Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت سدی عنبر شاہؒ کی اراضی کا تنازعہ

درگاہ حضرت سدی عنبر شاہؒ کی اراضی کا تنازعہ

مقامی افراد اور درگاہ کمیٹی کے ایک دوسرے پر الزامات ، وقف تماشائی نہ بنے

مقامی افراد اور درگاہ کمیٹی کے ایک دوسرے پر الزامات ، وقف تماشائی نہ بنے

حیدرآباد ۔ 20 ڈسمبر (ابوایمل) حضرت سدی عنبر شاہ میاں صاحب ایک بلند پایہ متقی اور شب بیدار بزرگوں میں سے ایک ہیں ۔ آپ کا زمانہ اب سے تقریباً 300 سالہ قدیم ہے ۔ آپ ہی کے نام سے علاقہ عنبر پیٹ کو موسوم کیا گیا ہے ۔ اس علاقہ میں آپ کا تقریباً 300 سالہ قدیم مزار شریف ہے جو درگاہ حضرت سدی عنبر شاہ میاں صاحبؒ عنبرپیٹ کے نام سے عوام میں مشہور ہے ۔ جہاں 900 گز کے ایک وسیع چبوترے پر یہ تاریخی درگاہ قائم ہے ایک جو مکمل پتھر کی مضبوط اور کافی خوبصورت ہے ، لیکن ان دنوں عنبرپیٹ اور اطراف و اکناف میں عوام اس قدیم درگاہ کی اراضی کے بارے میں بے چینی کا شکار ہیں اور اس کے تحفظ کے نام پر کورٹ ، اخبارات کے ایڈیٹرس ، آر ٹی آئی کے دفاتر اور پولیس کا چکر کاٹ رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں متفکر عوام کے ایک گروپ نے دفتر روزنامہ سیاست سے رجوع ہو کر تحریری شکایت پیش کی اور مذکورہ اراضی سے متعلق تفصیلات پیش کرتے ہوئے اسے اخبارات کے ذریعہ حکومت ، وقف بورڈ اور فکر مند شہریوں تک پہنچانے کی اپیل کی ۔ ان افراد کے مطابق درگاہ عنبر شاہ میاں کی وقف اراضی پر نہ صرف ناجائز قبضے کئے جاچکے ہیں بلکہ تعمیرات بھی کر لی گئی ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مابقی اراضی پر بھی ناجائز تعمیرات کرلی جائیں گی ۔ بقول ان کے جو لوگ ان اراضیات پر قابض ہیں وہ کرایہ دار ہیں یا یونہی عرصہ دراز سے قابض ہیں یہ بھی واضح نہیں ہے ، ان کی اس شکایت کے بعد نمائندہ سیاست نے مقام کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ درگاہ شریف کا چبوترہ 900 گز اراضی پر مشتمل ہے جبکہ مابقی زمین پر سڑک نکالی گئی ہے ۔ یہاں پر ایک حصے میں غیرمسلم کا قبضہ ہے اور ایک حصہ پر گاندھی جی کا مجسمہ وقف اراضی پر نصب ہے اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ان اراضیات سے اچھی خاصی آمدنی ہوسکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس حوالے سے پہلے مناسب سروے کیا جائے ۔ چونکہ مقامی عوام درگاہ شریف کے موجودہ کمیٹی سے ناراض ہیں اور ان پر من مانی کرنے اور قابضین کے ساتھ سازباز کرنے کے الزامات عائد کررہے ہیں ، تاہم نمائندہ نے جب اس مسئلے پر کمیٹی کے ارکان سے ربط کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف ایک منظم سازش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے خلاف الزامات لگارہیں وہ اپنے ناپاک منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔ یہ ہمارے لئے ایک آزمائش ہے اور ہم اس آزمائش میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ حکومت جلد سے جلد اس درگاہ کی اراضی کا سروے کرائے ، جو لوگ قابض ہیں ان کو برخاست کر ے تاکہ آمدنی میں اضافہ ہوسکے ۔ دوسری طرف عنبر پیٹ کے بزرگ حضرات نے بتایا کہ درگاہ کی اراضی 6 ایکڑ تھی۔ جبکہ وقف بورڈ گزٹ میں 2161 گز اراضی کا ذکر ہے، حالانکہ سروے کمشنر وقف سے آر ٹی آئی کے ذریعہ تفصیلات حاصل کی گئیں تو پتہ چلا کہ یہاں 2441 گز اراضی وقف شدہ ہے اسی طرح یہاں بھی فرق واضح طور پر نظر آرہا ہے ۔ جلال الدین اکبر ایک ایماندار آفیسر ہیں لہٰذا بہتر یہ ہوگا کہ وہ اپنی نگرانی میں اس قیمتی وقف اراضی کا سروے کرائیں تاکہ پرسکون طریقے سے اس تنازعہ کا حل نکل سکے ۔ وقف بورڈ کی گزٹ میں اس درگاہ کا درج ریکارڈ حسب ذیل ہے ۔
Hyd/111
Dargah Hazrat Ambar Miyan
No.2-3-129 (S) (19)
Amberpet Ward-2
(Area sq yds 21615) Gaz-24-B
SI.No.58 GAZ Date/F/No.17-06-1982, pg-No.30

TOPPOPULARRECENT