Friday , December 15 2017
Home / مضامین / داڑھی کترنے والے کی امامت

داڑھی کترنے والے کی امامت

سوال :  اس سال رمضان المبارک میں ایک مسجدمیں شبینہ پڑھنے کا اتفاق ہوا، مسجد کے امام صاحب کا عمل قلبی تشویش کا باعث رہا، امام صاحب بظاہر شریعت کے پابند نظر نہیں آئے، ایک مشت سے داڑھی کم تھی، تراویح پڑھانے کیلئے جو حافظ صاحب تشریف لائے وہ شریعت کے پابند عالم دین اور متشرع تھے ۔ مسجد کے امام صاحب فرض نماز پڑھائے۔ تراویح اور وتر پڑھے بغیر چلے گئے ، امام صاحب کی داڑھی یکمشت سے کم ہونے کی بناء ان کی اقتداء بوجھل معلوم ہورہی تھی۔ براہ کرم شرعی نقطہ نظر واضح فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
محمد عبدالقادری، حسینی علم
جواب :  ازروئے فقہ حنفی داڑھی مونڈھنا حرام ہے اور داڑھی کترنا (یکمشت سے کم رکھنا) بھی شرعاً جائز نہیں۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد 5 ص : 269 کتاب الحظر والاباحتہ میں ہے : یحرم علی الرجل قطع لحینہ ای کتاب کی جلد 2 ص : 123 میں ہے: واما الأخذمنھا وھی دون القبضۃ کما یفصلہ بعض المغاربۃالخ۔
شرعاً امامت کیلئے ہر وقت اس مسجد کا رات دن نماز پڑھانے والا امام اولیٰ ہے جبکہ وہ پابند شریعت ہو اور اگر مقتدی امام میں واقعی کسی شرعی فساد کے پائے جانے کی وجہ سے اس کی اقتداء سے ناراض ہوں اور ایسے افراد موجود ہوں جو امامت کیلئے اس سے زیادہ حقدار ہوں تو ایسی حالات میں امام کی نماز مکروہ تحریمی ہے۔ عالمگیر جلد اول ص: 83 میں ہے: دخل المسجد من ھوا اولیٰ بالامامۃ من امام المحلۃ اولیٰ کذا فی القنیہ۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد اول ص : 391 میں ہے(والاحق بالامامۃ ) تقدیماً ۔الخ۔ردالمختار میں ہے: ای للامام الراتب (الا علم باحکام الصلاۃ) ۔الخ۔ اور اسی میں ہے (ولو ام قوما وھم لہ کارھون) ان الکراھۃ (لفساد فیہ او لانھم احق بالامامۃ کرہ)لہ ذلک تحریماً لحدیث ابی داؤد لا یقبل الہ صلاۃ من تقدم قوما وھم لہ کارھون۔

نعرۂ تکبیر
سوال :  مسجد میں محفل  وعظ و بیان کے دوران نعرہ بازی ، جیسے ’’ نعرہ تکبیر، نعرہ رسال، ، نعرہ غوث اور ’’ غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے ‘‘ بآواز بلند کہنا درست ہے یا نہیں ۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
محمد باوزیر، شاہین نگر
جواب :   کتب احادیث سے خود حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین کے نعرہ تکبیر بلند کرنے کا ثبوت ملتا ہے ۔ خیبر کے موقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ نعرہ تکبیر ۔ اللہ اکبر‘‘ بلند فرمایا تھا ، جیسا کہ بخاری جلد ثانی صفحہ 604 صفحہ میں ہے ’’ عن انس قال صلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم الصبح قریبا من خیبر بغلس ثم قال اللہ ا کبر خربت خیبر ‘‘ … الخ ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے خود اس موقع پر نعرہ تکبیر بلند فرمایا تھا ۔ جیسا کہ مذکورہ کتاب کے صفحہ 605 پر ہے ۔ ’’ عن ابی موسی الاشعری رضی اللہ عنہ قال لما غزا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر … فرفعوا اصواتھم بتکبیر اللہ ا کبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ ‘‘ … الخ ۔ حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے مشرف بہ اسلام ہونے کی مسرت میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے دار ارقم میں نعرہ تکبیر بلند کیا تھا جس کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی تھی جیسا کہ اکمال مشکوۃ صفحہ 602 پر ہے‘‘… فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما انت منتہ یا عمر ؟ فقلت اشھد ان لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک و اشھد ان محمد اعبدہ و رسولہ فکبر اھل الدار تکبیرۃ سمعھا اھل المسجد ‘‘… الخ۔
حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی نشانیوں میں سے بطور پیشنگوئی حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد میں ایک جنگ کی فتح کا ذکر فرمایا کہ وہ لوگ ہتھیاروں سے جنگ نہیں کریں گے بلکہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کا تین مرتبہ نعرہ بلند کریں گے اور کامیاب ہوجائیں گے جیسا کہ مشکوہ المصابیح باب الملاحم صفحہ 467 میں ہے ’’  عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ھل سمعتم بمدینہ جانب منھا فی البر و جانب منھا فی البحر قالوا نعم یا رسول اللہ قال لا تقوم الساعہ حتی یغزوھا سبعون الفامن بنی اسحاق فاذا جاء و ھا نزلوا ولم یقاتلوا بسلاح ولم یرموابسھم قالوا لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط احد جانبیھا ۔ ثم یقولون الثانیہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط جانبھا الاخر ثم یقولون الثالثہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیفرج لھم فیدخلونھا ‘‘… الخ ۔ (وہ مسلم )

نعرہ تکبیر یعنی اللہ اکبر ، ذکر اللہ ہے۔ اجتماعی ذکر جہر خواہ مسجد میں ہو کہ غیر مسجد میں علمائے متقدمین و متاخرین کے پاس بالاجماع جائز ہے۔ بشرطیکہ جہر (بلند آوازی) کسی کی نماز و قرات یا آرام میں خلل انداز نہ ہو جیسا کہ شامی جلد ایک صفحہ 488 میں ہے ۔ ’’ و فی حاشیہ الحمومی عن الامام الشعرانی رحمہ اللہ اجمع العلماء سلفاء و خلفاء علی استحباب ذکر الجماعہ فی المسجد و غیرھا الا ان یشوش جھرھم علی نائم او مصل او قاری ‘‘۔ بعض اھل علم نے بعض فوائد جیسے ذاکر کے قلب کی بیداری ، نیند کی دوری اور نشاط میں ازدیاد و اضافہ کی بناء پر ذکر جہر کو ذکر خفی کے مقابلے میں ترجیح دی ہے ۔ جیسا کہ مذکورہ کتاب کے اسی صفحہ پر ہے ’’ … فقال بعض اھل العلم ان الجھر افضل لانہ اکثر عملا و لتعدی فائدتہ الی السامعین فیؤخذ قلب الذاکر فیجمع ھمہ الی الفکر و یصرف سمعہ الیہ و یطرد النوم و یزید النشاط‘‘۔
کتب فقہ میں یہ بھی صراحت ہے کہ آیت پاک ’’ و من اظلم ممن منع مساجد اللہ یذکر فیھا اسمہ ‘‘ … کی وجہ سے مساجد میں ذکر جہر سے منع نہیں کیا جائے گا جیسا کہ بزازیہ میں ہے ’’ ان الذکر بالجھر فی المسجد لا یمنع احترازا عن الدخول تحت قولہ تعالیٰ ’’ و من اظلم ممن منع مساجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ ‘‘…
اب رہا نعرہ رسالت وغیرہ کا بلند کرنا تو اس سے متعلق مختصر وضاحت یہ ہے کہ غیر اللہ کے ساتھ ’’ یا ‘‘ حرف ندا کا استعمال کبھی اظہار  شوق لقاء یا اظہار حیرت اور بکثرت منادیٰ (جس کو پکارا جارہا ہے) کو نداء کرنے (پکارنے) کے لئے کلام عرب میں معروف و مستعمل ہے۔ مخلوق غائب کو ندا کرنا محض تذکرہ یا شوق وصال یا حسرت فراق کے ہو تو شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اس اعتبار سے اگر ’’ یا رسول اللہ ‘‘ ’’ یا غوث ‘‘ وغیرہ کا نعرہ بلند ہوجائے تو شرعاً منع نہیں۔ اگر نداء سے غائب کو سنانا مقصود ہو اور تصفیہ باطن سے منادی کے حق میں منادی مشہود ہو تو ایسی صورت میں بھی حرف نداء کا استعمال شرعاً منع نہیں۔ مخلوق غائب کو بلا کسی مشاہدہ کے سنانے کے اعتقاد کے ساتھ نداء کرنا اگرچیکہ قدرت خدا وندی سے بعید نہیں تاہم ایسا اعتقاد بھی آداب توحید کے خلاف ہے۔ ’’ غوث کا دامن نہیں چھوڑیں گے‘‘ اردو زبان میں ایک محاورہ کا جملہ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت غوث اعظم قدس سرہ العزیز جو اللہ کے نیک بندے اور ولی گزرے ہیں جس طرح ان کی زندگی کا مقصود رضائے الہی رہا ہے اور جس کی وجہ سے ان کی زندگی کامل طور پر اتباع شریعت و احیاء سنت کا جیتا جاگتا نمونہ رہی ہے اسی طرح ہم بھی ان کے طریق پر عمل پیرا رہ کر مرضیات الٰہی کے مطابق زندگی گزاریں گے۔
تصریحات بالا سے واضح ہے کہ مذکورہ در سوال نعرہ ہائے توحید و رسالت وغیرہ کا عام محافل میں دوران وعظ و تقریر بلند کرنا بر محفل و بر موقع ہو تو کوئی حرج نہیں ہے تاہم بے محفل و بے موقع ہو تو احتراز کرنا چاہئے ۔ مساجد کی حد تک مذکورہ صورتوں کے تحت بلا تصنع و تکلف از خود کوئی نعرہ بلند ہوجائے تو کوئی حرج نہیں تاہم آداب مسجد ہر حال میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔

تاریخ ولادت با سعادت
سوال :   نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد ساری دنیا میں بارہ ربیع الاول کو بڑی تزک و احتشام کے ساتھ منائی جاتی ہے ۔ لیکن بعض حضرات بارہ ربیع الاول کے بجائے دوسری تواریخ کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ قطعی طور پر ولادت نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ کیا ہے وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں تو مہربانی ؟
محمد محی الدین ،ایرہ گڈہ
جواب :  رسول مقبول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت موسم بہار میں دوشنبہ کے دن 12 ربیع الاول سنہ اعام الفیل / (20 اپریل ) 570 ء کو مکہ مکرمہ میں ہوئی ۔ تاریخ انسانیت میں یہ دن سب سے زیادہ با برکت ، سعید اور درخشاں و تابندہ ہے۔
آپؐ کی ولادت کے سلسلے میں یہ بات قطعی اور یقینی ہے کہ ربیع الاول کا مہینہ اور دوشنبہ کا دن تھا اور وقت بعد از صبح صادق و قبل از طلوع آفتا ب۔ دوشنبہ (پیر) کا دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ حضرت ابن عباسؓ  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوشنبہ کو پیدا ہوئے ۔ دوشنبہ کے دن آپؐ کو نبوت سے سرفراز کیا گیا ۔ دوشنبہ کو مکے سے مدینے کو ہجرت کے لئے نکلے اور دوشنبہ کو آپؐ مدینے میں (شاید قباء مراد ہے جو مضافات مدینہ میں ہے) تشریف فرما ہوئے ۔ دوشنبہ کے دن آپؐ نے دارفانی کو خیر باد کہا اور دوشنبہ کے دن ہی آپؐ نے حجر اسود کو (25 برس کی عمر میں) بیت اللہ میں نصب فرمایا تھا (ابن کثیر : السیرۃ النبویہ ، 198:1 ) ، ایک روایت میں دوشنبہ کے ساتھ 12 ربیع الاول کا بھی ذکر ہے اور ساتھ ہی معراج نبوی کا دن بھی دوشنبہ بتایا گیا ہے (کتاب مذکور ، 199:1 ) ۔ جمہورؒ کے نزدیک ولادت مبارک کی تاریخ قمری حساب سے 12 ربیع الاول ہے، مگر کتب سیرت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے سلسلے میں اور تاریخیں بھی مذکور ہیں۔ (شبلی نعمانی نے  سیرت النبی (171:1 ) میں مصر کے مشہور ہیئت دان محمود پاشا فلکی کی تحقیقات کے پیش نظر 9 ربیع الاول 20 اپریل 571 ء کو ترجیح دی ہے ۔ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری نے اپنی کتاب رحمت للعالمین (40:1 ) میں آپؐ کی پیدائش 9 ربیع الاول ، عام الفیل / 22 اپریل 571 ء / یکم جیٹھ 628 بکرمی قرار دی ہے ۔ اس وقت شاہ ایران نوشیروان کے جلوس تخت کا چالیسواں سال تھا اور اسکندر ذوالقرنین کی تقویم کی رو سے سنہ 882 تھا ۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی تحقیق کے مطابق عیسوی تاریخ 17 جون 569 ء تھی دیکھئے Muhammad Rasullah ص : 1 کراچی 1979 ۔ وہی مصنف ، Jurnal of Pak. Historical Society ،  1968 ء کراچی ، 216:16 تا 219 ) ۔

اشیاء کی خریدی پر دکاندار کا بذریعہ قرعہ انعام کا اعلان
سوال :   ہر سال خرید و فروخت کی ایک اسکیم شہر کے کئی دکانوں میں چلائی جاتی ہے جس کے ذریعہ گاہک کو ایک مقررہ قیمت کی اشیاء کی خریداری پر ایک لکی کوپن دیا جاتا ہے اور بعد میں ہر ایک کوپن دو مرتبہ ڈرا کیلئے قابل قبول ہوتے ہیں۔ اس میں گاہک کواپنی پسند کی چیز تو مل جاتی ہے تاہم ایک خواہش بھی دل میں انعام جیتنے کی ہوتی ہے ۔ بعض اصحاب اسے جوے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائے تو مہربانی ہوگی۔
شیخ عثمان، پھسل بنڈہ
جواب :  دکاندار، گاہک کو اپنی اشیاء کی خریدی کی طرف راغب کرنے کیلئے کئی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی اشیاء مقررہ قیمت پر اپنے گاہک کو دیتے ہیں، ساتھ میں ایک ٹوکن بھی دیتے ہیں اور قرعہ میں اس کا نام نکل آئے تو دکاندار اپنی جانب سے اس کو معلنہ انعام دیتا ہے۔  ایسی خرید و فروخت شرعاً جائز ہے اور انعام لینا بھی درست ہے ۔ اس میں جوے کا کوئی شائبہ نہیں۔ جوے میں اصل قیمت خود خطرے میں ہوتی ہے اور مذکورہ در سوال خرید و فروخت میں اصل قیمت کے عوض اس کو اس کی پسندیدہ چیز مل جاتی ہے ۔ لہذا اس طرح کی اسکیم سے مسلمان کا استفادہ کرنا شرعاً درست ہے۔

TOPPOPULARRECENT