Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / درگا کی بھکتی پر ہندوپڑوسیوں کی جانب سے مسلم خواتین کی ستائش

درگا کی بھکتی پر ہندوپڑوسیوں کی جانب سے مسلم خواتین کی ستائش

منڈسور(مدھیہ پردیش) ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک 45 سالہ مسلم خاتون کی دیوی درگا کی نوراتری تہوار کے دوران بھکتی اور ایک درگامندر کی تعمیر میں اس کے حصہ پر ہندو پڑوسیوں نے اس کی دل کھول کر ستائش کی ہے۔ حالاں کہ اسے ایسا کرنے پر کئی دھمکیاں وصول ہوچکی تھیں۔ وہ ہاتھ جوڑ کر مندر آتی ہے اور دیوی درگا کی آرادھنا کرتی ہے۔ نوراتری کے تہوار کے دنوں میں صغری اشٹمی کے دن اپواس بھی کرتی ہے۔ یہ نوراتری کا 8 واں دن ہوتا ہے۔ سیتلا ماتا مندر سمیتی کے صدر بھیرو لال برہات نے کہا کہ مقامی ہندو اس کی درگا کے ساتھ سچی بھکتی کی ستائش کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر معمولی بھکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 10 تا 15 سال سے دیوی کی پوجا کررہے ہیں۔ ابتداء میں وہ محلہ کے ایک پلیٹ فارم پر درگا دیوی کی مورتی رکھ کر پوجا کیا کرتے تھے لیکن ایک رات دیوی اس کے خواب میں آئی اور اس سے خواہش کی کہ اس کے لئے مندر تعمیر کرے۔ صغری مزدور ہے، اور اس کی آمدنی ماہانہ صرف 4 ہزار روپئے ہے۔ وہ 3 بچوں کی ماں ہے۔ اس نے مندر کی تعمیر کے لئے لوگوں سے چندہ جمع کیا ۔ بعد میں بعض لوگوں نے مندر کی تعمیر کے لئے سوسائٹی قائم کردی۔ صغرا کا شوہر اسمائیل خان ویلڈر کا کام کرتا ہے۔ اس نے بھی مندر کی تعمیر کے لئے 27 ہزار روپئے چندہ جمع کیا ہے۔ مقامی رکن اسمبلی نے ایک لاکھ روپئے چندا دیا۔ تین سال کی مدت میں مندر کی تعمیر مکمل ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT