Wednesday , November 22 2017
Home / ہندوستان / دستوری ترمیم کیلئے الیکشن کمیشن کا حکومت سے مطالبہ

دستوری ترمیم کیلئے الیکشن کمیشن کا حکومت سے مطالبہ

رائے دہی سے 48 گھنٹے قبل پرنٹ میڈیا میں اشتہارات پر امتناع کی تجویز
نئی دہلی ۔ 8 اگست (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے حکومت پر زور دیا ہیکہ انتخابی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے رائے دہی سے 48 گھنٹے قبل اخبارات میں سیاسی اشتہارات پر امتناع عائد کرے۔ الیکٹرانک میڈیا کے سلسلہ میں پہلے سے یہ پابندی برقرار ہے۔ یہ تجویز اس پس منظر میں پیش کی  جارہی ہیکہ انتخابی پینل کو اکٹوبر ۔ نومبر 2015ء کے بہار اسمبلی انتخابات میں اپنے دستوری اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے انفرادی بنیادوں پر اخبارات میں اشتہارات پر امتناع عائد کرنا پڑا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی اور ساتھی کمشنرس اے کے جیوتی اور او پی راوت نے ماہ مئی میں وزارت قانون کے لیجسلیٹیو ڈپارٹمنٹ کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں کہا تھا کہ پرنٹ میڈیا کو بھی عوامی نمائندگان ایکٹ کی دفعہ 126 کے تحت شامل کیا جانا چاہئے تاکہ رائے دہی کے دن سے 48 گھنٹے قبل ہی مہم اور سیاسی اشتہارات پر پابندی عائد کی جائے۔ اس وقت الیکٹرانک میڈیا بشمول ٹی وی، ریڈیو اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر سیاسی اشتہارات پر امتناع ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن نے دفعہ 324 کے تحت دستوری اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریاست کے مختلف اضلاع میں اخبارات میں سیاسی اشتہارات پر امتناع عائد کیاتھا۔ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ یہ اشتہارات تخریبی نوعیت کے تھے۔ اس تجویز کو سب سے پہلے اپریل 2012ء میں کمیشن نے پیش کیا تھا اور اسے لا کمیشن کی تائید بھی حاصل تھی۔ بہار میں اشتہارات پر امتناع کے بعد الیکشن کمیشن نے آسام اور مغربی بنگال میں اپریل میں منعقدہ اسمبلی انتخابات کے ہر مرحلہ سے قبل اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ اخبارات میں ایسے اشتہارات شائع نہ ہوں جن کی میڈیا سرٹیفکیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی نے توثیق نہ کی ہو۔ الیکشن کمیشن نے گذشتہ اکٹوبر میں بہار اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کی جانب سے شائع ہونے والے دو متنازعہ اشتہارات کی اشاعت پر امتناع عائدکیا تھا۔ ایک اشتہار میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور جنتادل (یو) لیڈر نتیش کمار کو دلتوں کی پلیٹ چھینتے دکھایا گیا تھا۔ یہ دراصل دلتوں اور ای بی سی کیلئے مختص کوٹہ اقلیتوں کو منتقل کرنے کی تجویز کی طرف اشارہ تھا۔ ایک اور اشتہار ’’ووٹ کی کھیتی‘‘ یا ’’ووٹ بینک سیاست‘‘ سے متعلق تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ بعض پارٹیاں محض ووٹ کی خاطر مخصوص طبقہ کی خوشامد کیلئے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کررہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT