Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / دربار میں جب عہدوں کیلئے پیروں پہ انا گرجاتی ہے

دربار میں جب عہدوں کیلئے پیروں پہ انا گرجاتی ہے

پی ڈی پی ۔بی جے پی اتحاد موقع پرستانہ
یوم پاکستان …قوم پرستی کے دوہرے معیارات

رشیدالدین
ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر میں پھر ایک بار سیاسی موقع پرستی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملے گا ۔ تقریباً 3 ماہ کی غیر یقینی کیفیت کے بعد آخر کار پی ڈی پی اور بی جے پی نے دوبارہ مخلوط حکومت کے قیام سے اتفاق کرلیا ہے۔ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد 9 جنوری سے کشمیر میں صدر راج نافذ ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں معلق اسمبلی کے بعد پی ڈی پی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے گزشتہ سال مارچ میں حکومت تشکیل دی تھی جو 10 ماہ قائم رہی۔ بی جے پی کا دیرینہ خواب تھا کہ مسلم اکثریتی ریاست پر حکمرانی کرے اور مخلوط حکومت کی صورت میں یہ موقع اسے مل گیا۔ مفتی محمد سعید اپنے دیرینہ تجربہ کے ساتھ بی جے پی اور مرکز سے نمٹ سکتے تھے لیکن ان کے بعد پارٹی میں خلاء پیدا ہوگیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنے والد سے سیاست ضرور سیکھی لیکن ان کی گرفت پارٹی پر ابھی بھی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران محبوبہ مفتی نے تشکیل حکومت کے سلسلہ میں کئی موقف تبدیل کئے۔ کبھی مرکز پر کشمیر سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کا الزام عائد کیا تو کبھی بی جے پی پر پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی شکایت کی ۔

انہوں نے وادی کے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گی۔ محبوبہ مفتی کی مشکلات میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب بی جے پی نے مطالبات قبول کرنے سے انکار کردیا۔ آخر کار وزیراعظم نریندر مودی کو مداخلت کرنی پڑی اور محبوبہ مفتی کی مودی سے ملاقات کے بعد تشکیل حکومت کی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔ اس طرح کشمیر میں ایک موقع پرست اتحاد دوبارہ تشکیل حکومت کی تیاری کر رہا ہے۔ محبوبہ مفتی نے مودی سے ملاقات کے بعد کہا کہ وہ بات چیت سے مطمئن ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ملاقات میں کشمیر کیلئے کیا حاصل کیا گیا۔ گزشتہ تین ماہ سے جو مطالبات پیش کئے گئے کیا ان کی تکمیل ہوگئی ؟ محبوبہ مفتی نے مشترکہ اقل ترین پروگرام اور پیکیج کے بارے میں جو مطالبات رکھے تھے کیا وزیراعظم نے انہیں قبول کرلیا ؟ حکومت کی تشکیل سے قبل دونوں پارٹیوں کو درپردہ مفاہمت کے بارے میں عوام کو واقف کرانا ہوگا۔ نریندر مودی سے ملاقات ہوئی ، آخر کیا بات ہوئی ؟ کشمیری عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے۔ تشکیل حکومت میں تین ماہ تک عدم دلچسپی اور پھر اچانک قیام حکومت کی وضاحت کی جانی چاہئے ۔ دراصل تشکیل حکومت دونوں پارٹیوں کی مجبوری ہے۔ دونوں بھی اقتدار کے بغیر رہنا نہیں چاہتے۔ اصولوں اور اقدار  کی دہائی دینے والوں نے آخر کار اقتدار کیلئے سمجھوتہ کرلیا۔ کشمیر میں مجالس مقامی کے انتخابات مئی میں مقرر ہیں اور پارٹی کے عوامی نمائندوں کو اس کی تیاری کرنی ہے، لہذا پی ڈی پی کے اندر سے محبوبہ مفتی پر زبردست دباؤ تھا۔

یہاں تک اطلاعات ہیں کہ اگر تشکیل حکومت میں مزید تاخیر کی جاتی تو پارٹی میں پھوٹ کا اندیشہ تھا اور ارکان کا ایک گروپ بی جے پی کے ساتھ جانے تیار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ بھی حاصل کئے بغیر محبوبہ مفتی نے حکومت سازی سے اتفاق کرلیا تاکہ پارٹی کو بچایا جاسکے۔ اقتدار کیلئے ارکان کی بے چینی نے محبوبہ مفتی کو مطالبات ترک کرنے پر مجبور کردیا۔ گزشتہ سال اتحاد کے قیام کے وقت سیاسی مبصرین نے پیش قیاسی کی تھی کہ یہ ناپائیدار ہوگا کیونکہ شاخ نازک پر آشیانہ بنانے کی  کوشش کی جارہی ہے ۔ دونوں پارٹیوں کا اقل ترین مشترکہ پروگرام تیار کیا گیا تھا، اس پر کس حد تک عمل آوری ہوئی اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ وزیراعظم نے سیلاب کے متاثرین کیلئے امداد کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک متاثرین امداد سے محروم ہیں۔ اقل ترین پروگرام میں مسلح افواج کو زائد اختیارات سے دستبرداری اور حریت کانفرنس سے مذاکرات کی شرائط شامل تھیں لیکن گزشتہ 10 ماہ کے دوران ان دونوں امور پر شائد ہی کوئی پیشرفت ہوئی ہو، کشمیر میں سیکوریٹی فورسس اپنے زائد اختیارات کا استعمال بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے حکومت ہند نے حریت کے دونوں گروپس سے مذاکرات شروع نہیں کئے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مرکزی حکومت مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے مذاکرات کر رہی ہے لیکن کشمیری عوام کے من کی بات جاننے تیار نہیں۔ اس صورتحال میں کشمیری عوام اس اتحاد کے بارے میں اپنا فیصلہ سنانے کیلئے بے چین ہیں۔ مجوزہ مجالس مقامی اور محبوبہ مفتی کی لوک سبھا نشست کے ضمنی چناؤ میں کشمیری عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ اقل ترین مشترکہ پروگرام میں کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 کو برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا لیکن کشمیر کے باہر بی جے پی اور سنگھ پریوار اس مسئلہ پر اپنا موقف نرم کرنے تیار نہیں ہیں ۔ بی جے پی کے ایجنڈہ میں دفعہ 370 کی برخواستگی ابھی بھی شامل ہے۔ مبصرین کے مطابق دوبارہ مخلوط حکومت کے قیام کا فیصلہ پی ڈی پی اور بی جے پی دونوں کیلئے مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ پی ڈی پی کو کشمیر میں جبکہ بی جے پی کو کشمیر کے باہر اتحاد سے نقصان ہوگا۔ چار ریاستوں کے مجوزہ انتخابات میں بی جے پی کو پی ڈی پی سے اتحاد کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ چار ریاستوں میں ایک بھی ریاست ایسی نہیں جہاں بی جے پی کا موقف مستحکم ہو، ایسے میں کشمیر میں حکومت کا قیام ہندو ووٹرس میں ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔ محبوبہ مفتی جموں و کشمیر کی پہلی خاتون چیف منسٹر ہوں گی۔ مسلم اکثریتی ریاست کیلئے یہ پہلا تجربہ ہے۔ اسلام میں عورت کو اقتدار پر فائز کرنے کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ اسلام نے جن بنیادوں پر اس کی مخالفت کی، بھلے ہی اس کو بعض گوشے تسلیم نہ کریں لیکن جن ممالک میں خواتین نے اقتدار سنبھالا اس کے نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ الغرض جموں و کشمیر پر حکمرانی محبوبہ مفتی کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

اقتدار و کرسی کیلئے پی ڈی پی اور بی جے پی نے بھلے ہی پھر اتحاد کرلیا ہو لیکن آج بھی کئی سوال ایسے ہیں جن کا جواب دونوں کو دینا ہوگا۔ قوم پرستی اور حب الوطنی کی ٹھیکیدار بی جے پی کے دہرے معیارات آشکار ہوچکے ہیں۔ بی جے پی نے ایسی پارٹی سے اتحاد کیا جو افضل گرو کو شہید مانتی ہے۔ ہندوستان کی کوئی سیاسی پارٹی یا کوئی قائد اس طرح کا بیان دے تو اس پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے لیکن پی ڈی پی کے بارے میں بی جے پی خاموش ہے۔ کیا پی ڈی پی نے افضل گرو پر اپنا موقف تبدیل کرلیا ہے ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں افضل گرو کی یاد منانے والے طلبہ پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا گیا لیکن کشمیر میں پی ڈی پی سے اتحاد بی جے پی کے دوہرے معیارات کو ثابت کرتا ہے۔ کیا بی جے پی کشمیر کو ہندوستان کا حصہ نہیں مانتی؟ ملک کے دیگر علاقوں اور کشمیر میں الگ الگ موقف آخر کیوں ؟ کیا بی جے پی کیلئے کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ علحدہ مملکت ہے ؟ کشمیر میں یوم جمہوریہ اور یوم آزادی کے موقع پر ترنگا کے ساتھ کشمیر کا علحدہ پرچم لہرایا جاتا ہے اور عدالت نے اس کی اجازت دی ہے۔ کہاں گئی بی جے پی کی قوم پرستی؟ بی جے پی کے دوہرے معیارات کی ایک اور مثال پاکستانی ہائی کمیشن نے یوم پاکستان تقریب میں مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر کی شرکت ہے۔ نریندر مودی کی جانب سے پاکستانی حکمرانوں کو سالگرہ اور دیگر عید و تہوار کی مبارکباد کی پیشکشی الگ بات ہے لیکن اکھنڈ بھارت نظریہ کو ماننے والے اس تقریب میں کس طرح شریک ہوئے؟ گزشتہ سال مملکتی وزیر خارجہ وی کے سنگھ نے اس تقریب میں شرکت کی تھی۔ سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ نے جس وقت شرکت کی ، سرحد پر ہندوستانی سپاہی وطن پر اپنی جان نچھاور کر رہے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے آخری سانس تک قیام پاکستان کو تسلیم نہیں کیا لیکن اکھنڈ بھارت کے علمبردار قیام پاکستان کی سالگرہ میں پہنچ گئے۔ وزراء کی شرکت کو صرف ’’سفارتی روایت‘‘ قرار دیکر جاؤڈیکر کی شرکت کی تائید کی جارہی ہے۔ یو پی اے دور میں جب کانگریس کے وزراء نے اس تقریب میں شرکت کی تھی تو بی جے پی نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا۔ کیا بی جے پی نے پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کو بھلا دیا ہے۔ دیش بھکتی اور قوم پرستی پر دہرے معیارات کا جواب وزیراعظم کو دینا ہوگا۔ اگر کوئی مسلم قائد پاکستانی ہائی کمشنر کی تقریب میں شرکت کرلے تو کیا بی جے پی اور سنگھ پریوار خاموش رہے گا ؟

آپ کچھ بھی کریں قوم پرستی اور وہی کام دوسرے کریں تو ملک دشمنی ۔ ممبئی ، پارلیمنٹ اور پٹھان کوٹ دہشت گرد حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے سے پاکستان بھلے ہی انکار کرے لیکن نریندر مودی کو نواز شریف سے ملاقات میں بڑی بے چینی ہے۔ جاریہ ماہ پھر ایک بار دونوں قائدین کی ملاقات متوقع ہے۔ پاکستان سے تعلقات میں بہتری کی مخالفت نہیں کی جاسکتی اور دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیںکہ کشیدگی کم ہو اور مسائل کی یکسوئی میں دونوں ممالک مشترکہ مساعی کریں۔ تاہم خیرسگالی کا جواب دہشت گردی سے نہیں بلکہ خیرسگالی سے ہونا چاہئے ۔ واجپائی اور پھر منموہن سنگھ دور حکومت میں ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ فراخدلانہ اور بڑے بھائی جیسا رویہ اختیار کیا لیکن افسوس کہ جواب میں ہندوستان کو سرحد پر دہشت گردی اور ہندوستانی سپاہیوں کی شہادت حاصل ہوئی۔ کشمیر میں حکومت سازی کا معاملہ ہو یا پھر پاکستان سے تعلقات دونوں میں بی جے پی نے قومی مفاد کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اپنے دور میں تمام ممالک سے بہتر تعلقات قائم کرتے ہوئے مقبولیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں ملک کو درپیش مسائل سے زیادہ اپنی شہرت عزیز ہے اور نواز شریف سے ملاقات میں جس قدر شہرت حاصل ہوتی ہے اس کا اندازہ ہر کسی کو ہے۔ کشمیر و پاکستان سے متعلق مرکز کی پالیسی کے پس پردہ کسی بڑی طاقت کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ طاقت سوائے امریکہ کے اور کوئی ہو نہیں سکتی۔ امریکہ نے دونوں ممالک کی ڈور اپنے ہاتھ میں رکھی ہے، جس کے مطابق حکومتیں کٹھ پتلی کی طرح کام کر رہے ہیں۔ عوام کی بھلائی بھلے ہی نہ ہوں لیکن امریکی مفادات کی تکمیل دونوں حکمرانوں کو زیادہ عزیز ہے۔ کشمیر میں مخلوط حکومت کے مستقبل کے بارے میں عمر عبداللہ نے درست کہا کہ ’’پکچر ابھی باقی ہے دوست‘‘۔ منور رانا نے کچھ اس طرح تبصرہ کیا ہے   ؎
دربار میں جب عہدوں کیلئے پیروں پہ انا گرجاتی ہے
قوموں کے سر جھک جاتے ہیں چکراکے حیاء گرجاتی ہے

TOPPOPULARRECENT