائی 2015 ء میں 98 روپئے 47 پیسے تک پہونچ گئی۔ اسی طرح اڑد دال کی قیمت میں اس مدت کے دوران 34.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جوکہ جولائی 2014 ء میں 73 روپئے 48 پیسے ہوا کرتی تھی وہ 99 روپئے 3 پیسے تک پہونچ گئی۔ تور دال کی قیمت میں 40.73 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جوکہ جولائی 2015 ء میں 99 روپئے 31 پیسے تک پہونچ گئی جبکہ جولائی 2014 ء میں اس کی قیمت 70 روپئے 57 پیسے ہوا کرتی تھی۔ مسور کی دال کی قیمت میں 34.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جوکہ 82 روپئے 53 پیسے تک پہونچ گئی جو جولائی 2014 ء میں 61 روپئے 41 پیسے ہوا کرتی تھی۔ چنے کی دال کی قیمت میں 30.53 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے چنے کی دال کی قیمت 60 روپئے 29 پیسے تک پہونچ گئی جبکہ جولائی 2014 ء میں چنے کی دال 46 روپئے 19 پیسے فی کیلو ٹھوک فروخت کی جاتی تھی۔ جولائی 2015 ء کے بعد بھی دالوں کی قیمت میں تیز رفتار اضافہ کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب مرغی کو اب دال کے برابر کہنا درست نہیں ہے بلکہ مرغی اب دال سے زیادہ سستی ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT