Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہوں کے انتظامی ہراج پر وضاحت غیر اطمینان بخش

درگاہوں کے انتظامی ہراج پر وضاحت غیر اطمینان بخش

ہراج کے بجائے نامنیشن کی بنیاد پر کنٹراکٹر کو سونپنے پر اعتراض ، معاملہ کی جانچ کی ہدایت
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی تین درگاہوں کے انتظامات کو ہراج کے بجائے نامنیشن کی بنیاد پر کنٹراکٹر کو الاٹ کرنے کا معاملہ اعلی سطحی اجلاس میں زیر بحث رہا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو اس معاملہ کی جانچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور وقف بورڈ سے وضاحت طلب کی گئی۔ وقف بورڈ کی وضاحت اگر اطمینان بخش نہ ہو اور بورڈ کا فیصلہ وقف کے مفاد میں نہ رہے تو حکومت کنٹراکٹ کو منسوخ کرسکتی ہے۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراں، درگاہ حضرت جان پاک شہید اور درگاہ اروے پلی سوریاپیٹ کے انتظامات کو وقف بورڈ نے ہراج کے بجائے نامنیشن کی بنیاد پر الاٹ کردیا اور معمولی رقم پر یہ الاٹمنٹ کیا گیا۔ درگاہ جہانگیر پیراں کے انتظامات گزشتہ سال ایک کروڑ 62 لاکھ روپئے میں حوالے کیے گئے تھے جبکہ جاریہ سال وقف بورڈ نے صرف 96 لاکھ روپئے میں کنٹراکٹ حوالے کردیا۔ درگاہ جانپاک شہید کے انتظامات گزشتہ سال 82 لاکھ روپئے میں حوالے کیے گئے تھے لیکن جاریہ سال صرف 20 لاکھ روپئے میں کنٹراکٹ منظور کیا گیا۔ ان فیصلوں سے وقف بورڈ کو بھاری نقصان ہوا ہے اور بورڈ نے الاٹمنٹ کے مروجہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی نے اس مسئلہ پر وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی وضاحت اطمینان بخش نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ الاٹمنٹ ہنڈی کے بغیر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہنڈی میں بہت کم رقم حاصل ہوتی ہے اور اکثر و بیشتر کنٹراکٹر زائرین سے راست طور پر رقم حاصل کرلیتے ہیں۔ لہٰذا ہراج کے بغیر نامنیشن کی بنیاد پر کنٹراکٹ حوالے کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس معاملہ کی جانچ سکریٹری اقلیتی بہبود کے حوالے کی گئی اور انہوں نے وقف بورڈ سے اس سلسلہ میں جواب طلب کیا ہے۔ وقف بورڈ کی وضاحت کے بعد اگر یہ ثابت ہو کہ یہ فیصلہ قواعد کے خلاف کیا گیا تو حکومت کنٹراکٹ منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اور دیگر عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں اور اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو اپنا دینی فریضہ تصور کریں۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے کہا کہ وہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلہ میں کسی دبائو کو قبول نہ کریں بھلے ہی وہ بورڈ کے ارکان کی جانب سے کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وقف ایکٹ کے تحت کارکردگی کے سلسلہ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے ہر اقدام کو حکومت کی تائید حاصل رہے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر 16 اکٹوبر کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس طلب کریں گے۔ وہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کی عاجلانہ اجرائی کو یقینی بنانے وزیر فینانس ای راجندر اور محکمہ فینانس کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT