Thursday , October 18 2018
Home / شہر کی خبریں / دامودھر راج نرسمہا کی اہلیہ بی جے پی میں شامل

دامودھر راج نرسمہا کی اہلیہ بی جے پی میں شامل

اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کا امکان، سیاسی حلقوں میں موضوع بحث
حیدرآباد۔11 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی سیاست میں آج ایک اہم تبدیلی رونما ہوئی اور کانگریس پارٹی کو دھکہ لگا۔ کانگریس انتخابی منشور کمیٹی کے صدرنشین اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا کی اہلیہ نے غیر متوقع طور پر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ شریمتی پدمنی ریڈی کی بی جے پی میں شمولیت سے سیاسی حلقوں میں گرما گرم مباحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری مرلیدھر رائو اور ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن کی موجودگی میں پدمنی ریڈی نے بی جے پی آفس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ قومی جنرل سکریٹری نے پارٹی کا کھنڈوا پہناکر ان کا استقبال کیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرلیدھر رائو نے کہا کہ پدمنی ریڈی کا بی جے پی میں استقبال کیا جاتا ہے ان کی شمولیت سے تلنگانہ میں بی جے پی مزید مضبوط و مستحکم ہوگی۔ مندروں کی تزئین نو کے سلسلہ میں ان کی مساعی قابل ستائش ہے۔ آنے والے دنوں میں بی جے پی ان کی خدمات سے استفادہ کرے گی۔ پدمنی ریڈی کو اسمبلی کا ٹکٹ دیئے جانے کے مسئلہ پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے پدمنی ریڈی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے پدمنی ریڈی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ شوہر اور بیوی کا الگ الگ پارٹیوں میں ہونا کوئی غلط بات نہیں ہے۔ ہر کسی کو فیصلے کا اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے انتخابی منشور میں خواتین کے قرض مکمل معاف کیئے جانے کا وعدہ شامل کیا جائے گا۔ کانگریس کے سینئر ترین قائد دامودھر راج نرسمہا کی اہلیہ کا بی جے پی میں شامل ہونا ضلع میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال گشت کررہا ہے کہ آیا پدمنی ریڈی نے اپنے شوہر کی مرضی سے یہ شمولیت اختیار کی؟ کانگریس پارٹی نے کسی بھی خاندان میں دو افراد کو پارٹی ٹکٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پدمنی ریڈی کی کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کے امکانات ختم ہوچکے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اچانک بی جے پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ توقع کی جارہی ہے کہ بی جے پی انہیں کسی حلقہ سے اپنا امیدوار بنائے گی۔ دامودھر راج نرسمہا نے اپنی بیوی کو ٹکٹ دینے کے لیے کانگریس اعلی کمان سے نمائندگی کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بی جے پی انہیں سنگاریڈی اسمبلی حلقہ سے امیدوار بناسکتی ہے۔ اہلیہ کے بی جے پی میں شمولیت کی اطلاع ملتے ہی دامودھر راج نرسمہا گجویل میں انتخابی مہم ترک کرکے حیدرآباد واپس ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT