Tuesday , August 14 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی ۔ بڑی کرنسی غائب

درگاہ حضرات یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی ۔ بڑی کرنسی غائب

وقف بورڈ کے بحران کی آڑ میں غلے کی لوٹ، بدعنوانیوں میں ملوث افراد پر شبہات
حیدرآباد۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) وقف بورڈ میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں سے عاجز آکر چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے 9 نومبر کو دفتر مہربند کردیا تھا۔ چیف منسٹر کی اس کارروائی کے باوجود بورڈ کی کارکردگی میں سدھار کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کی تازہ مثال گزشتہ دنوں درگاہ یوسفینؒ کے غلوں کی کشادگی کے موقع پر ہوئی دھاندلی ہے۔ حکومت کی لوٹ کے خلاف کارروائی کے باوجود عہدیدار اور ملازمین کو حکومت کا کوئی خوف نہیں اور وہ دن دہاڑے غلے سے رقم لوٹنے میں مصروف رہے۔ درگاہ یوسفینؒ کے متولی کے بارے میں گزشتہ جمعہ کو حیدرآباد ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ آیا جس کے فوری بعد بورڈ نے دوسرے دن غلوں کی کشادگی کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے تقریباً 8 افراد پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی۔ درگاہ یوسفینؒ میں جملہ 11 غلے ہیں جن میں تین غلے اہم شمار کیے جاتے ہیں جن میں ہمیشہ زیادہ رقم برآمد ہوتی ہے۔ غلوں کی کشادگی کے بعد مذکورہ ٹیم نے جو حساب داخل کیا اس سے رقم کی لوٹ واضح طور پر ثابت ہورہی ہے۔ وقف بورڈ کے صدرنشین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو اس اسکام سے اس لیے بھی لا علم رکھا گیا کیوں کہ اس ٹیم میں ان سے قربت رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔ صدرنشین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ کے موجودہ بحران کی یکسوئی اور سیکشنوں میں کام کی بحالی کے سلسلہ میں مصروف ہیں تو دوسری طرف مذکورہ ٹیم نے ہاتھ کی صفائی کا کچھ ایسا مظاہرہ کیا جسے دیکھ کر درگاہ کے خدمت گزار بھی دنگ رہ گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتہائی چالاکی کے ساتھ بڑے غلے سے ملنے والی تمام بڑی کرنسی نوٹوں کو غائب کردیا گیا اور باقی دو بڑے غلوں میں بڑی کرنسی نوٹوں کی تعداد معمولی دکھائی گئی۔ مقامی افراد جو غلوں کی کشادگی اور نوٹوں کی گنتی کے کام کا دور سے مشاہدہ کررہے تھے، ان کے مطابق پہلے بڑے غلے میں بڑی تعداد میں 2000 اور 500 کے کرنسی نوٹ برآمد ہوئے تھے جنہیں علیحدہ طور پر رکھ دیا گیا لیکن جب اس غلہ سے برآمد کردہ نوٹوں کی تفصیلات تحریر کی گئیں تو ان میں ان دونوں بڑے کرنسی نوٹوں کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ان نوٹوں کی تعداد کی جگہ صفر تحریر کردیا گیا۔ ظاہر ہے کہ ٹیم میں شامل افراد نے ہی ان نوٹوں پر ہاتھ صاف کیا ہوگا۔ اس کے علاوہ دیگر غلوں سے بھی بڑے کرنسی نوٹوں کو غائب کرنے کی شکایات ملی ہیں اور مقامی افراد میں یہ اطلاعات تیزی سے گشت کررہی ہے کہ وقف بورڈ کی ٹیم نے درگاہ کے غلوں کو لوٹ لیا ہے۔ وقف بورڈ کے اعلی عہدیدار اپنی پریشانیوں میں ہیں تو دوسری طرف کرپشن کے عادی افراد عادت سے مجبور امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ پہلے بڑے غلے میں 2000 اور 500 کی ایک بھی کرنسی دستیاب نہیں ہوئی تو پھر دوسرے غلے میں کس طرح 500 کے 62 اور 2000 کے 5 کرنسی نوٹس برآمد ہوئے۔ ظاہر ہے کہ پہلے غلے میں بھی یہ نوٹ ضرور موجود تھے لیکن حساب کے وقت غائب کردیا گیا۔ اس طرح 11 غلوں میں بھاری رقم کی ہاتھ کی صفائی کردی گئی اور مجموعی طور پر تقریباً 6 لاکھ روپئے کی وصولی کا حساب داخل کیا گیا۔ مقامی افراد کا ماننا ہے کہ مذکورہ 8 رکنی ٹیم نے کم سے کم 2 لاکھ روپئے کا غبن کیا ہے اور یہ وقف بورڈ کے ساتھ خیانت کا معاملہ ہے۔ صدرنشین اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کو فوری اس معاملہ کی جانچ پولیس کے حوالے کرنی چاہئے تاکہ تفتیش میں خاطی اپنا جرم قبول کریں۔ پولیس کے ذریعہ ہی جرم کو اگلوایا جاسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ غلوں کی کشادگی کے وقت ایک ویڈیو گرافر موجود ہوتا ہے لیکن یہ چالاک لوگ ویڈیو گرافر کو کسی نہ کسی بہانے دوسرے غلوں کی جانب روانہ کرتے ہیں اور یہاں ہاتھ کی صفائی کردی جاتی ہے۔ کچھ یہی حال گزشتہ اس ویڈیو گرافر کے ساتھ بھی کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 8 رکنی ٹیم کی قیادت کرنے والے 3 ریٹائرڈ عہدیدار سابق میں مختلف بدعنوانیوں کے تحت وقف بورڈ میں معطل کیئے جاچکے ہیں۔ ان میں سے دو تو ایسے ہیں جو غلوں کی کشادگی کے وقت رقم کی چوری کے الزام میں رنگے ہاتھ پکڑے گئے تھے۔ ایک ریٹائرڈ عہدیدار درگاہ یوسفین کے غلے سے چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور اسی کو دوبارہ غلے کی کشادگی کی ٹیم میں شامل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تین ریٹائرڈ عہدیداروں نے اس اسکام کی قیادت کی اور زیادہ حصہ ان کے جیبوں میں منتقل ہوا۔ جبکہ دیگر ملازمین کو معمولی رقم ملی۔ اس سارے معاملے کی جانچ کے ذریعہ ہی حقائق کا پہ چلایا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT