Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / درگاہ سید شہاب الدین سہروردیؒ کی اراضی پر مشن بھگیرتا

درگاہ سید شہاب الدین سہروردیؒ کی اراضی پر مشن بھگیرتا

تعمیری کام کو فوری روکنے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی سے مطالبہ
شمس آباد۔ 21 اگست (سیاست نیوز) شمس آباد کے علاقہ رالہ گوڑہ میں واقع درگاہ حضرت سید شہاب الدین سہروردیؒ کی اراضی میں چند دن قبل مشن بھاگیرتا کے تحت واٹر ٹینک کے تعمیری کام کا آغاز کرنے پر مقامی مسلمانوں کے احتجاج پر کام کو روک دیا گیا تھا جس کے بعد مقامی مسلمانوں کے ایک وفد نے ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی سے ملاقات کرکے ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے درگاہ کی اراضی کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تیقن دیا تھا کہ درگاہ کی اراضی کے تحفظ کیلئے تمام کئے جائیں گے اور مسئلہ کے حل ہونے تک کوئی تعمیری کام نہیں کیا جائے گا۔ مقامی مسلمانوں نے راجندر نگر رکن اسمبلی ٹی پرکاش گوڑ کو بھی ایک یادداشت پیش کی گئی تھی جس پر انہوں نے بھی تیقن دیا کہ اراضی کا مسئلہ حل ہونے تک کوئی تعمیری کام نہیں کیا جائے گا اور اب اچانک دوبارہ تعمیری کام شروع کردیا گیا ہے جس سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں کے ایک وفد نے آج شمس آباد ایرپورٹ حج کرمینل پر ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی سے ملاقات کرکے درگاہ کی اراضی کے متعلق کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی مسلمانوں نے ڈپٹی چیف منسٹر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تیقن دیا تھا کہ وہ درگاہ کی اراضی کے100 سال قدیم ریکارڈ کو حاصل کرکے کارروائی کریں گے لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور دوبارہ تعمیری کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ درگاہ کی اراضی پر کئی سال سے شرپسندوں کی جانب سے ناجائز قبضہ کی کوشش کی جارہی ہے جس کو مقامی مسلمان ناکام بنارہے ہیں۔ اس سلسلے میں وقف بورڈ میں بھی کئی مرتبہ شکایت کی گئی لیکن وقف بورڈ کی جانب سے بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ درگاہ کی جملہ 44 ایکڑ اراضی ہے جبکہ شمس آباد ریوینیو ریکارڈ میں صرف 2 ایکڑ اراضی ہی ظاہر کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اگر چاہے تو درگاہ کی اراضی کے تمام ریکارڈس ایک ہفتہ میں نکال کر مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں اور وقف بورڈ بھی آگے آکر کارروائی کرنے سے درگاہ کی اراضی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے لیکن کسی کو بھی درگاہ کی قیمتی اراضی کی فکر نہیں۔ مقامی مسلمان ہی درگاہ کی اراضی کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ہی اعلان کیا تھا کہ ریاست کے تمام وقف اراضیات کے تحفظ کے لئے حکومت اقدامات کرے گی۔ جب درگاہ کی اراضی کے تحفظ کیلئے یادداشت دی جارہی تھی تو کوئی کام انجام نہیں دیا جارہا ہے۔ وقف اراضیات کے تحفظ کیلئے زبانی نہیں عملی کام کی ضرورت ہے تب ہی وقف اراضیات کا تحفظ ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT