Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حضرت نبی شاہ حسینیؒ ، حسینی علم کی چینگی چیرلہ میں 2592.11 ایکڑ اراضی

درگاہ حضرت نبی شاہ حسینیؒ ، حسینی علم کی چینگی چیرلہ میں 2592.11 ایکڑ اراضی

حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو اولیاء اللہ کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اور آج بھی یہاں بزرگوں کے مزارات اور خانقاہیں مرجع ، خلائق بنے ہوئے ہیں ۔ حیدرآباد میں آرام فرما یہ بزرگان دین دولت و شہرت اور اقتدار کے پیچھے بھاگا نہیں کرتے تھے ۔ اللہ کے ان محبوب بندوں کو یہ بھی گوارہ نہیں تھا کہ اقتدار کی چوکھٹ پر ان کے قدم پڑ

حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو اولیاء اللہ کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اور آج بھی یہاں بزرگوں کے مزارات اور خانقاہیں مرجع ، خلائق بنے ہوئے ہیں ۔ حیدرآباد میں آرام فرما یہ بزرگان دین دولت و شہرت اور اقتدار کے پیچھے بھاگا نہیں کرتے تھے ۔ اللہ کے ان محبوب بندوں کو یہ بھی گوارہ نہیں تھا کہ اقتدار کی چوکھٹ پر ان کے قدم پڑیں بلکہ امراء و رئیسوں کی قربت کو وہ ہلاکت میں ڈالنے والی چیز سمجھا کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ وقت کے حکمراں بھی ان کے در پر اپنی حاضری کو خوش بختی تصور کیا کرتے تھے اور چونکہ اللہ والوں نے ہمیشہ انہیں پیش کئے جانے والے نذرانوں جائیدادوں کو غریبوں و محتاجوں میں تقسیم کیا اس لیے حکمرانوں سے لے کر امراء ان اولیائے اللہ کی درگاہوں کے تحت بندگان خدا کی خدمت کے لیے اراضیات و جائیدادیں وقف کردیا کرتے تھے اور درگاہوں کے قریب اپنے مصارف سے مساجد و خانقاہوں کی تعمیرات عمل میں لاتے تھے ۔ جس کے نتیجہ میں آج بھی ایسی سینکڑوں درگاہیں جن کے لیے ہزاروں ایکڑ قیمتی اراضیات کو وقف کردیا گیا تھا ۔

مثال کے طور پر پرانا شہر کے قدیم محلہ حسینی علم میں درگاہ حضرت نبی شاہ حسینیؒ اور اس کے تحت چند جائیدادیں مسجد چنور پیراںؒ ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس درگاہ کے تحت ضلع رنگاریڈی اور گھٹکیسر منڈل کے مشہور و معروف مقام چینگی چیرلہ میں جملہ 2592 ایکڑ 11 گنٹے اراضی ہے اور یہ قیمتی اراضی سروے نمبر 144 کے تحت ظاہر کی گئی ہے ۔ گزٹ نوٹیفیکشن نمبر 6-A ، مورخہ 9 فروری 1989 سیرئیل نمبر 2772 ، چینگی چیرلہ گھٹکیسر منڈل ضلع رنگاریڈی میں اس موقوفہ جائیداد کے بارے میں تمام تفصیلات موجود ہیں ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس قدر قیمتی اراضی کی حفاظت کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے نتیجہ میں اپنوں اور غیروں نے جیسا چاہا اسے لوٹا سودے بازی کی اس کے باوجود ریاستی وقف بورڈ بڑی بے فکری اور بے حسی کے ساتھ اس قیمتی موقوفہ اراضی کی تباہی کا منظر دیکھتا رہا ۔ بتایا جاتا ہے کہ درگاہ حضرت نبی شاہ حسینیؒ کے تحت اس موقوفہ اراضی پر سرکاری و خانگی ادارے قائم کردئیے گئے ۔ اس علاقہ میں چینگی چیرلہ مسلخ خانہ بھی واقع ہے ۔ واضح رہے کہ چنگی چیرلہ میں 150 تا 200 گز کا مکان 32 لاکھ روپئے میں فروخت کیا جارہا ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 2592 ایکڑ 11 گنٹے اراضی کی قیمت ہزاروں کروڑ روپئے ہوسکتی ہے ۔ اس قیمتی جائیداد کی لوٹ کھسوٹ میں بتایا جاتا ہے کہ وقف ریکارڈ میں بھی مبینہ طور پر رد و بدل کیا گیا ہے ۔ مسجد اور درگاہ کے تحت وقف کردہ مشروط الخدمت جائیدادوں کی حفاظت کا بہانہ کرتے ہوئے بھی مفاد پرست عناصر نے دینی و دنیاوی زندگیوں کو سنوار لیا

لیکن ان بیوقوفوں نے اپنی آخرت تباہ کرلی حد تو یہ ہے کہ اکٹوبر 2012 میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر اے پی اسٹیٹ وقف بورڈ سے ایک نمائندگی کرتے ہوئے 11 رکنی ( بشمول صدر نائب صدر سکریٹری اور خازن ) کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست کی گئی لیکن چند سیاسی وجوہات اور مفادات کے ٹکراؤ کے نتیجہ میں بورڈ نے اس درخواست پر غور نہیں کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ خواجہ غلام حسین خان جائرفان خاں نے فارسی زبان میں تاریخ آصف جا ھیان ( گلزار آصفیہ ) نامی ایک کتاب تالیف کی تھی اور اس کتاب کی اشاعت کا ڈاکٹر محمد مہدی توسکی نے اہتمام کر کے مرکز تحقیقات فارس ایران و پاکستان اسلام کے توسط سے شائع کروایا تھا ۔ اس کتاب کے صفحہ نمبر 363 پر حضرت شاہ راہی صاحب قدس سرہ کا شجرہ اور دیگر تفصیلات درج ہیں ۔ اب اہم بات یہ ہے کہ اسپیشل سکریٹری وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال نے کل ہی ریاست میں وقف جائیدادوں کے قابضین کو قبضے برخاست کرنے یا بورڈ سے رجوع ہو کر کرایہ دار بن جانے کا انتباہ دیا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بورڈ ملکاجگری میں واقع 384 ایکڑ اراضی ، کوہ مولا علی ملکاجگری میں 232 ایکڑ ، کوہ امام ضامن ترمل گری کی 82.27 ایکڑ اراضی درگاہ حضرت میر مومن چپ کی بوڈاپل میں واقع 400 ایکڑ اور سرور نگر میں واقع 1200 ایکڑ ، عاشور خانہ علی سعید کی مامڑپلی سرور نگر میں 490 ایکڑ درگاہ نواز جنگ مامڑ پلی میں 228 ایکڑ ، درگاہ حضرت شاہ راجو قتال حسینیؒ کونگرا خورد میں 528 ایکڑ ، حضرت بابا شرف الدین پہاڑی شریف کی 2131 ایکڑ ، درگاہ حضرت مخدوم بیابانی کی آلور میں 265 ایکڑ اراضی کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔

ایسے میں اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب شیخ محمد اقبال آئی پی ایس درگاہ حضرت نبی شاہ حسینی کی 2592 ایکڑ 11 گنٹے اراضی کے ساتھ ساتھ مسجد الماس الماس پیٹ چوٹ اوپل کی 428 ایکڑ ، بالا پور پہاڑ کی درگاہ کی 1200 ایکڑ زو میں 57 ایکڑ ، مشک محل عطا پور کی 6 ایکڑ بڑی مسجد عطا پور کی 7 ایکڑ اراضی کے بارے میں بھی چھان بین کریں اس سے وقف بورڈ کو ہزاروں کروڑ روپیوں کا فائدہ ہوسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT