Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / دریائے کرشنا میں سیلفین کیاٹ فش سے تباہی

دریائے کرشنا میں سیلفین کیاٹ فش سے تباہی

دیگر مچھلیوں کی اموات ، مچھیروں کو نقصان ، محکمہ موسمیات کی توثیق
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) دریائے کرشنا میں داخل ہونے والی سیلفین مچھلی جسے سیلفین کیاٹ فش کے نام سے جانا جاتا ہے نے آبی مخلوق میں تباہی مچا رکھی ہے۔ دریائے کرشنا میں مچھلیوں کی اموات سے پریشان مچھیروں کا کہنا ہے کہ نہ صرف مچھلیاں فوت ہو رہی ہیں بلکہ انہیں بھی اس کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ دریائے کرشنا میں سیلفین کیاٹ فش کی بڑھتی تعداد مچھیروں کے جال اور دیگر اوزار کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں ساتھ ہی چند مچھیرے بھی اس خطرناک مچھلی کے کاٹنے کے سبب شدید زخمی ہوئے ہیں۔ دریائے کرشنا کے کنارے فوت مچھلیوں کی بڑی تعداد نے اس مچھلی کے دریا میں داخل ہونے کے خدشات پیدا کئے تھے لیکن جب بعض سیلفین کیاٹ فش کا شکار ممکن ہوا تو اس بات کی توثیق ہو گئی کہ یہ خطرناک مچھلی دریا میں داخل ہو چکی ہے اور دریا میں اس کی افزائش بھی ہو رہی ہے۔ محکمہ سمکیات کے عہدیداروں نے بھی اس بات کی توثیق کر دی ہے کہ یہ مچھلی دریائے کرشنا میں رسائی حاصل کرچکی ہے۔ پولاورم پراجکٹ کے دائیں کنال (پٹی سیما) کے راستے گوداوری کا پانی دریائے کرشنا میں 17جولائی کو چھوڑا گیا تھا اور 21جولائی سے مسلسل مردہ مچھلیاں کنارے پر پائی جانے لگی ہیں علاوہ ازیں مچھیرے جن مچھلیوں کا شکار کر رہے ہیں ان میں بھی بیشتر زخمی مچھلیاں حاصل ہورہی ہیں جس سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دریائے کرشنا میں اب مچھلیوں کا شکار خطرناک عمل بن چکا ہے ۔ سیلفین کیاٹ فش کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اس خطرناک مچھلی کے اوپری حصوں پر بھی سخت کانٹے ہوتے ہیں اور یہ مچھلی دیگر مچھلیوں کو اپنا شکار بناتے ہوئے انہیں زخمی کر دیتی ہے۔ ماہرین سمکیات کے بموجب سیلفین کیاٹ فش جس کسی دریا میں پائی جاتی ہیں وہاں آبی مخلوق کو شدید نقصان پہنچاتی ہے جس سے دریا میں بدبو و تعفن پھیلنے لگتا ہے۔ محکمہ سمکیات کے بموجب اس مچھلی کے خاتمہ کا کوئی سائنسی طریقۂ کار موجود نہیں ہے اور اسکا شکار کرتے ہوئے ہی اس کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ بعض مچھیروں نے دعوی کیا ہے کہ ان میں سے جن لوگوں نے سیلفین کیاٹ فش کا شکار کرنے کی کوشش کی ہے انہیں بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس مچھلی نے نہ صرف شکار کے اوزار کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ چند مچھیروں کو زخمی بھی کردیا ہے۔ محکمہ سمکیات کے عہدیداروں کے بموجب یہ مچھلی خطرناک ضرور ہے لیکن اس کا خطرہ زیادہ آبی مخلوق کو ہے۔ آئندہ چند ماہ کے دوران اس مچھلی کے خطرات برقرار رہ سکتے ہیں لیکن محکمہ کے عہدیداروں کا کہنا ہیکہ پشکرم میں ڈبکی کی غرض سے آنے والوں کو اس مچھلی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT