Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / دانستہ نااِنصافی کی وجہ مسلمان پیچھے ، آگے بڑھنے کامیاب حکمت عملی ضروری

دانستہ نااِنصافی کی وجہ مسلمان پیچھے ، آگے بڑھنے کامیاب حکمت عملی ضروری

ملت کو خودمکتفی بنانے پراجیکٹ پلان کی تیاری پر زور، کورٹلہ میں ٹیلرنگ ٹریننگ سنٹر کا افتتاح، جناب عامر علی خاں کا خطاب

کورٹلہ۔ 12 جولائی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے کہا ’’مسلمانوں کا ماضی سنہرا دور تھا، حال پسماندہ ضرور ہے تاہم مستقبل کو روشن بنانے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘‘۔ مسلمان بالخصوص خواتین کی ترقی کے مقصد سے ’’بیت المال‘‘ تشکیل دیتے ہوئے کورٹلہ کو سارے تلنگانہ کے مسلمانوں کیلئے رول ماڈل بنانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں پہل کرتے ہوئے روزنامہ سیاست کی جانب سے مکمل تعاون کا پیشکش کیا ۔ انہوں نے آج کورٹلہ کے نظام پورہ میں ادارۂ سیاست کے تعاون سے قائم کئے گئے ’’ماہین ٹیلرنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر‘‘ کے افتتاح اور اسناد کی تقسیم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ امیر جماعت اِسلامی ہند ضلع جگتیال محمد نعیم الدین نے تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ جناب عامر علی خاں نے کہا کہ آزادی کے وقت سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 42% تھا۔ 60 سال بعد یہ گھٹ کر 0.4% تک محدود ہوگیا ہے۔ مسلمانوں نے بھی طویل عرصے تک خواب غفلت کی زندگی گذاری ہے، ساتھ ہی دانستہ طور پر منصوبہ بند سازش کے تحت ہر شعبہ میں مسلمانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ناانصافی کی گئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ گذرے ہوئے وقت کو بھول کر اپنے مستقبل کو روشن بنانے خصوصی منصوبہ بندی اور کامیاب حکمت عملی تیار کریں۔ اس معاملے میں کورٹلہ تلنگانہ کے سارے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ بنے۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے بل گیٹس کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مچھلی کھلانے کے بجائے کسی کو بھی مچھلی پکڑنے کا ہنر سکھانا چاہئے۔ شیخ جنید ، کورٹلہ کے مسلمانوں کیلئے زندہ مثال ہے جس کے بہترین تعلیمی مظاہرے پر روزنامہ سیاست نے مستقبل کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کی اور آج شیخ جنید حیدرآباد کی ایک مشہور کمپنی میں بحیثیت انجینئر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کورٹلہ ایک چھوٹا شہر ضرور ہے مگر مسلمان ہر شعبہ میں باشعور بنیں۔ مسلمانوں کی ترقی و بہبود کیلئے ایک پراجیکٹ رپورٹ تیار کریں۔ مسلمانوں کو خود مکتفی بنانے کی شروعات کریں۔ اس کام میں ادارۂ سیاست ہر ممکنہ تعاون کرے گا۔ اس موقع پر جناب عامر علی خاں نے ٹیلرنگ کی تربیت حاصل کرنے والی خواتین کو مبارکباد پیش کی اور نئے بیاچ کی امیدواروں سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ ٹیلرنگ کی تربیت مکمل کرنے والی خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے تیار کردہ ملبوسات کی مارکٹ میں فروخت کیلئے اس کی تشہیر اور پبلیسٹی کریں۔ خواتین میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ مسلم خواتین بھی اپنی صلاحیتیں منوائیں۔ مسلمان بالخصوص خواتین کے درخشاں مستقبل کیلئے ادارہ سیاست تعاون کرے گا۔ صدر جلسہ سابق صدرنشین بلدیہ کورٹلہ عبدالغفار کورٹلہ کے آواز دینے پر بار بار کورٹلہ پہنچے اور ادارۂ سیاست سے تعاون کرنے پر جناب عامر علی خاں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کئی اخبارات ہیں مگر ادارۂ سیاست کی فلاحی سرگرمیاں ناقابل فراموش ہیں جو ذات پات، مذہب سے بالاتر ہوکر اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے ٹیلرنگ سنٹر کیلئے اپنی جانب سے ماہانہ 1,000 روپئے کے حساب سے ایک سال تک 12,000 روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے محمد نعیم الدین کو اس کی ذمہ داری قبول کرنے پر زور دیا اور اپنی جانب سے مکمل تعاون کا تیقن دیا۔ امیر جماعت اسلامی ہند ضلع جگتیال محمد نعیم الدین نے ادارۂ سیاست کی مختلف سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ روزنامہ سیاست اپنی ذات میں ایک انجمن ہے، ملی درد رکھنے والا اخبار اپنے آپ کو ملت کی خدمت کیلئے وقف کرچکا ہے۔ کئی پروفیشنل مسابقتی امتحانات کی تربیت ادارۂ سیاست کی جانب فراہم کی جارہی ہے۔ مسلم طلبہ میں اسکالرشپس تقسیم کی جارہی ہے۔ ملت فنڈ سے تعلیمی امداد دی جاتی ہے۔ انہوں نے جگتیال کے کالج کیلئے جب ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان سے اپیل کی تو انہوں نے فوری 60,000 روپئے کارپس فنڈ پیش کیا۔ اس کے بعد نرمل، عادل آباد اور بودھن کے کالجس کیلئے بھی کارپس فنڈز فراہم کئے گئے۔ مسلم لڑکیوں کی شادیوں کیلئے رشتوں کا پروگرام ’’دوبہ دو‘‘ شروع کیا گیا ہے۔ اس طرح کا ایک پروگرام کورٹلہ میں منعقد کرنے کی اپیل کی۔ سیاست کی جانب سے لاوارث مسلم نعشوں کی اسلامی طریقے سے تدفین کی جارہی ہے۔ جناب عامر علی خاں نے 12% مسلم تحفظات کیلئے جو تحریک شروع کی ہے، وہ قابل تقلید ہے۔ محمد محمود علی افسر سپرنٹنڈنٹ اقلیتی بہبود ضلع جگتیال نے کہا کہ ضلع جگتیال میں جو بھی کام شروع ہوا ہے، ادارۂ سیاست اور جناب عامر علی خاں نے اس میں ہمیشہ تعاون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے ضلع جگتیال کیلئے 1,000 سیونگ مشینس منظور ہونے والے ہیں۔ کورٹلہ میں ٹیلرنگ کورس مکمل کرنے والی خواتین اپنے سرٹیفکیٹ کو محفوظ رکھیں جس کی بنیاد پر سیونگ مشینس تقسیم کئے جائیں گے اور اقلیتی اقامتی اسکولس میں بھی یہ سرٹیفکیٹس کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ نیوز ایڈیٹر سیاست نے مسلمانوں بالخصوص خواتین کی ترقی و بہبود کیلئے ’’بیت المال‘‘ تشکیل دیتے ہوئے کورٹلہ کو سارے تلنگانہ کیلئے رول ماڈل بنانے کا بھی مشورہ دیا۔ اس پہل میں ادارۂ سیاست کی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کی بھی انہوں نے پیشکش کی۔ اس موقع پر صدر پریس کلب کورٹلہ ایم چندر شیکھر نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے ادارۂ سیاست کی خدمات کی ستائش کی۔ محمد الیاس احمد خان امیر مقامی جماعت اسلامی ہند کورٹلہ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ادارۂ سیاست کے زیراہتمام خواتین کو خود مکتفی بنانے کیلئے مفت ٹیلرنگ سنٹر قائم کیا گیا جس سے بڑی تعداد میں خواتین استفادہ کررہی ہیں جو قابل تعریف ہے۔ اس موقع پر محمد سلیم فاروقی سینئر صحافی کورٹلہ نے ابتدائی کلمات بیان کئے۔ اس جلسہ میں 2 جون کو تلنگانہ یوم تاسیس کے موقع پر بیسٹ جرنلسٹ ایوارڈ حاصل کرنے والے جگتیال کے رپورٹر محمد عبدالمجاہد عادل اور کورٹلہ کے تلگو صحافی ایم چندرا شیکھر کی جناب عامر علی خاں کے ہاتھوں گلپوشی اور شال پوشی کے ذریعہ تہنیت پیش کی۔ جبکہ محمد ضمیر الدین کے ہاتھوں محمد جنید انجینئر کی گلپوشی کی گئی۔ اس تقریب میں جناب مظہرالدین صدر ویلفیر سوسائٹی، جناب محمد عبدالقیم ناظم شعبہ خدمت خلق جماعت اسلامی ہند ، جناب محمد عبدالعزیز کنٹراکٹر، جناب محمد عبدالرؤف صدر جامع مسجد کورٹلہ، جناب محمد عبدالمتین، جناب خضر احمد، جناب مظفر احمد شجو، جناب محمد واثق، جناب ظہیرالدین ، جناب عابد نامہ نگار ’’راشٹریہ سہارا‘‘ جگتیال کے علاوہ خواتین اور لڑکیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر جناب محمد عبدالسلیم فاروقی رپورٹر سیاست کورٹلہ کی 30 سالہ صحافتی خدمات پر تہنیت پیش کی گئی۔ جناب محمد عبدالغفار سابق چیرمین مجلس بلدیہ کورٹلہ نے جناب عامر علی خاں کو مومنٹو پیش کیا۔ اس کے علاوہ جناب عامر علی خاں ، جناب محمد عبدالغفار سابق چیرمین کے ہاتھوں مہمانوں میں مومنٹو اور ٹیلرنگ کی تربیت حاصل کرنے والی خواتین اور لڑکیوں میں سرٹیفکیٹس تقسیم کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT