Friday , September 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / درود شریف پڑھتے رہو، بلند ہوتے رہو

درود شریف پڑھتے رہو، بلند ہوتے رہو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے کوئی برا سلوک نہیں کیا، آپﷺ سب کے اور ساری انسانیت کے محسن ہیں، اس کے باوجود سارا جہاں ان کا مخالف ہو گیا ہے۔ ساری دنیا نے ان کے احسانات کو فراموش کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ’’اے مسلمانو!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے کوئی برا سلوک نہیں کیا، آپﷺ سب کے اور ساری انسانیت کے محسن ہیں، اس کے باوجود سارا جہاں ان کا مخالف ہو گیا ہے۔ ساری دنیا نے ان کے احسانات کو فراموش کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ’’اے مسلمانو! تم ان کے احسان شناس بن جاؤ۔ اہل کفر و شرک جتنے ان کے دشمن ہوئے جا رہے ہیں، تم ان کے اتنے ہی دوست بن جاؤ۔ یہ ہمارے حبیبﷺ سے جتنی نفرت کر رہے ہیں، تم اس سے کہیں زیادہ ان سے محبت کرو۔ یہ ہمارے حبیبﷺ کے جتنے بدخواہ ہیں، تم ان کے اتنے ہی خیر خواہ بن جاؤ۔ یہ ہمارے حبیبﷺ کی جتنی ناشکری کر رہے ہیں، تم ہزاروں گنا زیادہ ان کے شکر گزار بن جاؤ۔ یہ ہمارے رسولﷺ کی جتنی مذمت کر رہے ہیں، تم ان سے کہیں زیادہ ان کی تعریف کرو۔ یہ ہمارے حبیبﷺ کے حق میں جتنی بددعا کر رہے ہیں، تم ان سے کہیں زیادہ ان کے حق میں دعا کرو۔ دیکھو! ہم اپنے رسول پر رحمتیں نازل کر رہے ہیں، ان کے درجات کو بلند کر رہے ہیں، ان کے لائے ہوئے دین کو استحکام بخش رہے ہیں۔ ہمارے فرشتے ان کے حق میں دعا کر رہے ہیں، تم بھی ان کے ساتھ شریک ہو جاؤ، ہمارے حبیبﷺ کے لئے دعائے خیر کرو۔ عالم ملکوت میں صلوۃ و سلام کی محفل برپا ہے، ہم اور ہمارے فرشتے ان پر صلوۃ و سلام بھیج رہے ہیں، آؤ تم بھی اس محفل میں شریک ہو جاؤ، تم بھی ہمارے حبیبﷺ پر صلوۃ و سلام بھیجو، یہی ایک طریقہ ہے ان کے تشکر کا اور اسی طریقے سے تم ان کے شکرگزار بن سکتے ہو‘‘۔

جب صلوۃ و سلام کا حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’یارسول اللہ! ہم آپ پر صلوۃ کس طرح بھیجیں‘‘۔ جواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ وحی آگئی اور اللہ تعالی کی طرف سے صلوۃ کا طریقہ بتادیا گیا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم مجھ پر صلوۃ اس طرح بھیجو‘‘۔ یہ وہی صلوۃ اور درود ہے، جو درود ابراہیم کے نام سے معروف ہے اور جسے ہم نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ اس درود شریف کو سب سے زیادہ فضیلت اسی لئے حاصل ہے کہ یہ درود بذریعہ وحی اللہ تعالی کی طرف سے تلقین ہوا ہے۔
صلوۃ کے دو معنی ہیں اور ہر معنی نسبت کی مناسبت سے ہیں۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہوتی ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی فرشتوں کی محفل میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا فرماتا ہے، آپﷺ کی تعظیم بیان فرماتا ہے، دنیا میں آپﷺ کے ذکر کو بلند فرماتا ہے، آپﷺ کے دین کو غلبہ عطا فرماتا ہے، آپﷺ کی شریعت کو معمول بناکر آپ کی عزت و شان میں اضافہ فرماتا ہے، آخرت میں امت کے حق میں آپﷺ کی شفاعت قبول فرماکر آپ کو بہترین اجر و ثواب عطا فرماکر آپ کو مقام محمود پر فائز المرام فرماتا ہے، اولین و آخرین پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی کو واضح کرکے اور آپﷺ کو تمام مقربین بارگاہ پر سبقت عطا فرماکر آپ کی شان رسالت کو آشکار فرماتا ہے۔

جب صلوۃ کی نسبت فرشتوں کی طرف ہوتی ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات کی بلندی اور مقامات رفعت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ جب اس طرح اللہ تعالی اور اس کے فرشتے عالم ملکوت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ بھیج رہے ہیں تو مسلمانو! تم بھی ہمارے رسول پر صلوۃ و سلام بھیجو۔ مسلمانوں کے صلوۃ و سلام کا مفہوم یہ ہوگا کہ ’’یااللہ! اپنے رسول کے ذکر کو بلند فرما، ان کے دین کو غلبہ عطا فرما، ان کی شریعت کو تابندہ رکھ، دنیا میں ان کی شان کو بلند فرما اور روز محشر ان کی شفاعت قبول فرماکر ان کو مقام محمود پر فائز فرما‘‘۔ غرض اللہ تعالی کی صلوۃ اس کی شان عالی کے مطابق ہوگی اور فرشتوں کی صلوۃ ان کے مرتبے کے مطابق اور مؤمنین کی صلوۃ ان کی حیثیت کے مطابق۔

یہاں ایک نکتہ قابل غور ہے کہ مسلمانوں کو صلوۃ و سلام کا حکم دیا جا رہا ہے، لیکن ہم صلوۃ و سلام نہیں بھیجتے، بلکہ اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ ’’یااللہ! تو ہی حضور پر صلوۃ و سلام بھیج‘‘ یعنی اللّٰھم صل علی محمد…۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ داں نہیں ہیں، نہ ہم کماحقہٗ آپﷺ کی شان رسالت سے واقف ہیں اور نہ ہم کماحقہٗ مقام محمدی سے آشنا ہیں۔ اس لئے ہم اللہ تعالی ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ ’’یااللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام توہی نازل فرما، کیونکہ توہی مرتبہ دان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ تو صلوۃ و سلام بھیجے گا تو اپنی شان عالی کے مطابق بھیجے گا، جو ہمارے صلوۃ و سلام سے ہزارہا درجہ افضل و اعلی ہوگا‘‘۔

اس طرح اللہ تعالی اپنی شانِ عالی کے مطابق ہماری طرف سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام نازل فرماتا ہے، جو آپﷺ کو فرشتوں کے ذریعہ پہنچا دیا جاتا ہے کہ فلاں بن فلاں نے آپﷺ کی خدمت میں صلوۃ و سلام کا نذرانہ بھیجا ہے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سلام کا جواب مرحمت فرماتے ہیں اور ہمارے لئے اللہ تعالی سے دعائے خیر فرماتے ہیں، جس کے نتیجے میں اللہ تعالی ہر درود شریف پر ہم پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، ہمارے دس درجات بلند فرماتا ہے، ہمارے حساب میں دس نیکیاں لکھواتا ہے اور ہمارے دس گناہ معاف فرمادیتا ہے۔ اللہ تعالی کی طرف سے یہ صلہ پانے کی شرط یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوۃ و سلام اخلاص قلب کے ساتھ بھیجا جائے۔ نسائی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر کوئی مجھ پر سو دفعہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ہزار رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے ہزار درجے بلند کردیتا ہے، اس کے نامہ اعمال میں ہزار نیکیاں لکھوا دیتا ہے اور اس کے ہزار گناہ معاف فرمادیتا ہے‘‘۔ غور کیجئے! کتنا سستا اور کتنا نفع بخش سودا ہے، یعنی اس ہاتھ دے اور اس ہاتھ لے۔ یقیناً صلوۃ و سلام سے محرومی بہت بڑی سعادت سے محرومی ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو یقین کامل اور توفیق عمل نصیب فرمائے۔ (آمین)

خلوص دل سے درود شریف کی کثرت، اللہ تعالی کی خاص نگاہ کرم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی قرب اور آپﷺ کی خاص شفقت و عنایت حاصل کرنے کا خاص الخاص وسیلہ ہے، جس کو کثرت سے پڑھنے والے کی پیشانی پر لکھ دیا جاتا ہے کہ ’’یہ منافق نہیں ہے‘‘ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھتا اور آپﷺ سے اس کو سچا عشق ہے۔ عشق رسول ہی تو ایمان کی جان ہے، جتنا درود بھیجو گے اتنا ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب ہوتے جاؤگے، اتنے ہی نوازے جاؤ گے اور تمہاری دنیا و آخرت اتنی ہی سنورتی جائے گی۔ (اقتباس)
بانیٔ جامعہ نظامیہ کے اقوال
٭ خدا ایسے لوگوں سے محفوظ رکھے کہ اچھوں کے لباس میں آکر مکر پھیلاتے ہیں اور مسلمانوں کے دین و دنیا کو غارت کرتے ہیں۔ {مقاصدالاسلام}
٭ حدیث کو بلاوجہ رد کردینا یا اس سے انکار کرنا سوا، اس کے نہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم دشمن بنالینا ہے۔ عیاذاباﷲ۔ {الکلام المرفوع}
٭ حضرت غوث الثقلین رضی ا ﷲ عنہ کو اِس وقت بھی وہی سلطنت حاصل ہے جو زندگی میں تھی۔ {مقاصدالاسلام۔ ازقال شیخ الاسلام}
مرسلہ: سید عبیداﷲ

TOPPOPULARRECENT