Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / درج فہرست اقوام کے طلبہ کو بیرون ممالک تعلیم کے لیے مالی امداد

درج فہرست اقوام کے طلبہ کو بیرون ممالک تعلیم کے لیے مالی امداد

حیدرآباد۔10۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ایک طرف تلنگانہ میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی سے محروم ہیں تو دوسری طرف حکومت نے درج فہرست اقوام سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے 10 لاکھ روپئے کی مالی امداد کی اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال درج فہرست اقوام کے 500 طلبہ

حیدرآباد۔10۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ایک طرف تلنگانہ میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی سے محروم ہیں تو دوسری طرف حکومت نے درج فہرست اقوام سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے 10 لاکھ روپئے کی مالی امداد کی اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال درج فہرست اقوام کے 500 طلبہ کو امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، کینیڈا اور سنگا پور کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت نے متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او پر عمل آوری جاری رکھتے ہوئے اس اسکیم کو برقرار رکھا ہے۔ عام طور پر ٹی آر ایس حکومت نے سابقہ حکومت کی اسکیمات میں تبدیلی یا پھر انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم درج فہرست اقوام کے طلبہ کی تعلیمی امداد سے متعلق اس اسکیم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ریاست کے اقلیتی طلبہ اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی سے محروم ہیں۔ گزشتہ دو سال سے ان دونوں اسکیمات کی رقم جاری نہیں کی گئی اور جاریہ تعلیمی سال کیلئے ابھی تک درخواستیں وصول کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ۔ دراصل حکومت نے اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی سے متعلق سابقہ اسکیم کے قواعد میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

برخلاف اس کے ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کیلئے سابقہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امبیڈکر اوورسیز ودیانیدھی اسکیم پر عمل آوری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ شیڈول کاسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے 10 لاکھ کی مالی امداد کے سلسلہ میں درخواستیں طلب کی ہیں۔ ایسے طلبہ جن کا تعلق تلنگانہ سے ہے اور جن کے خاندان کی آمدنی سالانہ دو لاکھ سے کم ہو، گریجویشن میں درجہ اول اور پوسٹ گریجویشن میں درجہ اول آنے والے طلبہ اس اسکیم کے لئے مستحق ہوں گے۔ یہ طلبہ 17 ڈسمبر تک آن لائین درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ 28 جون 2013 ء کو محکمہ سماجی بھلائی کی جانب سے جی او ایم ایس 52 جاری کرتے ہوئے اس اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا ۔ شرائط کی تکمیل کرنے والے طلبہ میں سے مستحق طلبہ کا انتخاب کرنے کیلئے پرنسپل سکریٹری سماجی بھلائی کی صدارت میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ منتخب طلبہ کو 5 لاکھ روپئے کی پہلی قسط امیگریشن کارڈ حاصل ہونے کے بعد ادا کی جائے گی جبکہ دوسری قسط پہلے سمسٹر کے نتیجہ کی پیشکشی پر ادا ہوگی۔ طلبہ کسی بھی قومیائے ہوئے بینک سے 5 لاکھ روپئے تک تعلیمی قرض حاصل کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT