Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ بڑا پہاڑ اور جہانگیر پیراںؒ کے معاملوں میں سیاسی مداخلت

درگاہ بڑا پہاڑ اور جہانگیر پیراںؒ کے معاملوں میں سیاسی مداخلت

وقف بورڈ لاکھوں روپئے کی آمدنی سے محروم ، مجاوروں اور کنٹراکٹرس کی ملی بھگت
حیدرآباد ۔ 31 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ریاست کی دو اہم درگاہوں کے معاملات میں برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی مداخلت میں وقف بورڈ کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے ۔ نظام آباد کی درگاہ حضرت سعداللہ حسینی بڑا پہاڑ اور درگاہ جہانگیر پیراں کے انتظامات کے سلسلہ میں وقف بورڈ کو کئی ایک رکاوٹوں کا سامنا ہے اور حکومت سے تعلق رکھنے والے افراد بورڈ کی آمدنی میں خسارے کا سبب بن رہے ہیں ۔ دونوں درگاہوں کے انتظامات فی ا لوقت وقف بورڈ کی راست نگرانی میں ہیں۔ مجاوروں اور کنٹراکٹرس میں ملی بھگت کے ذریعہ وقف بورڈ کو سالانہ ہراج سے روک دیا ہے جس کے سبب دونوں درگاہوں سے وقف بورڈ کی آمدنی لاکھوں روپئے گھٹ چکی ہے ۔ درگاہ بڑا پہاڑ کے معاملات میں وزیر زراعت پوچارام سرینواس ریڈی کی مداخلت نے کنٹراکٹرس کے حوصلوں کو بڑھادیا ہے جو ہراج کے حق میں نہیں ہے ۔ وقف بورڈ کی آمدنی سالانہ ڈھائی کروڑ سے گھٹ کر 27 لاکھ تک پہنچ چکی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر زراعت وقف بورڈ کو اپنے طور پر فیصلے کرنے سے روک رہے ہیں اور ان کے دباؤ پر سب کلکٹر کی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جو درگاہ کے امور کا وقتاً فوقتاً جائزہ لے رہی ہے ۔ عہدیداروں پر مشتمل یہ کمیٹی انتظامات کو بہتر بنانے سے قاصر ہے اور وقف بورڈ نے اس صورتحال سے ابھرنے کیلئے بڑا پہاڑ میں تمام خدمات کیلئے ٹوکن سسٹم متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کمپیوٹرائزڈ ٹوکن سسٹم کے ذریعہ درگاہ کی مختلف خدمات کیلئے علحدہ علحدہ رقم پر مشتمل ٹوکنس جاری کئے جائیں گے۔ تمام زائرین کو ٹوکن حاصل کرنے کے بعد ہی مختلف  امور انجام دینے کی اجازت رہے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹوکن سسٹم متعارف کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے اور تجرباتی طور پر اس کا جلد آغاز ہوگا۔ ٹوکن سسٹم متعارف کرنے کے باوجود وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کیونکہ مقامی کنٹراکٹرس اور سیاسی قائدین میں ملی بھگت ہے اور کسی بھی طرح وقف بورڈ کو اس بات کیلئے مجبور کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں تمام انتظامات کا کنٹراکٹ دوبارہ دیدیا جائے۔ زائرین کو مجاوروں کی ہراسانی سے بچانے کیلئے وقف بورڈ نے بعض فیصلے کئے جن کی شدت سے مخالفت کی گئی ۔ حکومت نے 20 کروڑ روپئے کے صرفہ سے درگاہ کی ترقی کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل رکن اسمبلی بودھن نے درگاہ بڑا پہاڑ اور جہانگیر پیراں کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات بہتر بنانے کی کوشش کی  لیکن برسر اقتدار پارٹی کے مقامی قائدین کا تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر نے جہانگیر پیراں میں زائرین کی سہولت کیلئے ترقیاتی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی تھی جو ابھی بھی تیاری کے مرحلہ میں ہے۔ برسر اقتدار پارٹی کے مقامی  عوامی نمائندے اس سلہ میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس طرح ریاست کی دو بڑی اہم درگاہوں کے انتظامات میں برسر اقتدار پارٹی قائدین کی مداخلت سے وقف بورڈ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT