Saturday , August 18 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہوں کے انتظامات کو ہراج کے بجائے نامنیشن کی تحقیقات

درگاہوں کے انتظامات کو ہراج کے بجائے نامنیشن کی تحقیقات

وقف بورڈ کو سکریٹری اقلیتی بہبود کا میمو ، قواعد کی خلاف ورزی پر اجازت ناموں کی منسوخی کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ یکم نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے بعض اہم درگاہوں کے انتظامات ہراج کے بجائے نامینیشن پر حوالے کرنے کی تحقیقات کے سلسلہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے وقف بورڈ کو میمو جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو میمو جاری کیا گیا جس میں بورڈ کی جانب سے حالیہ عرصہ میں درگاہوں کے انتظامات حوالے کرنے کے سلسلہ میں تمام تفصیلات اور متعلقہ فائلیں اندرون تین یوم روانہ کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ واضح رہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے پاس منعقدہ جائزہ اجلاس میں ان معاملات کی جانچ کی ذمہ داری سکریٹری اقلیتی بہبود کو سونپی گئی ۔ انہوں نے وقف بورڈ کو تفصیلات روانہ کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن زبانی ہدایت کا کوئی اثر نہیں ہوا جس پر سکریٹری نے آج تحریری طور پر میمو جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں اگر یہ ثابت ہوجائے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درگاہوں کے انتظامات حوالے کئے گئے جس سے بورڈ کو نقصان ہوگا تو ایسی صورت میں حکومت اجازت ناموں کی منسوخی کا اختیار رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ عرصہ میں درگاہ جہانگیر پیراںؒ ، درگاہ جان پاک شہیدؒ نلگنڈہ ، درگاہ یعقوب شہیدؒ انارم ورنگل اور درگاہ خواجہ نصیرالدینؒ اروا پلی کے انتظامات نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کئے گئے اور بورڈ کے اجلاس میں قرارداد منظور کی گئی۔ نامینیشن کی بنیاد پر انتظامات کی حوالگی سے وقف بورڈ کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔ گزشتہ سال درگاہ حضرت جہانگیر پیراں کے انتظامات ایک کروڑ 60 لاکھ روپئے میں حوالے کئے گئے تھے لیکن اس مرتبہ صرف 90 لاکھ 90 ہزار روپئے میں نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کئے گئے۔ درگاہ جان پاک شہیدؒ نلگنڈہ میں نذر و نیاز کے انتظامات 20 لاکھ 20 ہزار اور سر کے بال کاٹنے کا ٹنڈر 25 لاکھ 75 ہزار میں الاٹ کیا گیا ۔ درگاہ یعقوب شہیدؒ انارم میں نذر و نیاز کے انتظامات 83 لاکھ 50 ہزار میں حوالے کئے گئے جبکہ سر کے بال کاٹنے کا ٹنڈر 17 لاکھ 67 ہزار میں الاٹ کیا گیا۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے مختلف فیصلوں پر حکومت کی نگرانی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران کئے گئے کئی اہم فیصلے تحقیقات کے دائرہ میں آسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT