Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / درخواستوں کا آن لائن ادخال زور و شور سے جاری

درخواستوں کا آن لائن ادخال زور و شور سے جاری

حیدرآباد ۔ 16 مارچ (نمائندہ خصوصی) اقلیتوں کو زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے دیگر ابنائے وطن کے شانہ بشانہ چلنے کیلئے تعلیمی شعبہ میں ترقی کرنی ہوگی۔ انہیں مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی ترغیبات سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔ اپنے حق کیلئے انہیں اپنے ہاتھ پھیلانے کی بجائے آگے بڑھ کر اپنا حق چھیننا ہوگا تب ہی ان کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی دور ہوسکتی ہے۔ حکومتیں اپنی جمہوری مجبوریوں کے تحت اسکیمات و بہبودی پروگرامس کا آغاز کرتی ہیں۔ ان پروگرامس اور اسکیمات سے استفادہ کرنا ہمارا حق بلکہ فرض ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح ہماری ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے مختص بجٹ حکام کی لاپرواہی، سیاستدانوں کی بے فکری اور ہماری اپنی غفلت کے نتیجہ میں پوری طرح استعمال نہیں ہوپاتا۔ مثال کے طور پر اقلیتی طلبہ کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے دی جانے والی پوسٹ میٹرک اسکالر شپس کو لیتے ہیں اس پوسٹ میٹرک اسکالر شپس برائے سال 2014-15ء کیلئے درخواستوں کی وصولی کا تقریباً 6 ماہ تاخیر سے آغاز کیا گیا۔ روزنامہ سیاست نے بار بار حکام کو توجہ دلائی جبکہ دیگر مسلم تنظیموں، انجمنوں نے بالکل خاموشی اختیار کی۔ واضح رہیکہ سات برسوں سے روزنامہ سیاست کی جانب سے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کی سرپرستی میں ملت کے طلباء و طالبات کو ریاستی و مرکزی حکومتوں کی اسکالر شپس دلانے کیلئے خصوصی مہم شروع کی گئی۔ اقلیتی طلبہ کی درخواستیں آن لائن داخل کی جارہی ہیں اور اس کیلئے کسی قسم کا معاوضہ نہیں لیا جاتا۔ سات سال کے دوران ہزاروں مسلم طلباء و طالبات کی آن لائن درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ اب پھر ایک بار گذشتہ تین دنوں سے ریاست تلنگانہ کی پوسٹ میٹرک اسکالر شپس کیلئے آن لائن درخواستیں داخل کی جارہی ہیں۔ اس سے انٹرمیڈیٹ سے لیکر اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے طلبہ استفادہ کرسکتے ہیں۔ اس بات کی اطلاعات بھی موصول ہورہی تھیں کہ بعض کالجس طلبہ کو 20 مارچ تک درخواست داخل کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں جبکہ متعلقہ ایم آر او دفاتر سے کاسٹ اور انکم سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں اب بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سیاست ہیلپ لائن کے سید خالد محی الدین اسد نے بتایا کہ طلباء و طالبات آن لائن فارمس کے ادخال کیلئے سیاست ہیلپ لائن سے رجوع ہوں۔ واضح رہیکہ سیاست ہیلپ لائن کے ذریعہ نہ صرف طلباء و طالبات کو مرکزی و ریاستی سطح کی اسکالر شپس حاصل کرنے میں طلباء کی مدد کی جارہی ہے بلکہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے خواہاں ان غریب طلبہ کی رہنمائی بھی کی جارہی ہے جنہیں بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں داخلے تو مل چکے ہیں لیکن وہ یونیورسٹیز کی فیس اور دیگر مصارف برداشت کرنے کے متحمل نہیں۔ اس ضمن میں ریاست کے حالیہ بجٹ میں 25 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT