Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت میر مومن چپؒ ، علی آباد کی 26 ہزار مربع گز اراضی کہاں گئی ؟

درگاہ حضرت میر مومن چپؒ ، علی آباد کی 26 ہزار مربع گز اراضی کہاں گئی ؟

غفلت کی نیند کب تک ؟ اپنی غلطیوں کے لیے دوسروں سے شکوہ کرنا غلط

غفلت کی نیند کب تک ؟ اپنی غلطیوں کے لیے دوسروں سے شکوہ کرنا غلط
حیدرآباد ۔ 2 ۔ ستمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو سارے ہندوستان میں مسلمان کا مرکز تصور کیا جاتا ہے ۔ یہاں کے مسلمانوں کی تعلیمی و اقتصادی ترقی کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔ موقوفہ جائیدادوں کے انتظام و انصرام کا بھی یہاں بہت اچھا انتظام ہے سارے ملک میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس تاریخی شہر میں جہاں مسلمانوں نے کئی سو برس حکمرانی کی ، موقوفہ جائیدادوں کی طرف نظریں اٹھانے کی کسی میں ہمت نہیں ہے ۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چارمینار سے صرف ایک دو کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع علی آباد میں درگاہ حضرت سید میر مومن چپؒ کی وقف اراضی 26,038.0 مربع گز باقی نہیں رہی ۔ شہر حیدرآباد میں ہزاروں بزرگان دین اولیاء اللہ و صالحین کی بارگاہیں موجود ہیں جہاں برسہا برس سے درود شریف کی محافل ، قصیدہ بردہ شریف کے علاوہ پابندی سے محفل سماع کا بھی انعقاد عمل میں آتا رہا ہے ۔ حیدرآباد شہر نے کئی نشیب و فراز دیکھے ۔ پرانا شہر کے بعض علاقوں کو فسادات کے موقع پر جلتے دیکھا ۔ لیکن اب حیدرآباد میں نئی وباء پھیل رہی ہے ۔ وہ ہے درگاہوں ، قبرستانوں کی وقف اراضیات پر قبضہ کی وباء جس میں اپنوں کے ساتھ ساتھ اغیار بھی ملوث ہیں ۔ اس طرح کا ایک قبضہ محلے علی آباد میں واقع درگاہ حضرت سید میر مومن چپ ؒ پر ہوا ہے ۔ درگاہ شریف کی تقریبا اراضی پر قبضہ کرلیا گیا ۔ اطراف میں مکمل غیر مسلم آبادی ہے ۔ درگاہ کے سماع خانہ کو ورک شاپ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس سماع خانہ کی 10 کمانیں ہیں اور قدیم طرز کا ایک نمونہ ہے ۔ درگاہ شریف کے احاطہ میں کئی قبور ہیں جو کہ اب غیروں کے قبضے میں ہیں ۔ تقریبا قبریں مسمارکردی گئی ہیں ۔ درگاہ شریف کے حدود میں شراب نوشی کا بازار گرم رہتا ہے ۔ متعلقہ پولیس اس سلسلہ میں خاموش ہے ۔ اس درگاہ شریف کی اراضی پر قبضے 1990 سے شروع ہوئے جو آج تک جاری ہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ ایک ایسی حکمت عملی تیار کی جائے جس کے ذریعہ باقی بچی اراضی کومحفوظ کیا جاسکے ۔ وقف بورڈ حرکت میں آئے فوری درگاہ قبرستان کی حصار بندی کرے ۔ پچھلے 23 سالوں سے قبر سے زمین برابر کر کے ان گنت مکانات غیروں نے پختہ بنا لیے ہیں ۔ حیرت ہے وقف بورڈ کی بے حسی پر کہ ریکارڈ مکمل رہنے کے باوجود کوئی حرکت نہیں کرتا جو اسطرح ہے :
Hyd/1825 Dargah Syed Shah Mir Momin Chup, Out side aliabad, ward-18, area-26,038.0, Gaz-20-A, Sl.No.1971, Date.Gaz.16-5-1985, Page.No.5
وقف بورڈ کا وجود محض موقوفہ جائیداد کے تحفظ کے لیے ہے۔ اس بنیادی اصول کی روشنی میں مسلمانوں کے اس قیمتی اثاثہ پر غیروں کا قبضہ کرلینا ، وقف بورڈ کی ذمہ داری پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT