Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / دبیر پورہ دروازہ حیدرآباد کے عظمت رفتہ کی یادگار

دبیر پورہ دروازہ حیدرآباد کے عظمت رفتہ کی یادگار

حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری : شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد دنیا بھر میں اپنی کئی خصوصیات کے لیے شہرت رکھتا ہے ۔ ہندوستان میں اسے چھوٹا ہندوستان اور عالمی سطح پر ہندوستان میں اردو کا مرکز کہا جاتا ہے ۔ یہ شہر باغات ، محلات ، دیوڑھیوں ، جامعات ( یونیورسٹیز ) اور تعلیمی ادارہ جات ، تالابوں ، کنٹوں ، جھیلوں کے لیے بھی مشہور ہے جب کہ تاریخی کتب میں ہ

حیدرآباد ۔ 27 ۔ جنوری : شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد دنیا بھر میں اپنی کئی خصوصیات کے لیے شہرت رکھتا ہے ۔ ہندوستان میں اسے چھوٹا ہندوستان اور عالمی سطح پر ہندوستان میں اردو کا مرکز کہا جاتا ہے ۔ یہ شہر باغات ، محلات ، دیوڑھیوں ، جامعات ( یونیورسٹیز ) اور تعلیمی ادارہ جات ، تالابوں ، کنٹوں ، جھیلوں کے لیے بھی مشہور ہے جب کہ تاریخی کتب میں ہمارے شہر کو فصیل بند شہر بھی کہا گیا ہے اور فصیل بند شہر کی کچھ نشانیاں اب بھی حیدرآباد دکن کے حکمرانوں کی دور اندیشی و فراست اور جذبہ رعایا پروری کی یاد دلاتے ہیں ۔ قارئین ہم جب فصیل بند شہر اور اس کی باقی بچی نشانیوں کی بات کرتے ہیں تو دبیر پورہ دروازہ خود بخود ہمارے ذہنوں میں آجاتا ہے ۔ آصف جاہ اول نواب میر قمر الدین علی خاں بہادر کے دور حکمرانی میں دبیر پورہ شہر کا آخری حصہ مانا جاتا تھا ۔ شہر کی آبادی میں بہت زیادہ اضافہ کے باعث قطب شاہی حکمرانوں نے 1591 میں شہر حیدرآباد قائم کیا اور آصف جاہی دور میں اس وقت کے اس نئے شہر کو بہت وسعت دی گئی اسے سجایا اور سنوارا گیا ۔

چونکہ قطب شاہی دور سے ہی ہمارا شہر ہیضہ پلیگ جیسی وباؤں اور سیلابوں میں گھرا رہتا تھا اس لیے آصف جاہ اول نے اپنے شہریوں کو وبائی امراض اور آفات سماوی کے اثرات سے محفوط رکھنے کے لیے شہر کے اطراف فصیلیں تعمیر کرنے اور ان میں بلند و بالا اور وسیع و عریض دروازے نصب کرنے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلہ پر اپنے فرزند دلبند نواب صلابت جاہ بہادر کی مدد سے عمل آوری کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے صلابت جاہ بہادر کو شہر کے جنوبی حصہ میں ایک دیوار تعمیر کرنے کی ہدایت دی ۔ یہی وجہ ہے کہ شہر حیدرآباد کو فصیل بند شہر بھی کہا جاتا ہے ۔ تاریخی کتب کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ پہلے اس دیوار میں 13 دروازے نصب کئے گئے ۔ جب کہ بے شمار ذیلی دروازے ( کھڑکیاں ) بھی بنائی گئیں تاکہ رات کے اوقات میں جب کہ دروازے بند ہوں ان کھڑکیوں یا ذیلی دروازوں کا ہنگامی حالات میں استعمال کیا جاسکے ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم نے جن 13 دروازوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے جنازے اور ارتھیاں نہیں گذرتے تھے اس کے لیے ذیلی دروازوں یا کھڑکیوں کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ 13 دروازہ میں دہلی دروازہ ، پرانا پل کا دروازہ جسے بہادر پورہ کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے ۔ علی آباد کا دروازہ ، لال دروازہ ، فتح دروازہ ، یاقوت پورہ کا دروازہ ، گولی پورہ کا دروازہ ، دودھ باولی کا دروازہ ، چادر گھاٹ کا دروازہ ، چمپا دروازہ ، میر جملہ کٹہ دروازہ اور نیا پل دروازہ شامل تھے جب کہ نواب میر محبوب علی خاں بہادر کے دور میں ایک اور دروازہ مسلم جنگ کے نام سے نصب کروایا گیا تھا ۔ اس طرح سطور بالا میں جن ذیلی دروازوں اور کھڑکیوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں رنگیلی شاہ کی کھڑکی ، بود علی شاہ کی کھڑکی ، کوٹ کمندان کی کھڑکی ، غازی بنڈہ کی کھڑکی بواہیر کی کھڑکی ( دریچہ بواہیر ) ، میر جملہ کی کھڑکی ، ماتا کی کھڑکی ، گلال کی کھڑکی ، چار محل کی کھڑکی ، چمپا دروازہ کی کھڑکی ، حسن لال کی کھڑکی اور دارالشفاء کی کھڑکی شامل ہیں ۔ یہ کھڑکیاں 1914 تک بھی پورے آب و تاب کے ساتھ قائم تھیں لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ایسا لگتا ہے

کہ یہ کھڑکیاں اور دروازے سب بند ہوچکے ہیں ۔ جہاں تک دروازہ کا سوال ہے ان دروازوں میں صرف اور صرف دبیر پورہ دروازہ ہی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑا ہے جو بہت ہی اچھی حالت میں ہے اور اس دروازہ کو حقیقت میں حیدرآباد کی عظمت رفتہ کی شاندار یادگار کہہ سکتے ہیں جو خاموشی سے ہمارے شہر کے سنہری ماضی کو یاد دلاتا رہتا ہے ۔ اس کے برخلاف پرانا پل کا دروازہ موجود ضرور ہے لیکن شہریان حیدرآباد کی غفلت عہدیداروں کی تنگ ذہنی اور تعصب کے باعث اپنی عظمت کھوچکا ہے اور اسے ایک ناجائز مذہبی ڈھانچہ میں تبدیل کردیا گیا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس طرح کی حرکت غیر قانونی ہے قانون کے رکھوالوں کو اس تہذیبی آثار ( پرانا پل دروازہ ) کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ آصف جاہ اول کے دور میں تعمیر کردہ ان دروازہ کو رات 8 بجتے ہی بند کردیا جاتا تھا اور علی الصبح 4-30 بجے کھولا جاتا تھا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں سونے اور جاگنے کے ضمن میں حکم رسول اللہ ﷺ پر پوری طرح عمل کیا جاتا تھا ۔ جس کے نتیجہ میں شہری کافی خوشحال تھے اور حیدرآباد دکن کا شمار دنیا کی دولت مند ترین مملکتوں میں ہوا کرتا تھا ۔ بہرحال جو دروازے اور کھڑکیاں باقی ہیں ان کا تحفظ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT