Tuesday , December 12 2017
Home / ہندوستان / دتاتریہ اور سمرتی کیخلاف کارروائی کیلئے مایاوتی کا مطالبہ

دتاتریہ اور سمرتی کیخلاف کارروائی کیلئے مایاوتی کا مطالبہ

دلت طالب علم کی خودکشی کے معاملہ میں مودی حکومت پر اپوزیشن کے حملہ میں شدت
پٹنہ ؍ جموں ؍ لکھنؤ۔ 20 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک دلت طالب علم کی حیدرآباد میں خودکشی پر مودی حکومت کے خلاف اپوزیشن نے اپنے حملہ میں شدت پیدا کردی ہے جیسا کہ چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج کہا کہ عدم رواداری کا ماحول اس واقعہ کا موجب بنا جبکہ کانگریس نے وزیراعظم سے اپنی خاموشی توڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حیدرآباد اور دیگر شہروں میں اس واقعہ کے خلاف احتجاجوں میں کوئی نرمی نہیں آئی۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر اور نیشنل کانفرنس سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس معاملہ کی عاجلانہ مرکزی تحقیقات ہونی چاہئیں اور مرکز کو متنبہ کیا کہ یہ واقعہ حد سے زائد بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے گا اور تب اس پر کنٹرول مشکل ہوجائے گا۔ دریں اثناء بی ایس پی کی صدر اور اترپردیش کی سابق چیف منسٹر مایاوتی نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی مبینہ خودکشی کے مسئلہ پر دو مرکزی وزراء سمرتی ایرانی اور بنڈارودتاتریہ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ایچ سی یو کے وائس چانسلر اپا راؤ کے خلاف بھی سخت کارروائی پر زور دیا۔ مایاوتی نے آج لکھنؤ میں جاری کردہ صحافتی بیان میں کہا کہ ’’دلت طالب علم روہت ویمولا کے خلاف ان وزراء کا رویہ انتہائی قابل مذمت اور غیرجمہوری رہا۔ بی ایس پی اس ضمن میں دو مرکزی وزراء اور وائس چانسلر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے، جنہوں نے روہت کو خودکشی کیلئے مجبور کیا ‘‘۔ بی ایس پی سربراہ نے مزید کہاکہ آزادی کے بعد ملک میں ایسی صورتحال پیدا کی گئی جہاں بی جے پی وزراء دستوری وقار کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پٹنہ میں چیف منسٹر نتیش نے کہا کہ یہ ملک کیلئے تشویش کا معاملہ ہے۔ نئی دہلی میں کانگریس ترجمان دیپندرسنگھ ہوڈا نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم مودی اس معاملہ میں اپنی خاموشی توڑتے ہوئے دتاتریہ کو برطرف کردیں۔

TOPPOPULARRECENT