Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / دبیرپورہ میں دستیاب خاتون کی نعش کی شناخت

دبیرپورہ میں دستیاب خاتون کی نعش کی شناخت

بیوی کے قتل کے بعد دبئی فرار ہونے والے شوہر کے خلاف مقدمہ

حیدرآباد 21 مئی (سیاست نیوز) دبیرپورہ علاقہ میں ریلوے پٹریوں کے قریب ایک خاتون کی نعش ایک بیاگ سے دستیاب ہوئی جس کے بعد علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔ انسپکٹر دبیرپورہ ڈی وینکنا نائک کے بموجب مقامی عوام نے نعش کو بیاگ میں ٹیپ کے ذریعہ پیاک کرکے دبیرپورہ ریلوے اسٹیشن کے قریب پھینک دیئے جانے کی اطلاع پولیس کو دی جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس کی ٹیم مقام واردات پر پہونچ گئی اور وہاں پر ڈاگ اسکواڈ اور سراغ رسانی دستے کو طلب کرلیا گیا۔ ابتداء میں پولیس کو خاتون کی شناخت میں دشواری پیش آئی بعدازاں مقتولہ کی شناخت 30 سالہ زیبا ناز کی حیثیت سے کی گئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ زیبا ناز کی والدہ سکینہ بیگم ساکن پردہ گیٹ کنگ کوٹھی نے پولیس نارائن گوڑہ سے ایک شکایت درج کروائی جس میں یہ بتایا تھا کہ اُن کی بیٹی زیبا ناز اپنے تین بچوں کے ساتھ اُس کے شوہر اکبر علی خان عرف حیدر کے ساتھ اُس کے سسرالی مکان گئی تھی اور واپس نہ لوٹی۔ اِس ضمن میں پولیس نارائن گوڑہ نے گمشدگی کا ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے خاتون کی تلاش شروع کی تھی کہ خاتون کا قتل کی اطلاع ملی۔ پولیس نے بتایا کہ زیبا ناز اکبر علی خان حیدر کی دوسری بیوی تھی اور اُس کے بچے بھی تھے۔ حیدر گزشتہ 4 سال سے دوبئی میں ملازمت کررہا تھا۔ دونوں کے درمیان کچھ مسائل درپیش تھے جس کے نتیجہ میں اُن کی بیٹی زیبا ناز اپنے بچوں کے ساتھ اُن کے مکان میں مقیم تھی۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ زیبا ناز کی شادی 7 سال قبل اکبر علی خان عرف حیدر سے ہوئی تھی اور کچھ مسئلہ پر دونوں کی ازدواجی زندگی میں تنازعہ پیدا ہوگیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدر نے 19 مئی کو اپنی بیوی کو مکان طلب کیا جہاں پر اُس کا قتل کرنے کے بعد نعش کو بیاگ میں پیاک کرکے ریلوے اسٹیشن کے قریب پھینک دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حیدر زیبا ناز کا قتل کرنے کے بعد اپنے بچوں کے ساتھ دوبئی فرار ہوگیا۔ پولیس نے بیاگ سے دستیاب نعش کو دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقل کیا جہاں پر یہ معلوم ہوا کہ مقتولہ خاتون کے سر اور پیٹھ پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کیا گیا اور اُس کا گلا بھی گھوٹا گیا۔ پولیس دبیرپورہ نے اس سلسلہ میں قتل کا ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا اور شواہد کے لئے علاقہ کے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT