Monday , December 18 2017
Home / مضامین / دربار میں جب عہدوں کیلئے پَیروں پہ اَنا گرجاتی ہے (ملک کے موجودہ ماحول پر منوّر رانا کی فکرمندی)

دربار میں جب عہدوں کیلئے پَیروں پہ اَنا گرجاتی ہے (ملک کے موجودہ ماحول پر منوّر رانا کی فکرمندی)

سید جلیل ازہر
شاعرانہ عظمتوں کے حساب سے ایک ایسا شخص جو شاعری کا چلتا پھرتا اسکول ہے  ، جس نے اپنی شاعری کے ذریعہ پوری اردو دنیا کو ایسا پیغام دیا ہے جو لوگ انتہائی ادب و احترام سے ان کی شاعری سنتے اور پڑھتے ہیں ۔ وہ کوئی اور نہیں آج ساری دنیا میں قومی چینلوں اور اخباروں کی سرخیوں میں آگئے ہیں جناب منور رانا ۔ دور حاضر میں ہندوستان کے ممتاز شعراء میں آپ کا شمار ہوتا ہے ۔ وہ شاعر شہرت نے جس کے قدموں میں سر رکھا ، عظمت نے جس کی پیشانی کو بوسے دئے ، ماں جیسی مقدس ہستی سے نافرمانی کرنے والی اولاد کو اشعار کے ذریعہ ماں کی اہمیت کے احساس کو جگایا ۔ منور رانا نے ماں پر شاعری کی ہے ، معشوقہ کی جگہ ماں کو لا کر منور رانا نے ادب کی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام ہی نہیں اردو ادب کی عظیم شخصیت کہلانے لگے  ۔ جبکہ چالیس سالہ دور شاعری میں انہیں ملی مقبولیت اپنی جگہ لیکن دو ہفتوں میں منور رانا نے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ کی واپسی کے بعد آج دنیا میں جہاں جہاں اردو بولی اور پڑھی جاتی ہے بلکہ قومی میڈیا کی سرخیوں میں منور رانا ہر کسی کی زبان پر آگئے ۔ آج ملک کے ہر ٹی وی چینل پر ملک کے حالات کو بڑی بے باکی سے بیان کرتے ہوئے ، ایک چینل پر پھوٹ پھوٹ کر رودیئے ۔ اس تناظر میں راقم الحروف نے یکم نومبر کو منور رانا سے فون پر بات چیت کی اور اپنا تعارف کروایا تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ حیدرآباد ۔ انہوں نے کہا میں مدیر اعلی جناب زاہد علی خان صاحب سے بے پناہ محبت کرتا ہوں ۔ آپ 4 نومبر کو میرا انٹرویو فون پر لے سکتے ہیں ۔ سید جلیل ازہر کو منور رانا نے خرابی صحت کے باوجود 4 نومبر کی شام فون پر انہوں نے انٹرویو دیا ۔ میں نے حالات حاضرہ اور ایوارڈ کی واپسی پر سوال کیا تو ایسے جذبات اور احساسات کا اظہار اس عظیم شخصیت نے کیا کہ مجھے دوسرا سوال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی  ۔میرا سوال تھا کہ منور رانا صاحب ! آپ کا ایوارڈ واپس کرنا قابل قدر کارنامہ ہے ۔ آپ نے ملک کے بگڑتے ہوئے حالات کے تناظر میں جو فیصلہ کیا ہے درست ہوگا لیکن ہر طرف یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ ایوارڈ کی واپسی میں تاخیر کیوں کی ؟
منور رانا نے بے ساختہ کہا کہ اللہ نے توفیق دی اور میں نے یہ فیصلہ لے لیا ۔ اس لئے کہ

شکیب اپنے تعارف کے لئے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہوجائے
ہمارا مسئلہ تمام لوگوں سے مختلف ہے ۔ ایک اقلیتی فرد ، اقلیتوں کا سچا درد رکھنے کے سبب غریبوں اور پریشان حال لوگوں کے بارے میں قلم کے ذریعہ حکمرانوں کو توجہ دلاتا ہے جبکہ قومی لیڈران عوام کو فائدہ پہنچانے کے بجائے اپنا فائدہ پیش نظر رکھ کر کام کررہے ہوں ۔ ایسے وقت میں میری آواز یعنی ایک شاعر کی آواز جس میں فاقہ کی بھوک بھی شامل ہو اور بلبل کی خوش ترنگ آواز بھی شاید اللہ نے اس شاعر کی آواز سے ہمارے وطن کی ویرانی سونے کی چڑیا واپس کردے ۔ جب لوگ دنیا کے کنارے بیٹھ کر وضو کیا کرتے تھے ، اور ہمارے برادران وطن گنگا میں اشنان کیا کرتے تھے ظاہر ہے کہ اس شور اور ہنگامہ میں میری آواز طوطی سے بھی کمزور ہوگی  ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کبھی کبھی خوش رنگ پتوں کی رگڑ سے بھی آگ نکل پڑتی ہے۔چالیس برس سے ہماری زندگی آئینہ ہے ۔
سرپھرے لوگ ہمیں دشمن جاں کہتے ہیں
ہم جو اس ملک کی مٹی کو بھی ماں کہتے ہیں
تجھکو اے خاک وطن میرے تیمم کی قسم
تو بتادے جو یہ سجدے کے نشاں کہتے ہیں
آج ملک کے سیاسی حالات کا ہر گوشہ عوام کی نگاہ میں ہے وہ دنیا کے سامنے آئینہ ہے ۔ ذرا سوچئے کہ آنے والی نسلیں آج کے سیاسی حالات کے بارے میں کیا سوچیں گی ۔ میرے ایوارڈ کی واپسی کو لیکر آج جو ہنگامہ ہورہا ہے اس کو دنیا دیکھ رہی ہے ۔ میں ملک کے عوام سے یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جب میں نے دادری واقعہ پر آتنکی حملہ کہا تو مجھ جیسے بوڑھے 64 سالہ شاعر کو ٹوئیٹر پر ایک بیس سالہ نوجوان ’’ماں‘‘ کی گالی دیتا ہے ، جب کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا ۔ ملک کے حالات پر غم کی شدت سے ایک ٹی وی چینل پر انٹرویو کے دوران آنسوؤں اور آنکھوں کی جنگ میں آنکھیں ہار جاتی ہیں اور آنسو نکل پڑتے ہیں تو آنسو کو بھی اب ناٹک کہا جارہا ہے ۔ اگر غم کی شدت کے یہ آنسو ناٹک ہے تو پھر ہنسی کو طوائف کی لپ اسٹک کہئے ۔ ہم شاعر ہیں شاعری تو وہ چھنّی ہوئی چاندنی ہے جو ہم اپنے آنسوؤں کی چھنّی سے چھانتے ہیں ۔ لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ میں نے ہمیشہ ’’ماں‘‘ جیسی مقدس ہستی پر ہی شاعری کی اور آج ایک بیس سالہ لڑکا مجھے ٹوئیٹر پر ماں کی گالی دیتا ہے جبکہ میں اپنے اشعار میں بارہا کہہ چکا ہوں ۔

ماں کے آگے کبھی کھل کر نہیں رونا
جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں لگتی
ہماری تہذیب تو ہم کو یہی بتاتی ہے کہ بزرگ ہمارے سمندر ہیں ، ہم ان کے سینے پر اچھلتی کودتی موجوں کی طرح ہیں ۔ منور رانا نے واضح انداز میں کہہ دیا کہ ہمیں اپنی زندگی جینے کا حق ہے ، ہمیں اپنی زندگی میں لکھنے کا حق نہیں ہے ۔ اگر ہم بکاؤ ہیں اگر میں نے اپنے آپ کو بیچا ہے ، ملک کی دلالی کی ہے تو آپ کو پورا حق ہے آپ کسی بھی چوراستہ پر میرا گریباں پکڑ سکتے ہیں ۔ ایوارڈ کی واپسی کو کچھ لوگ سیاسی جوش بھی بتارہے ہیں ۔ میں سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ بنگال میں منور رانا کی مقبولیت کا اندازہ کسی کو نہیں ہے ۔ میں چاہتا تو بیس برس پہلے ہی بنگال سے منسٹر بن جاتا ۔ اس لئے کہ شاعر کی نظر سماج کے ہر کام پر ہوتی ہے ۔ شاعر حالات کو بناتے ہیں اور لیڈر حالات کو بگاڑتے ہیں ، کیوں میں طاقتور قلم کو چھوڑ کر سیاست میں جاؤں ، جہاں
دربار میں جب عہدوں کے لئے پَیروں پہ انا گرجاتی ہے
قوموں کے سر جھک جاتے ہیں چکرا کے حیا گرجاتی ہے
اب تک تو ہماری آنکھوں نے بس دو ہی تماشے دیکھے ہیں
یا قوم کے رہبر گرتے ہیں یا لوک سبھا گرجاتی ہے
آج ہندوستان کے سماج کو اس گندگی سے نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ مرنے والا ابھی جلایا یا دفنایا بھی نہیں جاتا مارنے والے کے گھر والے تھانے میں ضمانت کے لئے چلے آتے ہیں ۔ کیا سماج اتنا بے غیرت ہوگیا ہے ۔ میں ایک سچے ہندوستانی کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں ۔ میرے الفاظ کا اثر اب نہیں میرے مرنے کے بعد ہوگا کیونکہ شاعر زندہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ مرجاتا ہے ۔ کسی بھی قلمکار کو بند کمرہ میں بیٹھ کر الزام دینا یہ ملک کی تہذیب نہیں ہے ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ میری شاعری ماں کے بغیر ادھوری ہے ۔ جب میں نے ایک نظم سونیا گاندھی پر لکھی تو مجھے درباری شاعر کہا جانے لگا ۔ جب کے ان اشعار کو پڑھ کر آپ فیصلہ کریں گے کہ کیا اس میں ماں کے جذبات و احساسات کا اظہار نہیں آتا
اب یہ تقدیر تو بدلی بھی نہیں جاسکتی
میں وہ بیوہ ہوں جو اٹلی بھی نہیں جاسکتی
آگ نفرت کی بھلا مجھکو جلانے سے رہی
چھوڑ کے سب کو مصیبت میں جانے سے رہی
سب مرے باغ کے بلبل کی طرح لگتے ہیں
سارے بچے مجھے راہول کی طرح لگتے ہیں

منور رانا نے کہا کہ ہمارا قلم  وہ قلم نہیں ہے جس سے ناڑا ڈالا جاتا ہے۔ ہم قلمکار ہیں اور انسانیت کی فلاح اور اس کی خدمت ایک سچے شاعر کے مقصد حیات کا حصہ سمجھتے ہیں اور اپنے قلم کے ذریعہ عوامی جذبات واحساسات کو حکومت کے ذمہ داروں تک پہنچاتے ہیں ۔ لیکن سماج میں کچھ لوگ ہمارے جذبات اور احساسات کو تنقید کا نشانہ بنائے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایوارڈ کی واپسی پر وزیراعظم کے دفتر سے دعوت نامہ ملا ہے ۔ آپ کیا کریں گے ۔ وزیراعظم سے ملاقات کے وقت ہی ساری دنیا دیکھ لے گی کہ کیا بات چیت دونوں کے درمیان ہوگی لیکن یہ بات واضح کردوں کہ 64 سال کا یہ شاعر 14 وزیراعظم کو دیکھ چکا ہے ۔ چاہتا تو کسی بھی وزیراعظم کے دفتر میں ملاقات کرتے ہوئے چائے نوشی کرلیتا لیکن مجھے وزیراعظم سے ملنے یا مقبولیت حاصل کرنے کے لئے یہ سب کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ اس لئے کہ ستّا (اقتدار) ہماری علاقہ رائے بریلی کی نالیوں سے گذر کر دلی پہنچتی ہے ۔ ہمیں سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ مجھے PMO آفس سے فون آیا تھا جب میں گوالیار کے مشاعرہ میں تھا ۔ اب جب بھی بلایاجائے گا میں ملاقات کروں گا ۔ منور رانا نے آخر میں یہ کہا کہ ہم ملک کے 75 کروڑ ہندوؤں کی نگہبانی میں رہتے ہیں ۔ مشکل یہ ہے کہ آپ کھل کر ہم سے محبت نہیں کرتے ۔ ہم ملک کے حالات اچھے کرنے کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں ۔
ساری دنیا میں قلمکاروں کی وقعت گرجائے
میں قلم رکھدوں تو الفاظ کی صحت گرجائے
واضح رہے کہ منور رانا نے تیس برس قبل سرزمین حیدرآباد میں شنکر جی میموریل سوسائٹی کے مشاعرہ میں پہلا شعر یہ پڑھا تھا کہ
ہم سایہ دار پیڑ زمانہ کے کام آئے
جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے
راقم الحروف اس مشاعرہ میں موجود تھا ۔ ان کی توجہ میں اس جانب کروائی تو انہوں نے بے ساختہ کہا کہ میں عابد علی خاں صاحب مرحوم کا بے انتہا ممنوں و مشکور ہوں بلکہ شرمندہ احسان ہوں ۔ انہوں نے اس وقت کے مشہور روزنامہ کلکتہ سے شائع ہوتا ہے ’’آواز ہند‘‘ ، اس کے ایڈیٹر احمد سعید ملیح آبادی کو ایک خط لکھا تھا کہ دو نوجوان شاعر شنکر جی مشاعرہ میں بھیجیں اور خوش قسمتی سے منور رانا کی شرکت اس مشاعرہ میں ہوئی  ۔ یہیں سے مقبولیت بھی میرے قدم چومنے لگی ۔ عابد علی خاں صاحب کے انتقال کے بعد اس تسلسل کو زاہد علی خاں صاحب مدیر اعلی نے برقرار رکھا  ۔ جناب زاہد علی خاں  اور عامر علی خاں صاحب کے تعلق سے اتنا کہوں گا ’’پھول پر باغ کی مٹی کا اثر آتا ہے‘‘ ۔ ساتھ ہی حیدرآبادیوں کی محبت کو میں آخری سانس تک اس لئے نہیں بھلاپاؤں گا کہ آج دنیا کے کسی بھی حصہ میں دبئی ، سعودی عرب ، مسقط کوئی بھی ملک جو مشاعرہ میں شرکت کے بعد حیدرآبادی جو میری مہمان نوازی کرتے ہیں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں شاعر حیدرآباد کا ہوں ۔ اس بے پناہ حیدرآبادیوں کی محبت میرے لئے ایک سرمایہ ہے ۔
یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ شنکر جی مشاعرہ کے بعد منور رانا نے ادب کی دنیا میں اپنی ایک چھاپ چھوڑی ہے ۔ اس مشاعرہ میں اس وقت کے مشہور ناظم مشاعرہ جناب زبیر رضوی نظامت کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ منور رانا اور زبیر رضوی کے درمیان نوک جھونک ہورہی تھی تو زبیر رضوی نے لطیفہ سنادیا جبکہ منور رانا نے فوری جو آج بھی حاضر جوابی میں جواب نہیں رکھتے کہا کہ
گھر کی دیوار پر کوّے نہیں اچھے لگتے
مفلسی میں یہ تماشے نہیں اچھے لگتے
جہاں موجود ہوں میر و غالب کی نسلیں
ایسی محفل میں لطیفے نہیں اچھے لگتے
انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں یہ شعر کہے    ؎
بلندی دیر تک کس شخص کے حصہ میں رہتی ہے
بہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے
یہ اپنے آپ کو تقسیم کرلیتے ہیں صوبوں میں
خرابی بس یہی ہر ملک کے نقشہ میں رہتی ہے

TOPPOPULARRECENT