Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ اور وقف اراضی تحفظ میں وقف بورڈ کی ناکامی پر عوام کی برہمی

درگاہ اور وقف اراضی تحفظ میں وقف بورڈ کی ناکامی پر عوام کی برہمی

نور خاں بازار کے وفد کی ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات
حیدرآباد ۔20۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) نورخاں بازار میں ایک عظیم درگاہ اور اس سے متصل اوقافی اراضی کے تحفظ میں وقف بورڈ کی ناکامی پر مقامی افراد نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ نورخاں بازار کے مقامی افراد کے ایک وفد نے دفتر سیاست پہنچ کر جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی اور انہیں درگاہ کے تحفظ میں بورڈ کی ناکامی اور بعض اندرونی عناصر کی جانب سے غیر مجاز قابض سے تعاون کی شکایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ شریف جو حضرت سید صاحب کے نام سے موسوم ہے، یہ وقف بورڈ کے گزٹ میں درج ہے ۔ تاہم اوقافی اراضی کے بارے میں بورڈ کے حکام نے تحقیق کے بغیر ہی کم اراضی درج کردی ہے۔ مقامی افراد نے وقف بورڈ میں سروے کے سلسلہ میں داخل کردہ نمونہ فارم پیش کیا جس میں صاف طور پر لکھا گیا ہے کہ قدیم درگاہ کے اطراف مکانات تھے اور ایک پلاٹ درگاہ کیلئے چھوڑ دیا گیا ہے جس پر ناجائز قابض ہے۔ یہ وقف اراضی 500 تا 600 مربع گز ہوسکتی ہے لیکن وقف بورڈ اس کا سروے کرنے سے گریز کر رہا ہے ۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا کہ وقف بورڈ اور ریونیو عہدیداروں کی جانب سے مشترکہ سروے کیا جائے تاکہ حقیقی وقف اراضی کا پتہ چلے اور ناجائز قابض کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ شریف اور اس کی اراضی کو جانوروں کو باندھنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور عوام کو زیارت کیلئے راستہ موجود نہیں۔ مقامی افراد کے مطابق بورڈ نے 23 ستمبر کو غیر مجاز قابض کے خلاف دبیر پورہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کی لیکن یہ بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ غیر مجاز قابض نے ہائی کورٹ سے رجوع ہوکر حکم التواء حاصل کرلیا ہے لیکن وقف بورڈ کی جانب سے حکم التواء کی برخواستگی کے سلسلہ میں کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مقامی افراد نے کہا کہ اگرچہ وقف بورڈ اس درگاہ کا متولی ہے لیکن اسے تحفظ میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ عوامی نمائندوں کی جانب سے وقف بورڈ کو بارہا توجہ دلائی گئی لیکن بورڈ کا بے حسی کا رویہ برقرار ہے جس سے غیر مجاز قابض کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی افراد کو اطلاع دیئے بغیر چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے دورہ کیا اور وہ غیر مجاز قابض کے کاغذات کے مشاہدے کے بعد واپس ہوگئے ۔ مقامی افراد نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اراضی کا دورہ کرتے ہوئے درگاہ کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT