Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دستخطی مہم میں ادارہ ’سیاست‘ بھی سرگرم ‘عوام سے کثیر تعداد میں حصہ لینے کی اپیل

دستخطی مہم میں ادارہ ’سیاست‘ بھی سرگرم ‘عوام سے کثیر تعداد میں حصہ لینے کی اپیل

مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف دین اور دستور کے عین مطابق : زاہد علی خاں
طلاق ثلاثہ پر حکومت کا حلف نامہ اور سوالنامہ مستقبل کیلئے خطرناک ‘دستبرداری کیلئے دباؤ ڈالنا ضروری
حیدرآباد۔ 17اکٹوبر(سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سوال نامہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موقف دین اور دستور ہند کے عین مطابق ہے ۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹرروزنامہ سیاست نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ اورتعدد ازواج جیسے مسائل کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمان اس ملک کے دستور کا احترام کرتا ہے کیونکہ دستور ہند نے انہیں اپنے مذہب کے قوانین کے مطابق عمل کرنے اور زندگی گذارنے کا مکمل اختیار دیا ہے۔ شریعت محمدی ﷺ میں ترمیم یا ایک حرف کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے طلاق ثلاثہ پر اٹھائے جانے والے سوالات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ یا ایک نشست میں طلاق دیئے جانے پر طلاق کا واقع ہونا یا نہ ہونا یہ ایک فقہی مسئلہ ہے اور اس پر علماء کرام کی رائے موجود ہیں اسی طرح قرآن و سنت کی روشنی میں ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے لیکن ان فقہی مسائل میں حکومت کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ حکومت اور کابینی وزراء کی جانب سے بار بار یہ کہا جانا کہ ذمہ دار مسلم تنظیمیں اور قائدین مشاورت کے عمل کا حصہ بنیں اور اپنے شبہات یا موقف کو پیش کریں اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ حکومت کی نیت یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے راہ ہموار کرنا ہے اسی لئے لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کا جواب دینا یا مشاورتی عمل کا حصہ بننا مستقبل میں خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ طلاق ثلاثہ یا ایک وقت میں طلاق معاشرے میں تیزی سے پھیل رہا عمل ہے جسے خود ہمیںروکنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیئے ۔یہ کام امت مسلمہ کے ذمہ داروں کا ہے کہ وہ امت میں صبر اور اتباع سنت کے رجحان میں اضافہ کیلئے عملی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے بتایا کہ طلاق ایک ایساعمل ہے جس کا صرف ایک خاتون پرنہیں بلکہ کئی زندگیوں پر منفی اثر پڑتا ہے۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ سے ملک بھر کے مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اس بے اطمینانی کے خاتمہ کیلئے حکومت پر سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ سے دستبرداری اور لاء کمیشن آف انڈیا پر جاری کردہ سوالنامہ سے دستبرداری کیلئے عوامی دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔ ایڈیٹر سیاست نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم میں حصہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو مستردکریں۔ ( مسلم پرسنل لاء بورڈ  کی دستخطی مہم کا نمونہ صفحہ 2پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے )  ۔

TOPPOPULARRECENT