درگاہ حضرت سید شاہ علی عباس حسینی ؒ کوکٹ پلی کی اراضی کا معاوضہ

جی ایچ ایم سی ۔ حیدرآباد میٹرو ریل سے 1.85 کروڑ روپئے حاصل کرنے وقف بورڈ کی کوشش نام نہاد متولی کے خلاف کارروائی کرنے اسپیشل آفیسر شیخ محمد اقبال کا فیصلہ

جی ایچ ایم سی ۔ حیدرآباد میٹرو ریل سے 1.85 کروڑ روپئے حاصل کرنے وقف بورڈ کی کوشش
نام نہاد متولی کے خلاف کارروائی کرنے اسپیشل آفیسر شیخ محمد اقبال کا فیصلہ

حیدرآباد ۔ 8 ۔ اپریل : کوکٹ پلی میں درگاہ حضرت سید شاہ علی عباسؒ اور اس کے تحت موقوفہ 6 ایکڑ اراضی موقوفہ ہے اور یہ ایک وقف جائیداد ہے اس کے باوجود سابق متولی سید صابر الدین قادری مرحوم کے بیٹے سید عارف الدین قادری نے خود کو اس درگاہ کا متولی ظاہر کرتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ اور جی ایچ ایم سی سے 831 مربع گز اراضی کا معاوضہ 1.85 کروڑ روپئے کا چیک حاصل کرلیا حالانکہ وقف بورڈ نے سید عارف الدین قادری ساکن قاضی پورہ کو کبھی بھی درگاہ حضرت سید شاہ علی عباس کا متولی تسلیم ہی نہیں کیا ۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال آئی پی ایس کا کہنا ہے کہ ریاستی وقف بورڈ نے جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد میٹرو ریل کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے درگاہ کی حاصل کردہ اراضی کا معاوضہ ریاستی وقف بورڈ کے حوالے کرنے پر زور دیا ہے ۔ اس مکتوب میں یہ بھی کہا ہے کہ نام نہاد متولی کو جو 1.85 کروڑ روپئے بطور معاوضہ ادا کئے گئے ہیں اس کی وصولی جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کا درد سر ہے اس سے وقف بورڈ کا کوئی تعلق نہیں ایسے میں مذکورہ دونوں ادارے اس موقوفہ اراضی کا معاوضہ جو 1.85 کروڑ روپئے بنتا ہے فوری وقف بورڈ کو ادا کرے ۔ جناب شیخ محمد اقبال آئی پی ایس نے یہ بھی بتایا کہ وقف بورڈ ٹاسک فورس کی ٹیم عنقریب درگاہ حضرت سید شاہ علی عباس کا دورہ کرتے ہوئے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کو خصوصی رپورٹ پیش کرے گی جس کے بعد اسپیشل آفیسر وقف بورڈ خود اس درگاہ کا معائنہ کریں گے ۔ وقف بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر نشین ریاستی وقف بورڈ مولانا خسرو پاشاہ کی ہدایت پر کمشنر پولیس سائبر آباد میں سید عارف الدین قادری کے خلاف 03-06-2013 اور 04-06-2013 کو ایک شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے ایک ایف آئی آر بھی درج کی تھی ۔ راقم الحروف نے آج اس درگاہ کا دورہ کیا دیکھا کہ وہاں ایک باونڈری تعمیر کرلی گئی ہے ۔

مقامی عوام کا کہنا ہے کہ سید عارف الدین قادری اس جائیداد کو خانگی جائیداد قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ان کی اپنی جائیداد ہے ۔ کوکٹ پلی کے جس علاقہ میں یہ درگاہ شریف واقع ہے وہاں اراضی کی قیمت فی مربع گز ایک لاکھ روپئے سے زائد ہے ۔ ایسے میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آخر درگاہ کی 6 سے زائد ایکڑ اراضی کہاں گئی ؟ زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟ شیخ محمد اقبال نے اپنے ماتحت عہدیداروں کو اس درگاہ کے تحت اراضی کی فائل دوبارہ کھولنے کی ہدایت دی ہے ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سید عارف الدین قادری نے درگاہ کی اراضی پر نصب کردہ وقف بورڈس کے دو بورڈس بھی اکھاڑ دئیے جب کہ قریب میں واقع 6 کالجس میں زیر تعلیم طلبہ کی اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں ان لوگوں نے وہاں ایک مسجد تعمیر کرنے کی بات کہی تھی ۔ آج چند طلبہ نے دفتر سیاست پہنچ کر سید عارف الدین قادری کے بارے میں واقف کروایا اور بتایا کہ وہ شخص موقوفہ اراضی پر مسجد تعمیر کرنے کے خلاف ہے جب کہ ان طلبہ کو امید ہے کہ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ وہاں مسجد تعمیر کروانے کی اجازت ضرور دیں گے ۔ آپ کو بتادیں کہ وقف گزٹ نمبر 6A مورخہ 9-2-1989 میں اس درگاہ کے بارے میں تمام تفصیلات درج ہیں ۔ اسپیشل آفیسر بورڈ کے مطابق وقف بورڈ اس اراضی کا معاوضہ جی ایچ ایم سی اور حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ سے حاصل کر کے رہیں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے جنہوں نے وقف بورڈ کی بجائے معاوضہ ایک فرد کو دیا ہے کس طرح معاوضہ کی رقم سید عارف الدین قادری سے واپس حاصل کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT