Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / درگاہ حکیم شاہ بابا کی لاکھوں کروڑ مالیتی 323 ایکڑ موقوفہ اراضی پر ناجائز قبضے

درگاہ حکیم شاہ بابا کی لاکھوں کروڑ مالیتی 323 ایکڑ موقوفہ اراضی پر ناجائز قبضے

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی) : ٹولی چوکی کی شمالی جانب ایک پر فضا مقام پرا یک مسجد خانقاہ اور عیدگاہ اور گنبد واقع ہے اور یہاں سے ایک سڑک اپولو ہاسپٹل جوبلی ہلز کی طرف جاتی ہے یہ گنبد قطب شاہی طرز کی ہے اور حکیم شاہ بابا کی نسبت سے یہ گنبد حکیم کے گنبد سے مشہور ہے ۔ باب الداخلہ پر یہ کتبہ موجود ہے ’’ حضرت الحکیم 1059 ھ ( مطابق 1649 ء

حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی) : ٹولی چوکی کی شمالی جانب ایک پر فضا مقام پرا یک مسجد خانقاہ اور عیدگاہ اور گنبد واقع ہے اور یہاں سے ایک سڑک اپولو ہاسپٹل جوبلی ہلز کی طرف جاتی ہے یہ گنبد قطب شاہی طرز کی ہے اور حکیم شاہ بابا کی نسبت سے یہ گنبد حکیم کے گنبد سے مشہور ہے ۔ باب الداخلہ پر یہ کتبہ موجود ہے ’’ حضرت الحکیم 1059 ھ ( مطابق 1649 ء ) دراصل یہ حکیم نظام الدین احمد جیلانی کا مقبرہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حکیم تقریبا ایک سو طبی رسالہ جات کے مصنف تھے حالانکہ پہاڑی کے دامن میں حکیم پیٹ آباد ہوا تاہم اس پہاڑی کا تاریخی نام جبل نور ہے ۔ مگر آج ہم اس علاقے کی تاریخ نہیں بلکہ یہاں پیش آنے والے افسوسناک واقعات اور موقوفہ اراضی کی تباہی اور اس تباہی پر اہل اقتدار و اختیار کی معنی خیز خاموشی کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں دراصل اس موقوفہ اراضی پر حالات کشیدہ ہیں ۔ یہاں پر پولیس پکٹ تعینات ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موقوفہ اراضی پر پچھلے 6 ماہ سے نہ صرف مندر تعمیر کردئیے گئے ہیں اور اب اس مندر کے لیے راستہ بنانے کے لیے متذکرہ درگاہ کی باونڈری وال کو توڑ دیا گیا ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر قیمتی موقوفہ اراضیات پر پچھلے 6 ماہ سے مندر کی تعمیر کا کام چلتا رہا مگر کسی کو اس کی بھنک تک نہیں ہوئی تاہم جب اس مندر کے لیے راستہ بنانے جب درگاہ شریف کی باونڈری وال کو فورا توڑا گیا تو مقامی افراد میں بے چینی اور کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ مقامی افراد کے مطابق اس قدر رازدارانہ اور شر انگیز حرکت کے پیچھے سابق کانگریسی وزیر لیبر کا ہاتھ ہے ۔ جنہوں نے شرپسندوں کی پشت پناہی کی ۔ مگر سوال یہ ہے کہ مذکورہ وزیر کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے ؟ جس نے ایک موقوفہ اراضی پر مندر تعمیر کرنے میں مدد کی ہے ۔ چونکہ یہ مندر راتوں رات تو نہیں بنی ہے تقریبا 6 ماہ تک تعمیری کام ہوتا رہا ۔ اور پھر یہ درگاہ سے بالکل قریب تعمیر کی گئی ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سارا معاملہ ملی بھگت کا نتیجہ ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے دور میں اس درگاہ کی سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ۔ یہاں پر اراضی کی قیمت زائد از 2 لاکھ روپئے فی گز ہے جب کہ یہاں پر 323 ایکڑ 18 گنٹے موقوفہ اراضی ہے ۔ آئیے ہم اس کا مختصر تاریخی جائزہ پیش کرتے ہیں ۔ دراصل متذکرہ اراضی درگاہ شریف کو قطب شاہی دور کے ماضی کے بادشاہ نے بطور عطیہ دیا ہے ۔ نوٹیفیکیشن مورخہ یکم جولائی 1982 میں درگاہ حضرت حکیم شاہ بابا سے متعلق شائع کیا گیا تھا اور اس کی جائیداد کے حدود شمال ، جنوب ، مشرق اور مغرب کو وقف جائیداد بنایا گیا ہے ۔ جس سے یہ واضح طور پر ثبوت ہے کہ اس اراضی کا جملہ رقبہ 323 ایکڑ 18 گنٹے وقف اراضی اور متذکرہ بالا درگاہ سے متعلق ہے ۔ 1321 ہجری کے منتخب نمبر 1254 اور ریفرنس نمبر 786/4 ( 1321 ہجری ) کے مطابق عبدالقدوس ٹاسک فورس آفیسر سینئیر اسسٹنٹ اے پی اسٹیٹ وقف بورڈ نے 19 ستمبر 2011 کو فائل نمبر 6/TF/Hyd رپورٹ دی ۔ گذشتہ نوٹیفیکیشن 1982 میں تصحیح شدہ جاری ہوا ۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ میں اس مسئلہ پر پیش کردہ ایجنڈہ مواد میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وقف بورڈ کی ٹاسک فورس ٹیم نے بھی اس جائیداد کا سروے کیا تھا اور اپنی رپورٹ 19 ستمبر 2011 کو داخل کی تھی جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ فلم نگر ، اپولو ہاسپٹل جوبلی ہلز میں واقع مذکورہ جائیدادیں اوقافی ہیں ۔ قبل ازیں 6 مئی 2013 کو پریس کانفرنس کے ذریعہ وقف بورڈ نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ قانونی جدوجہد کے ذریعہ مذکورہ موقوفہ اراضی کو حاصل کرلیا جائے گا مگر آج تک یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے ۔۔
آسرا اسکیم کا آج بورہ بنڈہ میں افتتاح
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ کی فوڈ سیکوریٹی آسرا اسکیم کے تحت فی خاندان کے فی آدمی کو راشن شاپ کے ذریعہ چھ کیلو چاول دینے کی اسکیم کے شاپ نمبر 828 بورا بنڈہ میں ریاستی وزیر کمرشیل ٹیکس مسٹر ٹی سرینواس یادو 7 جنوری بروز چہارشنبہ 10 بجے دن افتتاح کریں گے ۔ اس موقع پر رکن اسمبلی جوبلی ہلز مسٹر یم گوپی ناتھ ڈسٹرکٹ سپلائی آفیسر اسسٹنٹ سپلائی آفیسر کے علاوہ شاپ اونر مسٹر شراون کمار مسٹر عبدالطالب کے علاوہ پارٹی کارکن و دیگر موجود رہیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT