Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی میں دھاندلیوں کا سخت نوٹ

درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی میں دھاندلیوں کا سخت نوٹ

چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو میمو کی اجرائی ، معاملہ پر رپورٹ کی طلبی ، سید عمر جلیل
حیدرآباد۔ 24نومبر (سیاست نیوز) حکومت نے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی میں دھاندلیوں کی اطلاعات کا سختی سے نوٹ لیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے آج چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کو میمو جاری کرتے ہوئے اس معاملہ پر رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے کہا کہ سارے معاملے کی جانچ کرتے ہوئے حکومت کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت اگلا قدم اٹھائے گی۔ ضرورت پڑنے پر اس معاملہ میں علیحدہ تحقیقات کی ہدایت دی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو اس معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے اندرون ایک ہفتہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں شکایت ملتے ہی انہوں نے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو معاملہ کی جانچ اور خاطیوں کی نشاندہی کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی قصوروار پائے جائیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ درگاہ یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی میں سابقہ ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے تاکہ یہ اندازہ کیا جاسکے کہ بڑے غلوں میں عام طور پر کتنی رقم جمع ہوتی ہے۔ مقامی افراد میں یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ملی بھگت کے ذریعہ غلوں سے بڑی کرنسی نوٹوں کو غائب کردیا ہے اور یہ ان کا ہمیشہ کا معمول ہے۔ مقامی افراد آج اس مسئلہ پر نمائندگی کے لیے وقف بورڈ کے دفتر پہنچے لیکن صدرنشین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر سے ملاقات نہ ہوسکی۔ مقامی افراد کی شکایت ہے کہ درگاہ یوسفینؒ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بعض ریٹائرڈ عہدیداروں کی سرکردگی میں غلوں کی کشادگی کا کام انجام دیا گیا اور سب سے اہم غلے میں ایک بھی بڑی کرنسی نوٹ دستیاب نہ ہونے کی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ دیگر غلوں میں 2000 اور 500 کے کرنسی نوٹ پائے گئے۔ روزنامہ سیاست کے اس اسکام کی خبر کی اشاعت پر وقف بورڈ میں آج کھلبلی دیکھی گئی اور ملازمین نے اس صورتحال کے لیے ریٹائرڈ عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اہل اور قابل مستقل ملازمین کے باوجود بعض ریٹائرڈ عہدیداروں کو ان پر مسلط کیا گیا ہے جن پر کہ سابق میں بے قاعدگیوں کے الزامات ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT