Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہوں کے انتظامات کی لیز میں دھاندلیاں

درگاہوں کے انتظامات کی لیز میں دھاندلیاں

ڈپٹی چیف منسٹر کی ہدایت پر محکمہ اقلیتی بہبود کی وقف بورڈ سے رپورٹ طلب
حیدرآباد ۔ 17۔ اکتوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمدمحمود علی کی ہدایت پر محکمہ اقلیتی بہبود نے حالیہ عرصہ میں بعض اہم درگاہوں کے انتظامات کی لیز سے متعلق تفصیلات وقف بورڈ سے طلب کی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے پاس منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ وقف بورڈ نے بعض اہم درگاہوں کے انتظامات کو اوپن آکشن کے بجائے نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کردیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ مرتبہ دی گئی لیز کی رقم سے کافی کم رقم میں انتظامات حوالے کئے گئے جس سے وقف بورڈ کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے سکریٹری اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ ان معاملات کی جانچ کرتے ہوئے رپورٹ پیش کریں۔ اگر یہ فیصلے قواعد کی خلاف ورزی اور وقف بورڈ کے مفادات کے حق میںنہ ہوں تو انہیں کالعدم کرنے کا حکومت کو حق حاصل ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ سے حالیہ عرصہ میں درگاہوں کے انتظامات کو لیز پر دیئے جانے کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اس سلسلہ میں وقف بورڈ کے اجلاس میں منظورہ قراردادوں کی تفصیل بھی طلب کی گئی۔ درگاہ جہانگیر پیراں ، درگاہ جان پاک شہید اور درگاہ خواجہ نصیرالدین اروا پلی کے انتظامات گزشتہ دنوں نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کردیئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال درگاہ جہانگیر پیراں کی لیز ایک کروڑ 60 لاکھ میں منظور کی گئی تھی تاہم اس مرتبہ 90 لاکھ 90 ہزار روپئے میں نامینیشن کی بنیاد پر حوالے کردیا گیا۔ اسی طرح درگاہ حضرت جان پاک شہید کے انتظامات 20 لاکھ روپئے میں حوالے کئے گئے جبکہ گزشتہ سال یہ 80 لاکھ روپئے میں بطور ٹنڈر منطور کئے گئے تھے۔ اروا پلی ضلع نلگنڈہ کی درگاہ خواجہ نصیرالدین کے انتظامات صرف دو لاکھ 25 ہزار روپئے حوالے کردیئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان معاملات میں وقف بورڈ کے ایک رکن کا اہم رول ہے جو مقامی سیاسی جماعت کے نمائندہ کی حیثیت سے بورڈ میں شامل کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کو لاکھوں روپئے کا نقصان کرتے ہوئے نامینیشن کی بنیاد پر انتظامات کی حوالگی میں درپردہ لاکھوں روپئے کی معاملت کی شکایات ملی ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے اس مسئلہ پر کھل کر کچھ بھی کہنے سے گریز کیا ۔ تاہم ان کا ماننا تھا کہ بعض بااثر ارکان کی مداخلت کے باعث درگاہوں کے انتظامات حوالے کئے گئے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلہ میں نہ صرف بھاری رقم بلکہ قیمتی تحائف بھی متعلقہ افراد کو پہنچائے گئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ان الزامات کی جانچ کرنے کی ذمہ داری سکریٹری اقلیتی بہبود کو دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT