Friday , July 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / درود شریف سے دعائیں قبول ہوتی ہیں

درود شریف سے دعائیں قبول ہوتی ہیں

 

تاریخ اسلام میں ہمیں ایسے متعدد بزرگ ملتے ہیں، جو ولایت کے اعلی ترین مقام پر پہنچے ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں جو کچھ ملا ہے، وہ درود شریف کی وجہ سے ملا ہے‘‘۔ بہت سارے بزرگ ایسے ہیں، جو ولایت کے اعلی ترین مقام پر پہنچ کر کہتے ہیں کہ ’’ہمیں جو کچھ ملا ہے، وہ قرآن کی تلاوت کی وجہ سے ملا ہے‘‘۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’جو شخص قرآن کی تلاوت میں اتنا مشغول و منہمک ہو جائے کہ اسے اپنے لئے دعا کی فرصت تک نہ ہو، تو میں اس کی دعاؤں کے بغیر ہی اس کی مرادوں کو، اس کی حاجتوں اور اس کے مقاصد کو پورا کردیتا ہوں‘‘۔
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بڑے جلیل القدر صحابی اور قرآن پاک کے بڑے مفسر تھے۔ بڑے برے اہل علم صحابہ کرام ان سے قرآن پاک کے نکات سمجھتے تھے۔ آپ بکثرت عبادت و دعائیں کرتے اور اوراد و وظائف بھی پڑھتے تھے۔ انھوں نے ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’یارسول اللہ! میں اپنی عبادت اور دعاؤں کا کتنا حصہ آپﷺ پر درود بھیجنے کے لئے رکھوں؟‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جتنا چاہو‘‘۔ عرض کیا: ’’میں چوتھا حصہ آپﷺ پر درود و سلام کے لئے مخصوص کردوں گا‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’جتنا تم چاہو، اور اگر زیادہ کردوگے تو تمہارے لئے بہتر ہوگا‘‘۔ انھوں نے عرض کیا: ’’آدھا حصہ آپﷺ پر درود و سلام کے لئے مخصوص کرتا ہوں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جتنا چاہو کردو، اور اگر اور زیادہ کروگے تو تمہارے لئے بہتر ہوگا‘‘۔ انھوں نے پھر عرض کیا: ’’تو پھر دوتہائی حصہ آپﷺ پر صلوۃ و سلام کے لئے مخصوص کرتا ہوں‘‘۔ فرمایا: ’’جتنا چاہو کردو اور اگر اور زیادہ کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہی ہوگا‘‘۔ عرض کیا: ’’تو پھر میں سارا وقت آپﷺ پر درود و سلام کے لئے مخصوص کردیتا ہوں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تم ایسا کروگے تو پھر تمہاری ساری فکروں اور ضرورتوں کی اللہ تعالی کی طرف سے کفایت کی جائے گی، یعنی دعا کے بغیر ہی تمہاری مرادیں اور حاجتیں پوری کردی جائیں گی اور تمہارے سارے قصور و گناہ معاف کردیئے جائیں گے‘‘۔
تلاوت قرآن کے فیضان کا راز یہ ہے کہ تلاوت قرآن کو اپنا وظیفہ اور مشغلہ بنالینا، اللہ پر ایمان اور اس سے محبت و تعلق کی نشانی ہے، اس لئے ایسا شخص اللہ تعالی کے خاص فضل کا مستحق ہوجاتا ہے اور اللہ اسے بے مانگے ہی سب کچھ دے دیتا ہے۔ اسی طرح درود شریف کے فیضان کا راز یہ ہے کہ درود شریف کی کثرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور قلبی تعلق کی علامت ہے، اسی لئے اللہ تعالی اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اس کو بھی بے مانگے سب کچھ دے دیتا ہے۔ جب درود شریف کی کثرت کی وجہ سے رحمت خداوندی کی موسلا دھار بارش ہوگی تو وہ گناہوں سے ایسا پاک و صاف ہو جائے گا، جیسے کوثر و تسنیم کا نہایا ہوا ہو۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس پر یقین اور اس پر عمل نصیب فرمائے۔ (آمین)
درود شریف قبولیت دعا کا بھی ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ درود شریف کے بغیر دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے، یعنی اوپر نہیں جاتی۔ حضرت شیخ ابوسلمان درانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ درود شریف تو اللہ تعالی ضرور ہی قبول فرماتا ہے، رد نہیں فرماتا، کیونکہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اعلی ترین دعا ہے، اس لئے جو دعا اول و آخر درود شریف کے ساتھ مانگی جائے، وہ ضرور قبول کرلی جاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالی کی شان کریمی سے یہ بات بعید ہے کہ اول و آخر کا درود تو قبول فرمائے اور درمیان کی دعا کو رد کردے، اس لئے امید رکھنی چاہئے کہ وہ بھی ضرور قبول کرلی جائے گی۔
یوں تو درود شریف کے فضائل میں لوگوں نے متعدد کتابیں لکھی ہیں، لیکن میرے نزدیک جان دے دینے کے لائق جو فضیلت ہے، وہ یہ ہے کہ ہمارا اسلام فرشتے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ان الفاظ میں پہنچاتے ہیں کہ ’’یارسول اللہ! فلاں بن فلاں نے آپ پر اس طرح درود بھیجا ہے اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب عنایت فرماتے ہیں‘‘۔ ذرا سوچئے یہ کتنی بڑی خوش نصیبی ہے ہماری کہ ہمارا نام اپنے والد کے نام کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں لیا جاتا ہے۔ کہاں وہ بارگاہ عالی اور کہاں ہم گنہگاروں کا ذکر۔ مگر خدا کی شان دیکھئے کہ ہمیں یہ سعادت بخشنے کے لئے اس نے بے شمار فرشتوں کا عملہ پیدا کردیا ہے۔ ان فرشتوں کی ڈیوٹی ہی یہ ہے کہ وہ روئے زمین پر گشت کرتے رہتے ہیں اور جو امتی درود شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالی میں گزرانتا ہے، وہ اس کو لے کر آپﷺ کی خدمت میں اس کے نام کے ساتھ پہنچا دیتے ہیں اور اگر ہمارے اخلاص کے ساتھ خدا کا فضل شامل حال ہو جائے تو خود نذرانۂ صلوۃ و سلام پیش کرنے والوں کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شرف باریابی حاصل ہو جاتا ہے۔
صلوۃ و سلام، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ نغمہ سرائی ہے کہ اس کا سرور اور اس کا کیف و مستی وہی جانتے ہیں، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں صلوۃ و سلام کا نذرانہ پیش کرتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے عاشقانِ رسول نے اپنے ظرف، حوصلے اور ذوق و وجدان کے مطابق مختلف درود شریف لکھے ہیں۔
درود شریف میں تساہل اور غفلت برتنے سے متعلق بھی ایک دو حدیثیں پیش نظر رہنا چاہئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بخیل ہے وہ شخص، جس کے پاس میرا تذکرہ ہو اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے‘‘۔ اس لئے جب بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک آئے تو درود شریف ضرور پڑھنا چاہئے۔ مختصر ترین درود شریف ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہے۔ یہ درود گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک جز بن گیا ہے، اس لئے جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی آئے تو یہ درود ضرور پڑھنا چاہئے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT