Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت روح اللہ نیک نام پورہ کی 13 ایکڑ موقوعہ اراضی خطرہ میں

درگاہ حضرت روح اللہ نیک نام پورہ کی 13 ایکڑ موقوعہ اراضی خطرہ میں

حیدرآباد 17 مارچ (نمائندہ خصوصی) ریاست میں حکومت خواہ کسی بھی پارٹی کی ہو، اس کے ذمہ داروں اور عہدیداروں نے اپنے ہر مقصد کے لئے اوقافی اراضیات کو ہی نشانہ بنایا ہے یا پھر اوقافی اراضیات کو نشانہ بنانے والے لینڈ گرابرس کے تئیں نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے یا حکومت سرے سے ہی انجان بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ شرپسند لینڈ گرا

حیدرآباد 17 مارچ (نمائندہ خصوصی) ریاست میں حکومت خواہ کسی بھی پارٹی کی ہو، اس کے ذمہ داروں اور عہدیداروں نے اپنے ہر مقصد کے لئے اوقافی اراضیات کو ہی نشانہ بنایا ہے یا پھر اوقافی اراضیات کو نشانہ بنانے والے لینڈ گرابرس کے تئیں نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے یا حکومت سرے سے ہی انجان بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ شرپسند لینڈ گرابرس بے خوف و خطر اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کرتے جارہے ہیں۔ ایسے ہی مقبوضہ اوقافی اراضیات میں سے ایک نیک نام پورہ کی موقوفہ اراضی ہے جو دراصل مہدویہ قبرستان ہے۔ اگرچہ کہ وقف بورڈ نے اس علاقہ میں جگہ جگہ بورڈ نصب کردیئے تھے مگر وائی سی آر انکلیو کے کنٹراکٹر اور اس کے حامیوں نے یہ بورڈس نکال کر پھینک دیئے۔ جس کے بعد وقف بورڈ نے یہاں کے پہاڑوں پر وقف بورڈ تحریر پینٹ کروایا تھا مگر یہ شرپسند کنٹراکٹر ان پہاڑوں کو بڑے بڑے مشینوں اور برما بارود کے ذریعہ اُڑا دے رہے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل اسی اراضی پر سکریٹریٹ کے ملازمین کی رہائش کے لئے 850 پلاٹس بنائے گئے ہیں جس پر یہ ملازمین دھیرے دھیرے اپنے مکانات تعمیر کررہے ہیں۔ ہم آپ کو مہدویہ قبرستان نیک نام پورہ کی تاریخ سے واقف کراتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ موقوفہ مہدویہ قبرستان کبھی 100 ایکڑ اراضی پر مشتمل تھا جس پر بتدریج قبضے جاری ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس سے قبل 26 اگسٹ 2009 ء میں اُس وقت کے وزیر اوقاف جناب احمد اللہ اور صدرنشین وقف بورڈ الیاس سیٹھ نے مہدویہ قبرستان کا دورہ کیا تھا اور مطلوبہ اقدامات کا تیقن دیا تھا مگر بتدریج حالات بدستور برقرار رہے۔ قبل ازیں سال 2005 ء میں وقف سکنڈ سروے کروایا گیا۔ اس وقت تک بھی 14 ایکڑ اراضی محفوظ تھی جس کی وقف سروے میں نشاندہی کی گئی ہے۔ اس قبرستان کے قبور پر جو تختیاں موجود ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ 400 سالہ قدیم قبرستان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1995 ء میں بی جے پی کے رکن اسمبلی بدم بال ریڈی نے دلت طبقات کے افراد کی بڑی تعداد میں جھونپڑیاں ڈلوادیا تھا۔ تاہم بعد میں ضلع کلکٹر رنگاریڈی نے ان جھونپڑیوں کو برخاست کردیا تھا۔ بعدازاں سال 2003 ء میں تلگودیشم دور حکومت میں چندرابابو نائیڈو نے سکریٹریٹ ملازمین کی کالونی تعمیر کے لئے اس موقوفہ اراضی پر اجازت دے دی اور ان ملازمین کی کوآپریٹیو سوسائٹی کے صدرنشین موقوفہ اراضی پر کالونی کو دن بدن وسعت دیتا جارہا ہے۔ یہاں ایک دائرہ ابراہیم باغ حضرت بندگی میںا روح اللہ کے اطراف پہاڑوں کو بھی توڑا جارہا ہے۔ آج ہم نے اسی موقوفہ اراضی کا تفصیلی جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ وقف بورڈ نے پہاڑوں پر جو پینٹ کروایا ہے اُسے پیچھے کے حصے سے توڑا جارہا ہے۔ جبکہ وقف بورڈ اس خوش فہمہی میں مبتلا ہے کہ اس نے ہر جگہ پہاڑوں پر یہ اراضی وقف ہے لکھ دیا ہے۔ حالانکہ شرپسند عناصر پیچھے کے حصے بڑے بڑے مشینوں کے ذریعہ پہاڑوں کو توڑ کر راستہ بنانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر اس موقوفہ جائیداد کی تباہی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا تو وقف بورڈ کے پاس بوسیدہ کاغذات و دستاویزات ہی رہ جائیں گے اور 13 ایکڑ اراضی پر بھی قبضہ ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT