Wednesday , September 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / درندہ صفت پولیس عہدیداروں کو برطرف کرنے کا مطالبہ

درندہ صفت پولیس عہدیداروں کو برطرف کرنے کا مطالبہ

مریال گوڑہ : ضلع نلگنڈہ کے عالم دین مفتی امان اللہ قاسمی خطیب مسجد عرفات مریال گوڑہ جمعیت علماء نلگنڈہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے پانچ مسلم نوجوانوں کو ورنگل کی جیل سے حیدرآباد کی عدالت منتقلی کے دوران مبینہ فرضی انکاونٹر میں ہلاک کرنا قابل مذمت ہے۔ یہ تصور کیا جارہا ہے کہ ضلع نلگنڈہ

مریال گوڑہ : ضلع نلگنڈہ کے عالم دین مفتی امان اللہ قاسمی خطیب مسجد عرفات مریال گوڑہ جمعیت علماء نلگنڈہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے پانچ مسلم نوجوانوں کو ورنگل کی جیل سے حیدرآباد کی عدالت منتقلی کے دوران مبینہ فرضی انکاونٹر میں ہلاک کرنا قابل مذمت ہے۔ یہ تصور کیا جارہا ہے کہ ضلع نلگنڈہ میں جانکی پورم اور سوریہ پیٹ بس اسٹیشن پر مشتبہ دہشت گرد ارکان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلہ مہیں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کی انتقامی کارروائی کے طور پر یہ انکاونٹر کیاگیا ہے ۔ اس کی جمعیت علماء سخت مذمت کرتیہے ۔ جانکی پورم میں غیر سماجی عناصر سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے پولیس نے بڑی دلیری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا ۔ یہ پولیس کی بہادری سے تعبیر کی جاتی ہے ۔ ان بہادر پولیس نوجوان کو خراج عقیدت پیش کیا جانا چاہئے ۔ لیکن ضلع نلگنڈہ کے آلیر پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آئے انکاونٹر کا واقعہ پولیس کی بزدلی کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ یہ تمام نوجوان انکاونٹر کے درمیان ہتھکڑیوں میں جگڑے ہوئے تھے ۔ بعد انکاونٹر پولیس نے یہ دعوی کیا کہ تحویل میں موجود ملزمین اسکارٹ پارٹی پر حملہ کرکے ان کے ہتھیار چھین کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے ۔ تصویروں سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ پولیس من گھڑت کہانیاں بنارہی ہے ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جمہوریت کھسک رہی ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ پولیس کو قابو میں رکھتے ہوئے خاطی عہدیداروں کو فوری معطل کریں ورنہ تلنگانہ حکومت پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرواکر ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے کنبہ کو انصاف دلوائیں ۔

نلگنڈہ: ضلع نلگنڈہ کے جنگاؤں میں ہوئے انکاؤنٹر کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعیتہ العلماء ہند شاخ نلگنڈہ کی جانب سے ضلع کلکٹر ستیہ نارائنا ریڈی کو تحریری یادداشت پیش کی۔ اس واقعہ میں صدر ضلع جمعیتہ العلماء ہند شاخ نلگنڈہ مولانا سید احسان الدین قاسمی، مولانا محمد اکبر خان، مولانا محمد اسمعیل شریف ضلع کانگریس صدر، ڈاکٹر محمد عبدالحفیظ خان، خواجہ قطب الدین پر مشتمل وفد نے آج ضلع کلکٹر سے ملاقات کرتے ہوئے بتایا کہ انکاؤنٹر میں پانچ مسلم نوجوانوں کو پولیس کی جانب سے نشانہ بناتے ہوئے من گھڑت کہانی پیش کی گئی اگر ان کا قصور ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی تھی۔ مہلوکین کے والدین کی شکایت کے مطابق اس انکاؤنٹر کی مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جانی چاہیئے۔ یادداشت میں بتایا گیا کہ پولیس کی گاڑی میں ہتھکڑیاں ڈال کر چین سے باندھا گیا تھا ایسے میں پانچ نوجوان 7پولیس ملازمین پر کس طرح حملہ کرسکتے ہیں۔ ان قائدین نے اس واقعہ کی سی پی آئی کے ذریعہ تحقیقات کرواتے ہوئے ان کے والدین کی بے چینی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔

مکتھل : جمعیتہ علماء محبوب نگر نے پانچ مسلم نوجوانوں کو ورنگل جیل سے حیدرآباد منتقلی کے دوران راستہ میں منصوبہ بند طریقہ پر سفاکانہ قتل کردئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے محکمہ پولیس میں مسلم تعصب کے بڑھتے ہوئے اثرات پر گہری فکر اور تشویش ظاہر کی اور قاتل پولیس عہدیداروں کو برطرف کردیں ۔مولانا خالد امام قاسمی صدر ضلع جمعیتہ علماء محبوب نگر نے اپنے شدید احتجاجی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گجرات سے لیکر ورنگل اور حیدرآباد تک اعلی تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو پہلے دہشت گردی کے نام پر گرفتار کیا جاتا ہے اور پھر بے گناہی کے جرم کی لمبی لمبی سزائیں کاٹنے کے بعد ان پر الزامات ثابت نہیں ہوئے اور ان کے عدالتوں سے باعزت بری ہونے کا وقت آگیا تو انکاونٹر کا بہانہ بناکر ان کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے ہوئے ہمیشہ کیلئے انہیں موت کی نیند سلادی جاتی ہے ۔ جمعیتہ علماء محبوب نگر نے اس پورے واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے مہلوکین کے ورثاء کو ایک کروڑ روپئے ایکس گریشیا دئے جانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ صدر ضلع جمعیتہ علماء محبوب نگر نے بتایا کہ اگر ریاستی حکومت آزادانہ تحقیقات کیلئے پیشرفت نہ کرے تو جمعیتہ علماء ضلع بھر میں اس واقعہ کے خلاف پرامن احتجاجی لائحہ عمل مرتب کرنے پر مجبور ہوگی ۔ صدر ضلع جمعیتہ علماء محبوب نگر نے مہلوک سب انسپکٹر شیخ صدیقی کی موت پر بھی گہری دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے افراد خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کیلئے بارگاہ ایزدی میں مغفرت کیلئے دعاء کی ۔

TOPPOPULARRECENT