Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / دستور کی روشنی میں مرکز۔ریاست تنازعات کی یکسوئی ممکن

دستور کی روشنی میں مرکز۔ریاست تنازعات کی یکسوئی ممکن

ہندوستان میں دور قدیم سے ہی وفاقی نظام مروج، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا خطاب
نئی دہلی ۔ 20 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر دستور کی تشریح اور طمانیت ہی کافی ہے جو کہ باہمی اختلافات کی صورت میں یکسوئی کیلئے وسیع تر گنجائش  اور رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ وفاق امداد باہمی ، قومی امکانات اور بین الاقوامی تجربہ کے زیر عنوان ایک کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے مسٹر راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دستور نے ہمیں باہمی انحصار کا خودکار نظام فراہم کیا ہے جس کے ذریعہ مرکز اور ریاستیں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مشترکہ طور پر کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز۔ریاست یا بین ریاستی مسائل اور کوئی دیگر تنازعات ہوں۔ مختلف طریقہ کار بشمول سرکاری ایجنسیوں انٹر اسٹیٹ کونسل ، زونل کونسل نیشنل ڈیولپمنٹ کونسل NITI ایوگ، گورنرس کانفرنس اور چیف منسٹرس کانفرنس میں حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ تمام طریقہ کار حکومت کے نظام (مشنری) کا حصہ ہیں اور وفاقی ڈھانچہ میں خوش اسلوبی کے ساتھ کام کرنے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاریہ کمیشن اور قومی کمیشن برائے نظرثانی دستور (NCRWC) نے مرکز اور ریاستوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہندوستایک متنوع سماج ہے، جہاں پر تکثریت پائی جاتی ہے اور باہمی اتحاد و یکجہتی کے جذبہ سے وفاقی نظام کامیابی کے ساتھ چلایا جاتا ہے۔ ہندوستان کیلئے وفاقیت کوئی نیا  نہیں ہے۔ گوکہ یہ ایک تبدیل شدہ نظام ہے لیکن زمانہ قدیم میں سلاطین اور راجاؤں یہ نظام قائم کیا تھا تاکہ اپنے اقتدار کو توسیع دی جاسکے ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کوآپریٹیو فیڈرل ازم کے جذبہ کو تقویت پہنچانے کیلئے مرکزی حکومت نے ایک اہم پالیسی مدون کرنے کیلئے پہل کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT